لکھاری یا روگی بنانے والے گھناؤنے کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں لفظوں میں زندہ رہتی ہوں، لفظ پہننا اور اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ یہ جو اخبار ہیں نہ، یہ میرے ہر درد کی دوا ہیں، سر کے نیچے رکھتی ہوں توسردرد ختم ہو جاتی، کمر کے نیچے رکھ لوں تو سکون ملتا ہے۔ انہیں نہیں پتہ کہ یہ لفظ میرے لیے کیا ہے۔ روبینہ پروین شکوہ کناں نظروں سے فرح ہاشمی، ڈاکٹر ثمینہ اور میری طرف دیکھ کر کہہ رہی تھی۔ وہ بول رہی تھی اور میری آنکھیں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔

وہ چوبرجی چوک میں ایک جھگی میں رہنے لگی تھی، ذہنی توازن بگڑ گیا تھا۔ کوئی کب تک سہہ سکتا ہے، آخر تھک جاتا ہے۔ وہ بھی تھک گئی مسلسل ظلم سہہ سہہ کر۔ نکل آئی گھر کی چاردیواری سے ننگے سر اور برہنہ پا۔ کسی نے موسم کی شدت سے بچانے کے لیے جہاں سوئی ہوئی تھی، وہاں چادر ٹانک دی، جو دیکھتے دیکھتے جھگی بن گئی۔ اردگرد دکاندار اچھے تھے۔ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے لگے، بیمارہوتی تو دوا لا دیتے، یوں وہ اس جگہ کا حصہ بن گئی۔ وہ کون تھی، کہاں سے آئی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔

پنجاب کی جیلوں میں قید بچوں کی فلاح و بہبود میں مصروف، سینئرصحافی، لکھاری اور رہائی کی چیئرپرسن فرح ہاشمی اور ان کے شوہر عدیل نیاز شیخ کو وہ نظر آئی اور وہ خاموشی سے اس کا خیال رکھنے لگے۔ مگر وہ دونوں میاں بیوی اس سے زیادہ کرنا چاہتے تھے۔ جس کے لیے انہوں نے سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں تحریک شروع کی۔ جس کے بعد اس بہتی گنگا میں سب نے ہاتھ دھونے کی کوشش کی، علیم خان تک بات پہنچی تو اسے چوبرجی کی جھگی سے اٹھا کر پہلے فاونٹین ہاؤس اور پھر شادمان لاہور کے مشہور ذہنی امراض کے ادارے میں پہنچا دیا گیا۔

فرح آپی کو جب پتہ چلا تو وہ ملنے گئیں مگر شام ہو رہی تھی، انہیں ملنے نہیں دیا گیا، ایک دو دن بعد انہوں نے مجھ سے بات کی اور مجھے لیتی ہوئی اس سے ملنے پہنچیں۔ اس عمارت میں داخل ہوئی تومجھے وہاں کے چپے چپے پر یاسیت، اداسی محسوس ہوئی۔ وہاں کھلے ہوئے پھول اور بڑے بڑے درخت ماتم کرتے دکھائی دیے۔ مجھے وحشت ہونے لگی، میں پہلے ہی ڈسٹرب تھی مگر شاید یہ سب مجھے دیکھنا تھا، اور اس ماحول کومحسوس کرنا تھا۔

لکھنا خداداد صلاحیت ہے جو مسلسل لکھنے، بحث مباحثوں میں حصہ لینے اور مطالعہ سے نکھرتی ہے، کوئی کسی کو لکھاری نہیں بنا سکتا۔ حتیٰ کہ صحافت کی تعلیم دینے والی یونیورسٹیاں بھی آپ میں وہ صلاحیتیں پیدا نہیں کر سکتیں جو قدرتی صلاحیتوں کے حامل افراد میں موجود ہوتیں ہیں۔ ہاں یہاں سے صحافی تو بنا جا سکتا ہے مگر لکھاری نہیں۔ اس و قت بہت غصہ آتا ہے جب فیس بک۔ کے فلٹرمیسج بکس میں مجھے یہ میسج ملتے ہیں کہ ”میم مجھے لکھنا سکھا دیں، مجھے افسانے اور کالم لکھنے کا شوق ہے“۔

سمجھ نہیں آتا کہ میں انہیں کیا جواب دوں، کیونکہ میں نے کسی سے لکھنا نہیں سیکھا۔ یہ کوئی دوہزار پانچ کا دور تھا، روز نامہ انصاف میں آنے والی ایک خبر جو شاید سی ایس ایس کے نتائج بارے تھی پر میں نے اظہار خیال کیا اور ایڈیٹر کی ڈاک میں بھیج دیا۔ میرا وہ خط نہ صرف چھپ گیا بلکہ تین چار دن بعد مجھے کال بھی آئی، تعارف ہوا، علاقے کا نام آیا تو جنگ کے کالم نگار سعید اظہر کا بھی حوالہ سامنے آیا، جو ہمارے پرانے ہمسائے اور انکل تھے۔ ہمارے بچپن میں ہمسائے، مامے چاچے، تایے، پھپھیاں اور خالائیں ہوا کرتی تھیں۔ یہی تعلق انکل سعید سے تھا اور آج تک ہے۔

سیف اللہ خالد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سراہا اور لکھنے کی طرف راغب کیا، یوں دو ہزار پانچ میں میرا لکھنے کا سفر شروع ہوا۔ کالم، فیچراور آرٹیکل لکھ کر پوسٹ کر دیتی اور یوں شائع ہو جاتا۔ میرے سب سے بڑے قاری اور ناقد ابو تھے، اس لیے لکھنے کا سفر آگے بڑھتا رہا۔ سیف اللہ خالد صاحب کے بعد مخدوم اطہر اور رضا بھائی نے بہت ہمت بندھائی، ملیحہ ہاشمی سے ملیحہ سید بنانے کا سہرا بھی مخدوم اطہر کے سر جاتا ہے۔ مگر اس میں میری محنت شامل تھی، پھر دوہزار سات میں ابو کے انتقال تک خوب لکھا۔ تعلیم یافتہ ہونے اور پڑھے لکھے لوگوں کا ساتھ ہونے سے استحصال کم ہو جاتا ہے۔ میرا یہ سفر کسی استحصال کے بغیر آگے بڑھا، جو لکھا، جیسا لکھا شائع ہوا۔

دوہزار تیرہ سے لکھنے کا رکا ہوا سفر پھر سے شروع ہوا، روز نامہ جناح سے لے کر روزنامہ خبریں اور نئی بات اور اب ہم سب ڈاٹ کام پر لکھ رہی۔ جس میں اللہ کا کرم اور محنت شامل ہے، مگر اس وقت افسوس ہوتا ہے جب روبینہ جیسے کردار سامنے آ جاتے ہیں۔ پھر کہانی سے کہانی ملتی ہے، میری خود ایسی کئی خواتین لکھاریوں سے ملاقات ہوئی ہے جنہیں باقاعدہ متعارف کرایا گیا اور یقین کریں انہیں لکھنا نہیں آتا۔ ارے بھائی صحافت اورلکھنا کوئی دال چاول بنانا نہیں ہے کہ ہر بندی لکھنے میں آ جائے اور تین چار کالم لکھ کر کشور ناہید اور نور الہدی شاہ بننے کا دعوی کرے۔

یہ ایک جہد مسلسل ہے، جس پر چلنا آسان نہیں اور یہ جو صحافی، لکھاری، شاعر، ادیب بنانے والے کردار ہیں نہ، یہ وہ گدھ ہیں جوزندہ انسانوں کے لالچ کے گوشت پر کھڑے ہیں۔ بدقسمتی کہہ لیں یہ ہمارے ہر ادارے اخبار اور چینل میں مل جاتے ہیں اور اس سے بڑی بدقسمتی کہ انہیں شکار مل بھی جاتے ہیں۔ جو راتوں رات صحافت اور ادب کے آسمان پر چمکتے نظر آتے ہیں، یہ اور بات کہ ان کی مدت بہت کم ہے۔ اور پھران کم تعلیم یافتہ چاندچہروں کے مقدر میں اماؤس کی ایک طویل رات ٹھہر جاتی ہے، جس کا الزام یہ ہر کسی کودیتی ہیں۔ مگر یہ نہیں بتاتی کہ اس راستے پر چلنے میں ان کی اپنی مرضی بھی شامل تھی کہ شہرت کی ہوس میں انہوں نے دوسروں کی ہوس مٹائی۔

شہرت کسے اچھی نہیں لگتی مگر اس کے لیے اپنی عزت اور وقار کو داؤ پر لگانا کہاں لکھاہے، آپ کوئی اور کام بھی کر سکتے ہیں کیا اس کے لیے صحافی، شاعر اور ادیب ہی بننا ضروری کیا ہے؟ ایسی خواتین سے حقیقی لکھاری خواتین ہمیشہ پیچھے رہتی ہیں مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے، جبکہ یہ جیسے ابھرتی ہیں، ویسے ہی ڈوب بھی جاتی ہیں۔ تاہم ان کو اس مقام تک لے کر آنے والوں کی سرکوبی بھی بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ہماری صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں کو خاص طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہی عناصر کی وجہ سے آج صحافی، صحافت اور کالم نگار اپنی وقعت کھو رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں