عالمی یوم انسانی حقوق، اقوام عالم وجنت ارضی کی مظلوم انسانیت
امریکی کانگریس کے رکن سے ایک نجی گفتگو جو ریکارڈ کی گئی یا ہو گئی میں ساؤتھ ایشیاء کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ آپ نا انصافی کا ساتھ دیتے اور بیرونی دنیا میں اس پالیسی کو کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں؟ کانگریسی ممبر نے کھلے بندوں اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم دنیا میں معاملات کو انصاف کی بجائے سیاسی طور پر دیکھنے اور اپنے مفادات کے تناظر میں جانچتے ہیں۔ بھارت جیسے بڑے ملک اور اس کی اقتصادی پوزیشن کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیوں کہ بھارت خطہ کی ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اس کے مقابلے میں ہم کشمیریوں کے لیے انصاف کی بات نہیں کر سکتے۔ امریکی کانگریسی رکن کا بیان واضح الفاظ میں عالمی اداروں، طاقتوں، ممالک اور پالیسیاں بنانے والوں کی سوچ کی عکاسی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1948 میں ایک یونیورسل ڈیکلریشن منظور کیا جس کے مطابق ہر سال 10 دسمبر کو ”عالمی یوم انسانی حقوق“ منانے کا اعلان کیا گیا۔ آ ج دنیا بھر میں یوم انسانی حقوق منایا جا رہا ہے۔ دنیا کے بڑے فورمز، عالمی طاقتیں آج کا دن جوش و جذبے سے منائیں گے۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیں، این جی اوزمتحرک ہوں گی، ریلیاں، سیمینار، واک، لیکچرز کا انعقاد، ضرورت کے مطابق پریس بریفنگ بھی ہو گی اور دنیا بھر میں سال بھراِسی متذکرہ نا انصافی، سیاسی تعلقات اور اقتصادی مفاد کی بھینٹ چڑھنے والوں کے اعداد و شمار بیان کر کے پھر اگلے سال کا آغاز کیاجائے گا۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت دیگر ممالک اِن اَیام کو منانے اور پیغام کو عام کرنے کے لیے اقوام متحدہ، یو ایس ایڈ، ورلڈ بنک، یورپی یونین اورکئی ممالک کی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز، سوسائٹیز اور تنظیموں کودنیا بھر میں متحرک کرتے ہیں۔ اِن این جی اوز پر دنیا کے بڑے فورمزکا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے پھر دنیا بھر میں ان کی پالیسیوں کو کمزور ممالک اپنانے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ امریکی کانگریسی رکن کی گفتگو کے مطابق اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بڑے ممالک کیسے دوہری پالیسی اپناتے ہیں اور دنیا میں اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے عالمی قوانین و چارٹرڈ کی دھجیاں کیسے بکھیرتے ہیں۔
سال بھر انسانی حقوق کے عالمی دن جیسے کئی عالمی ایام منائے جاتے ہیں اور این جی اوز کو متحرک کر کے دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ ہم انسانی حقوق، مساوات پر یقین اور انصاف کے داعی ہیں۔ اپنے اس بیانیہ کو پھیلانے کے کے لیے وہ انہی عالمی اداروں کی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز کے ذریعے دنیا بھر میں مہم جوئی کر تے ہیں۔ دوسری جانب اس کے برعکس پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے جسے کانگریسی رکن نے سیاسی و اقتصادی تعلقات پر مبنی پالیسی کا نام دیا ہے ْ اس پالیسی کے تحت دنیا میں اپنے مفادات کی خاطر کہیں بھی انسانی حقوق، ریاستوں کی آزادی و ترقی کو سلب کیا جا سکتا ہے اور اس آڑ میں نئے نئے بیانیے ترتیب دیے جاتے ہیں جنہیں دنیا میں پھر اِنہی این جی اوز، تنظیموں کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔
حتیٰ کہ اقوام متحدہ اور دیگر فورمزکی طاقت تو برائے نام ہے اصل طاقت اِنہی بڑے ممالک کی اپنے مفاد میں بنائی گئی پالیسیوں میں ہوتی ہے وہ چاہیے اقوام متحدہ کے قوانین سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں انہیں کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ اقوام متحدہ کے کل بجٹ کا 22 فیصد امریکہ ادائیگی کرتا ہے اور دوسرے نمبر پر جاپان، تیسرا چین پھر جرمنی برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک ہیں یہی وجہ ہے کہ قوام متحدہ جیسے بڑے ادارے کی پالیسیاں، اختیارات بھی انہی ممالک کے زیر سایہ ہیں۔ زبانی جمع خرچ اور قراردادوں کے ڈھیر لگائے جا چکے ہیں لیکن دنیا بھر کے انسانوں کا کھربوں ڈالر کا سالانہ بجٹ کھانے کے باوجود 70 برسوں میں کہیں بھی اقوام متحدہ ان ممالک کی مرضی کے مغائر انصاف، انسانیت و مساوات پر مبنی قدم نہ اٹھاسکی جسے بطور مثال پیش کیا جائے۔
مقدمہ کشمیر گذشتہ 70 برسوں سے اقوام متحدہ میں زیر کار ہے اور اقوام متحدہ نے یک بعد دیگرے قراردادوں کی منظوری کے ذریعے اہل کشمیر کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ بھی کیا لیکن یہ 70 برس جنت ارضی کے باسیوں نے اسی انتظار میں گزار دیے کہ اقوام عالم اپنے قوانین، دعووں، وعدوں کے مطابق ہم سے انصاف اور انسانی حقوق کا وعدہ ایفا کریں گے۔ 70 برسوں میں اقوام متحدہ اور عالمی فورمز نے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کیے رکھا اور بقول کانگریسی رکن کشمیریوں سے انصاف کی بجائے بھارت کو سیاسی، اقتصادی تعلقات کے عوض اہل کشمیر کی زندگیوں کو اجیرن کر نے، جبری تسلط کو دوام بخشنے کی کھلی چھٹی دیے رکھی۔ عالمی اداروں اور اقوام عالم کے انصاف کے وعدوں کو دیکھتے دیکھتے اہل کشمیر کی تیسری نسل بھارتی ظلم و قہر کا سامنا کر رہی ہے۔
70 برس میں کشمیری ظلم و بربریت کے ہر گام نئے دور سے گزرے، بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نت نئے تجربات کیے، امریکی، اسرائیلی آشیر باد سے بھارت نے آٹھ لاکھ فوج کے ساتھ کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ) افسپا (AFSPAاور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے PSA) جیسے غیر انسانی کالے قوانین کے تحت فورسز کو ہر وہ اختیار حاصل ہے جسے وہ استعمال کر تے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔
چاہیے کسی نے جرم کیا یا نہ کیا ہو اس کو اٹھا لیا جاتا ہے اور کشمیر سے باہر انڈین جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ گذشتہ نصف صدی بالخصوص 30 برس میں ہزاروں ماؤں سے لخت جگر، بہنوں سے بھائی، دلہنوں کے سہاگ اورمعصوم بچوں سے باپ کی شفقت چھین کر لاپتہ کیا گیا اورماورائے عدالت ان پر تشدد کر کے شہید کیا گیا۔ 2008 ء کے بعد دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کشمیر میں انگنت گمنام قبرستان سامنے آئے جن میں ہزاروں ماؤں کے جگر گوشوں کو تشدد کے بعد شہید کر کے دفنادیا گیا۔
1991 ء میں کنن پوش پورہ گاؤں کی خواتین سے اجتماعی زیادتی سے لے کر شوپیاں میں بھارتی فورسز کے درندوں کا نشانہ بننے والی خواتین اور پھر معصوم آصفہ تک کشمیر میں انسانی حقوق کا کوئی پہلو ایسا نہیں جسے پامال نہ کیا اور دنیائے انسانیت کی تذلیل کی تاریخ رقم نہ کی گئی ہو۔ جولائی 2016 ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اب تک مقبوضہ وادی عملاً جیل بن چکی ہے۔ پی ایچ ڈی اور ایم فل سکالرز بھی بھارتی فورسز کی بربریت سے محفوظ نہیں۔
سیاسی قیادت گرفتار و نظر بند ہے، پرُ امن مظاہرین پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممنوعہ ہتھیار پیلٹ گن کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے سینکڑوں نہیں ہزاروں کشمیری زخمی ہو چکے ہیں۔ بھارتی درندگی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ 18 ماہ کی معصوم ہمنہ بھی محفوظ نہ رہی ہے اور اسے پیلٹ گن سے زخمی کر دیا گیا۔ پی ایس اے اور افسپا کے تحت گرفتار ہونے والوں اور سیاسی قیادت کو رشتہ داروں، وکیل سے ملنے اور علاج کی اجازت نہیں۔ شدید بیمار حریت قائدین سید علی گیلانی، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر قاسم کو بہتر علاج کرانے کے لیے اجازت نہیں اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔
8جولائی 2016 ء کو کشمیر کی آزادی کے استعارے برہان مظفر وانی شہید کی شہادت کے بعد بھارتی فورسز نے کشمیریوں پر جو قہر برپا کیا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی بلکہ یوں کہا جائے تو شاید انصاف ہو کہ اس وقت دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں بھارتی فورسز ریاستی سرسپرستی میں کشمیر میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جولائی 2008 ء سے نومبر 2018 ء تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے توبھارتی فورسز نے 755 سے زائد کشمیریوں کوشہیدکیا۔
25 ہزار سے زائد شہری زخمی ہوئے، عقوبت خانوں جیلوں، تھانوں اور گھروں میں گھس کر تشدد کر کے جنہیں زخمی کیا گیا ان کی تعداد 24 ہزار سے زائد ہے۔ 8424 کشمیریوں کو پیلٹ گن سے زخمی کیا گیا جن میں سے 13 سو افراد کلی وجزوی طور پر بینائی سے محروم ہو گئے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد نوجوانوں اور بچوں کی ہے۔ گرفتار ہونے والوں کی تعداد 19 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں سے اکثریت پر کالے قوانین کے تحت بے بنیاد مقدمات بنا کر انہیں لاپتہ کر دیا گیا یا دور دراز انڈین عقوبت خانون یاجیلوں میں ہیں جن تک کسی رشتہ دار، وکیل، ڈاکٹر کی رسائی نہیں۔
ان دو برس میں 1 سو سے زائد جیلوں، عقوبت خانوں میں تشدد سے کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ 778 سے زائد خواتین بیوہ اور بے سہارا ہوئیں۔ 65 ہزار سے زائد گھروں، دوکانوں باغات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ 200 سے زائد بچے یتیم ہوئے۔ 903 سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی جن میں 8 سالہ معصوم آصفہ بھی شامل ہے۔ یہ سارا ظلم و ستم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی سرپرستی میں بھارتی فورسز روا رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی جانب سے کشمیریوں کو دیے گئے حق خود ارادیت کو سلب کرنے اور تحریک آزادی کودبانے کے لیے پے در پے ہر غیر انسانی حربہاور نئی چال اختیار کر چکا ہے لیکن اسے کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔
انسانی حقوق کا عالمی دن منانے والے اقوام عالم بالخصوص اقوام متحدہ سے انسانی حقوق سے محروم کشمیری پوچھتے ہیں کہ 70 برس سے دنیا میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہاہے جبکہ کشمیری بھی 70 برس سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے والا ملک اقوام متحدہ کا رکن ہے جبکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان امریکہ اور دیگر اس کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ایک جانب اقوام عالم کی دوہری پالیسی دوسری جانب اقوام متحدہ کے زیر اہتمام انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے یہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارے کی حیثیت پر سوالیہ نشان ہے۔
اگر اقوام عالم عالمی امن، خطہ میں استحکام اور ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں تو اقتصادی و سیاسی پالیسی کی بجائے حقیقی انسانی آزادی اور مساوات پر مبنی پالیسی اپناتے ہوئے دنیا بھر میں یکساں انسانی حقوق کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ دنیا بھر میں یکساں انسانی حقوق کی پالیسی رائج کی جائے اور 70 برس سے انسانی حقوق سے محروم کشمیریوں کا مسلمہ حق خواراد یت دیا جائے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکتے ہوئے بھارت کو عالمی قوانین اور چارٹر کا پابند بنایا جائے۔ دنیا سابقہ 70 برس سے انسانی حقوق اور دیگر ایام منانے کے باوجود امن اور انسانی حقوق کی متلاشی ہے اس کی وجہ عالمی اداروں اور بڑی طاقتوں کی مفادات پر مبنی دوہری پالیسیاں ہیں اگر یہ اسی طرح جاری رہیں تو پھر اگلے کئی 70 سال بھی امن کا قیام، یکساں انسانی حقوق کا نفاذایک خواب رہے گا۔


