’’ہندی بیلٹ‘‘ میں بی جے پی کی شکست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راجستھان،مدھیہ پردیس اور چھتیس گڑھ بھارت کے وہ صوبے ہیں جو ’’ہندی بیلٹ‘‘ کاحصہ ہیں۔ہندو انتہا پسندی نے کانگریس کی سیکولر سوچ کے خلاف RSSکے رضا کاروں کے ذریعے اس بیلٹ میں کئی دہائیوں کی محنت کے بعد اسے ’’کائو(Cow)بیلٹ‘‘ میں تبدیل کیا اور بالآخر نریندر مودی کو بھاری اکثریت کے ساتھ 2014میں بھارت کا وزیر اعظم منتخب کروالیا۔

منگل کے روز ان صوبوں کی اسمبلیوں کے لئے ہوئے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا ہے۔مودی کی جماعت ہار گئی۔ہمارے میڈیا کے ایک مؤثر حصے نے اس ہار کو مودی کی پاکستان اور مسلمان دشمنی کا نتیجہ ٹھہرایا اور اپنی سہولت کے لئے یہ فرض بھی کرلیا کہ چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات کے بعد شاید ان ہی وجوہات کی بنیاد پر وہ وزارت عظمیٰ سے بھی محروم ہوجائے گا۔میری ناقص رائے میں یہ سوچ خوش گمانی پر مبنی ہے۔

مودی کی جماعت کو حیران کن شکست کا فقط چھتیس گڑھ میں سامنا کرنا پڑا ہے۔ راجستھان میں اس کی ہار حیران کن نہیں کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس صوبے میں حکمران جماعت دوبارہ منتخب نہیں ہوئی۔ مدھیہ پردیش میں BJPالبتہ گزشتہ 15برسوں سے مسلسل برسراقتدار تھی۔

وہ جسے Incumbency Factorکہا جاتا ہے اس صوبے میں BJPکی شکست کا باعث ہوا۔اجتماعی ووٹوں میں سے اس کے حصے میں اس کے باوجود40فی صد ووٹ آئے جو اس کی حمایت میں ڈالے ووٹوں کے تناظر میں صرف تین فی صد کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بھارت کے جنوب میں واقع اور نسبتاََ نئے صوبے-تلنگانہ- میں BJPکی جیت کے امکانات ہی موجود نہیں تھے۔مقامی قوم پرستی کے جذبات کی نمائندہ TRCکی برتری اپنی جگہ برقرار رہی۔ ایسی ہی صورت حال ہمیں آسام اور میز ورام میں بھی دیکھنے کو ملی۔

کانگریس یا BJPکومرکز میں حکومت دلوانے کے لئے ہندی بولنے والے صوبے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ان صوبوں میں ہندو انتہا پسندی پر مبنی جذبات میں تبدیلی منگل کے نتائج کی بدولت دیکھنے کو نہیں ملی۔

تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اپنی سچی یا جھوٹی ’’سیکولرپہچان‘‘ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کانگریس کے رہ نما راہول گاندھی نے انتخابی مہم کے دوران خود کو بہت رعونت سے اونچی جات والا برہمن قرار دیا اور بارہا اصرار کرتا رہا کہ وہ مودی کے مقابلے میں جدی پشتی حوالوں سے کہیں زیادہ ’’بہتر ہندو‘‘ ہے۔اس کے وزیر اعظم منتخب ہونے کی صورت بھارت کے رویے میں پاکستان کے بارے میں تبدیلی کی امید رکھنا خام خیالی ہوگی۔

بھارت ہی کے کئی غیر جانبدار مبصرین بہت فکر مندی سے بلکہ اس خوف کا اظہار کررہے ہیں کہ راہول گاندھی بہت مکاری سے RSSاور BJPکی متعارف کروائی ہندو انتہا پسندی کے مقابلے میں ایک Soft Versionلوگوں کے روبرو لارہا ہے۔مسلمانوں اور نچلی ذات کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملاکر کٹر ہندو انتہا پسندی کو للکارنے سے اجتناب برت رہا ہے۔

نریندر مودی RSSکا پرچارک تھا۔ BJPمیں شامل ہوا تو گجرات کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اس کی حکومت نے اس صوبے میں مسلمانوں کا جینا دوبھرکردیا۔عام ہندوستانیوں کی اکثریت کو مگر یہ پیغام ملا کہ وہ ’’گڈگورننس‘‘ کی بھرپور علامت ہے اور بڑے سیٹھوں کو گجرات میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرتے ہوئے معاشی ترقی پر توجہ مبذول کئے ہوئے ہے۔

2014کے عام انتخابات میں مود ی کی حمایت میں ووٹ ڈالتے ہوئے بھارتی عوام کی اکثریت نے یہ امید باندھی کہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد وہ پورے ملک میں کرپشن کا خاتمہ کرنے والی گڈگورننس متعارف کروائے گا۔مقامی اور بین الاقوامی سیٹھ اس کی Pro-Businessشہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے کاروبار متعارف کروائیں گے۔ پورے ملک میں معاشی اعتبار سے رونق لگ جائے گی۔مودی ان کی توقعات کے مطابق عمل نہ کرپایا۔

کرپشن کے ذریعے کمائی اور ٹیکس والوں سے چھپائی دولت کو بے نقاب کرنے کے لئے اس نے ’’نوٹ بندی‘‘ کا اپنے تئیں ’’انقلابی قدم‘‘ اٹھایا۔پرانے نوٹ منسوخ کردینے کے بعد بھی لیکن ’’حکومت سے چھپائی‘‘ دولت منظر عام پر نہ آئی’’نو ٹ بندی‘‘ کے فیصلے نے اصل زد بلکہ چھوٹے دوکانداروں اور ٹھیکے داروں کو پہنچائی۔

روزانہ اُجرت پر کام کرنے والے کئی مزدور اس فیصلے کے بعد مہینوں تک بے روزگار رہے۔چھوٹے کاشتکاروں کو ان کی فصل کی بروقت قیمت ادا نہ ہوپائی اور بالآخر بھارتی سرکار کو نوٹ بندی کے بعد اتنی رقم بھی حاصل نہ ہوئی جو نئے نوٹ چھاپنے پر خرچ ہوئی تھی۔

نوٹ بندی کے علاوہ مودی سرکار نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے نام پر بازاروں میں مختلف اشیا کی خریداری پر GSTکا نظام بھی لاگوکردیا۔نوٹ بندی اور GSTوالے فیصلوں نے کئی چلتے کاروبار بھی بے تحاشہ مندی کا نشانہ بنادئیے۔

منگل کے روز ہندی بیلٹ سے صوبائی اسمبلیوں کے جو نتائج آئے ہیں وہ درحقیقت نوٹ بندی اور GSTکے خلاف احتجاج کا اظہار ہیں۔ پاکستان اور مسلمانوں کے بارے میں BJPکا رویہ اس کی شکست کا ہرگز باعث نہیں۔منگل کی رات سے بلکہ مجھے یہ فکر ستائے جارہی ہے کہ ہندی بیلٹ کے نتائج آنے کے بعد مودی ہندوانتہا پسندی کو پاکستان دشمنی کی کوئی نئی صورت فراہم کرنے کی کوشش میں استعمال کرے گا۔

راجستھان کے نتائج آنے کے بعد BJPکے کٹرحامیوں نے جو ٹویٹس کئے ہیں ان پر غور کرنا ضروری ہے۔انتہائی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ ہوا کہ ’’پیٹروڈالر‘‘ یعنی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے ’’فروغِ اسلام‘‘ کے لئے ہوئی فنڈنگ نے اس صوبے میں BJPکو شکست سے دو چار کیا۔

راجستھان کے انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی کئی اخبارات میں ’’ذرائع‘‘ کی بدولت بھارتی رینجرز کی جانب سے ہوئے ایک سروے کے نتائج منظر عام پر لائے گئے۔ اس سروے نے تاثر یہ پھیلانے کی کوشش کی کہ راجستھان کے بے تحاشہ قصبات اور دیہی علاقوں میں آبادی کا تناسب تبدیل ہورہا ہے۔

مسلمان خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے راجستھان کے کئی مقامات پران کی آبادی ماضی کے مقابلے میں دس سے پندرہ فی صد تک بڑھ گئی ہے یہ چلن برقرار رہا تو اس صوبے میں ہندو اکثریت میں نہ رہیں گے۔

مذکورہ سروے اور اس کی بنیاد پر BJPکے انتہا پسندوں کی جانب سے راجستھان سے آئے نتائج کے بعد ہوئے ٹویٹس اسی سوچ کی غمازی کرتے ہیں جو ٹرمپ نے امریکہ کی معاشی مشکلات کو بڑھاچڑھاکر پیش کرتے ہوئے اپنے ملک میں غیر ملکی تارکینِ وطن اور مسلمانوں کے خلاف پھیلائی تھی۔ہمیں مودی کی ہندی بیلٹ میں شکست پرشاداں محسوس کرتے ہوئے اس سوچ کو ہر صورت نگاہ میں رکھنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں