پرائمری کا استاد
گورنمنٹ پرائمری سکول کے اساتذہ جو نہایت ایماندار اور پرخلوص شخصیات کے مالک ہونے کے باوجود ایک طرف قوم کے بچے سنبھالتے ہیں تو دوسری جانب ان کو تنقیص کی بجائے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ استاد معاشرے میں ایک الگ مقام رکھتا ہے استاد کا صبر، بچوں کی شرارتیں برداشت کرنا اور رحم دلی کا مظاہرہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔
راقم پرائمری سکول کے اساتذہ کے ساتھ زیادہ نہیں پر تھوڑا عرصہ گزار چکا ہے، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں جتنا محنت وہ کرتے ہیں شاید کسی پرائیویٹ سکول میں اتنا کام ہوتا ہو لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں اور ایسے ملک کا بیڑا غرق ہی ہوتا ہے جس میں بنیادی حقوق یکساں نہ ہوں۔ ان اساتذہ کرام پر اللہ رب العزت نے خصوصی فضل و کرم فرمایا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اللہ تعالی نے اِن کے دل او دماغ عام انسانوں سے کافی مختلف بنا کر انتہائی صبر و تحمل سے کام لینے والا پیدا فرمایا ہے۔
بالعموم دنیا اور بالخصوص پاکستان میں پرائمری ٹیچرز کو اللہ رب العزت خاص صلاحیتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے ایک ماڈل بھی بنا کر بھیجتے ہیں راقم سوچنے پر مجبور ہوتا ہے اور حیرانی کی انتہا نہیں رہتی جب ان ٹیچرز حضرات کو دیکھتا ہے!
ایک تو بنیادی وسائل نہیں اوپر سے فی کلاس میں 120۔ 130 بچے ہوں گے اور یہ رستم ٹیچر ان بچوں کو خاموش کرا کر ان کو پڑھا کے اُنکو ہوم ورک بھی دیتا ہے۔ ایک عام شخص صرف 120 بچوں کو خاموش کرا کر دکھائے، عام لوگوں کے بس کی بات نہیں کیونکہ تمام ٹیچرز بہت محنتی ہوتے ہیں لیکن پرائمری ٹیچرز کچھ زیادہ ہی اچھے ہوتے ہیں لا تعداد بچوں کی تربیت اور ان کو اچھے اور برے کی تمیز سیکھاتے ہیں۔
اس حیرت انگیز اور قابل تعریف محنت کے باوجود بھی استاد کی وہ عزت نہیں رہی جو پہلے پہل تھی۔ ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ لوگ تھوڑا بہت ایڈوانس ہونے لگے ہیں کیونکہ ماضی میں ایسا نہ تھا جب کوئی استاد ہوتا گاؤں کے خان، ملک سے لے کر عام آدمی تک ہر کوئی استاد کو وہ عزت دیتا جو آج کل ایک وزیر اعظم کو دی جاتی ہے ایک زمانے میں استاد کے لئے پلکیں بچھا دیتے تھے۔
یہ بات الگ ہے کہ اچھے لوگوں میں برے لوگ بھی ہوتے ہیں اور جو امانت میں خیانت کرتے ہیں جن کے سپرد جو کام حوالے ہے اچھی طرح نہیں کرتے تو ان کا پوچھنے والا اوپر عرش معلی پہ ہے پر سب ایک جیسے نہیں ہوسکتے نہ ہوتے ہیں۔
مشہور دانشور اشفاق احمد نے ایک بار اپنے مقبول ٹی وی پروگرام ’زاویہ‘ میں کچھ یوں بتایا: جب میں اٹلی کے شہر روم میں مقیم تھا تو ایک بار اپنا جرمانہ بروقت ادا نہ کرنے پر مجھے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ جب جج نے مجھ سے پوچھا کہ جرمانے کی ادائیگی میں تاخیر کیوں ہوئی تو میں نے کہا کہ میں ایک ٹیچر ہوں اور کچھ دنوں سے مصروف تھا اس لئے جرمانہ ادا نہیں کر پایا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا جملہ مکمل کرتا، جج اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور بآواز بلند کہنے لگا ”عدالت میں ایک استاد تشریف لائے ہیں! “ یہ سنتے ہی عدالت میں موجود سب لوگ کھڑے ہو گئے۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ اس قوم کی ترقی کا راز کیا ہے۔
استاد کو عزت دینا سیکھ جائیں گے تو ہی ہم کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ سکیں گے ورنہ دھوبی کے کتے کی طرح ہوں گے اس وجہ سے استاد کا ادب کرنا چاہیے۔


