”دانائی کی تلاش میں“ پر ایک غیر دانا تبصرہ


٭سگمنڈ فرائڈ نے 1900 میں اپنی معرکتہ الآرا کتاب Interpretation of Dreams لکھی جسے تحلیلِ نفسی کے طلبا اور اساتذہ آج بھی تورات کی طرح ایک مقدس کتاب سمجھتے ہیں۔ (صفحہ 83)
٭ژاں پال سارتر وجودیت کے فلسفے کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں 1964 میں ادب کا نوبل انعام ملا تو انہوں نے انعام لینے سے انکار کر دیا۔ (صفحہ 88)
٭بی بی سی کے ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے کوفی عنان سے پوچھا ۔” کوفی عنان! کیا امریکہ کا عراق پر حملہ غیر قانونی تھا؟ ” کوفی عنان نے جواب دیا "ہاں”۔ ایک سچ لفظ "ہاں” کہنے کی وجہ سے وہ دوبارہ اقوامِ متحدّہ کی سیکرٹی جنرل نہیں بن سکے ۔ (صفحہ 94، 95)
٭بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمد یونس نے دیہاتی سطح پر گرامین بینک Grameen Bank بنانے شروع کئے اور عورتوں کے لئے چھوٹے چھوٹے قرضوں کا اجرا کیا۔ 2006 میں ان کے نوبل انعام حاصل کرنے تک تہتّر ہزار دیہاتوں سے ستّر لاکھ عورتوں نے قرضے حاصل کر کے بینک سے استفادہ کیا تھا۔ (صفحہ 97)
٭مارٹن لوتھر کنگ جونئیر اور ان کے ساتھی اپنے آدرش کےلئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیّار تھے لیکن دوسروں کی جانیں لینے کے لئے نہیں ۔ (صفحہ 99)
٭نیلسن منڈیلا نے 1993 میں اپنے نوبل انعام کی تقریر میں فلسفہِ امن پر روشنی ڈالی۔ منڈیلا نے کہا "ہم چاہتے ہیں کہ یہ دنیا غربت اور جہالت سے پاک اور جنگوں کے خوف سے آزاد ہو۔ ہمیں اس ڈر سے نجات ملے کہ لاکھوں لوگوں کو مجبوراً مہاجر بننا پڑے گا۔” (صفحہ 100)

ایک یہ سوال میرے ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ دنیا میں سیکڑوں نامور مفکّرین آ چکے ہیں تو مصنف نے کن بنیادوں پر ان چالیس مفکرین کا انتخاب کیا ہے ۔ شہرت کی بنیاد پر، یا ان کے کام کی بنیاد پر یا محض اپنی پسند کی بنیاد پر؟ ان میں سے بہت سارے ایسے مفکّرین ہیں جن کے کام اور نظریات کو ساری دنیا سراہتی ہے مثلاً کنفیوشس، سدھارتا (بدّھا) ، سقراط۔ لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا پیمانہ یا طریقہ کارموجود نہیں ہے جو ہمیں بتا سکے کہ کون سے چالیس مفکّر دوسروں سے بہتر ہیں اس لئے اس بحث میں الجھنا بیکار ہے۔ پھر بھی ان فلسفیوں کے انتخاب کے بارے میں مصنف نے ضرور کوئی طریقہ سوچا ہوگا۔ میں یہاں اپنی رائے دینا چاہتا ہوں
٭اس کتاب میں البرٹ آینسٹائن کا تذکرہ ضرور ہے ۔ ان کی سوانح عمری اور ان کے کام کو اس کتاب میں واضح جگہ دینی چاہئے تھی۔ ان کا اپنے بارے میں کہنا تھا کہ وہ فلسفی زیادہ ہیں اور ماہر طبیعات کم۔
٭جلال الدّین رومی کو نہیں منتخب کیا گیا شاید اس لئے کہ ان کو صوفیانہ شاعری کی نسبت سے زیادہ پہچانا جاتا ہے اور فلسفی کی حیثیت سے کم۔
٭ابوالولید ابنِ رشد کو زیادہ اہمیت ملنی چاہئے تھی۔ ارسطوکی کتابوں پر ابن الرشد کی گئی شرحیں جب یورپ پہنچیں تو کیتھولک چرچ میں ہلچل مچ گئی۔ سنہ 1215 میں جب پوپ نے ان کتابوں پر پابندی لگا دی تو یہ کتابیں تعلیم یافتہ طبقے میں بہت مقبول ہوئیں۔ چرچ نے اس کتابوں کے پڑھنے والوں کو بہت سخت سزائیں دیں۔ پیرس میں پروفیسر سیگل کو ان کتابوں کا پرچار کرنے پر موت کی سزا دی گئی۔ ابن الرشد کی تعلیمات کا یورپ میں چرچ کی آمریت کو کمزور کرنے میں اہم کردار ہے
٭برٹرنڈ رسل ایک بڑے فلسفی، ریاضی دان ، تاریخ دان اور سیاسی کارکن تھے۔ ان کی خود لکھی ہوئی سوانح عمری کا افتتاحیہ What I have lived for ایک انتہائی قابل تعریف تحریر ہے۔ ان کی سوانح عمری کو اس کتاب میں شامل نہیں کیا گیا۔
٭الخوارزمی ایک انتہائی ذہین ریاضی دان، ماہرِ فلکیات اور جغرافیہ دان تھے۔ وہ الجبرا کے موجد مانے جاتے ہیں۔ آج کل مشینی ذہانت Artificial Intelligence کے لئےالگوردم (کسی سائنسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے تفصیلات) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو ان کے لاطینی نام الگوردمی Algorithmi سے اخذ کیا گیا ہے۔ الخوارزمی کا بھی اس کتاب میں تذکرہ نہیں ہے۔
٭ان مفکّروں کی فہرست میں ابن تیمیہ اور کوفی عنان کا نام دیکھ کر مجھےحیرانی ہوئی۔ لیکن اس کی وجہ میری لاعلمی تھی۔ ابن تيميہ کا کام اور فکر زیادہ تر مذہب تک ہی محدود تھی لیکن ا ن کے اثرات آج شدّت سے مسلمانوں پر غالب ہیں۔

مجھے امید ہے ” دانائی کی تلاش میں” پڑھ کر میری طرح دوسرے لوگوں کے علم میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔ مجھے یہاں یہ بھی کہنا چاہئے کہ اس کتاب کے مطالعے کے دوران مجھے کئی مفکّرین اور دانشوروں کے بارے میں اپنی لا علمی کا شدید احساس ہوا۔

آخر میں خالد سہیل کو ان کی اس کامیاب کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں گے تا کہ مجھ جیسے لوگ ان کی تحریروں سے مستفید ہو سکیں۔

نوٹ: میں اس مضمون کی اصلاح کے لئے مسلم حسنی (ٹورونٹو) کا شکر گزار ہوں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3