کیا صوبہ جنوبی پنجاب کا دارالحکومت لودھراں ہوگا ؟
چیرمین ایگزیکٹو کونسل برائے قیام صوبہ پنجاب و سابق رکن قومی اسمبلی طاہر بشیر چیمہ کے والد صاحب چودھری بشیر احمد چیمہ نے پہلا الیکشن بہاولپور کے نواب صادق محمد خان عباسی کے فرزند شہزادہ ہارون الرشید عباسی کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تو بہاولپور میں اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار یوں کیا گیا کہ چودھری بشیر احمد چیمہ کا امیدوار ہونا دیوانے کا خواب ہے۔ اب ایک آباد کار بھلا شہزادے کا مقابلہ کرے گا؟ مطلب یہ منہ اور مسور کی دال۔
ادھر چیمہ خاندان کو بھی اس صورتحال کا اندازہ تھا کہ ان کا فرزند مشکل فیصلہ کرچکا ہے۔ یوں چیمہ خاندان کی بیٹھک پر بھی یہ بحث چل رہی تھی کہ نواب صادق محمد خان عباسی صاحب کے فرزند شہزادہ ہارون الرشید عباسی کے خلاف الیکشن میں جانے کا مطلب خواہ مخواہ دیوارکے ساتھ ٹکر مارنا ہے، پھر بزرگوں نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے پوچھا کہ بشیراحمد آپ الیکشن کیوں لڑناچاہتے ہیں تو چودھری بشیر نے جواب دیا کہ دادا جی اسمبلی پہنچ جاؤں گا۔
اچھا بشیراحمد پتر یہ تو بتا کہ تہمارے اسمبلی میں جانے سے کیا ہوگا؟ یہاں تو سارا کچھ نواب صاحب ہیں؟ چودھری بشیر احمد نے اپنے داد جی سے کہا کہ جی بالکل آپ ٹھیک فرمارہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نواب صاحب کا بہت احترام ہے، اور وہی سب کچھ ہیں لیکن الیکشن میں کامیابی کی صورت میں ہماری بھی اسمبلی میں کرسی ہوگی، مطلب آپ پگ کی خاطر الیکشن میں جارہے ہیں، یوں اس نقطہ پر چیمہ خاندان کے بزرگ قائل ہوگئے اور چوہدری بشیر احمد کے الیکشن میں جانے کے فیصلہ کے پیچھے کھڑے ہوگئے لیکن اس فیصلہ کے باوجود بھی اس بات کا انتظار وہ بے چینی سے کررہے تھے کہ نواب صادق محمد خان عباسی صاحب کا فیصلہ الیکشن مہم میں شہزادہ ہارون الرشید کی حمایت کی صورت میں ہوگا یا پھر نواب صاحب اپنے مقام ومرتبہ کے مطابق کریں گے۔
ادھرنواب صاحب کے فیصلہ کا انتظار صرف چیمہ خاندان کے بڑوں کو نہیں تھا بلکہ پورے بہاولپور کے عوام کی اس میں دلچسپی تھی کہ نواب صادق محمد خان عباسی صاحب اپنے بیٹے کی محبت میں جن آبادکاروں کو بہاولپور بلاکر عزت اور احترام کے علاوہ جائیدادیں دی ہیں، ان کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں یاپھر اپنے شہزادے کو اسمبلی بھجوانے کی خاطر اپنے انصاف پسندی کے سارے اصولوں بالخصوص محبت کو پش پشت ڈالتے ہیں۔ نواب صادق محمد خان عباسی کے فیصلہ کے لئے چیمہ خاندان کو زیادہ دیر انتظاریوں نہیں کرنا پڑا کہ بہاول پور کے نواب صادق محمد خان نے اعلان کیا کہ وہ الیکشن میں شہزادہ ہارون الرشید کی حمایت کرنے کی بجائے غیر جانبدار رہیں گے تا کہ میری وجہ سے شہزادہ ہارون الرشید کو چودھری بشیر احمد چیمہ پر الیکشن میں برتری حاصل نہ ہو۔
دونوں امیدوار عوام میں جائیں اور جو فیصلہ عوام کا ہوگا وہ سب کو قابل قبول ہوگا۔ اس فیصلہ کو جہاں بہاول پور کے عوام میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا وہاں پر آبادکاروں میں اس بات کا احساس بڑھا کہ نواب صاحب ان کو اپنی اولاد جتنا عزیز سمجھتے ہیں۔ پھر الیکشن ہوا اور چودھری بشیر احمد جیت گئے اور شہزادہ ہارون الرشید عباسی الیکشن ہارگئے۔ لیکن نواب صاحب نے اس عوامی فیصلہ پرکبھی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔ ادھر چودھری بشیر احمد چیمہ کو اسمبلی میں اسپیکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
پھر چل سو چل ہے، چودھری بشیر احمد جب تک حیات رہے تو وہ بہاولپور کی سیاست میں اہم رہے اور جیت اپنے نام کرتے ر ہے۔ یقینا ان کی سیاسی زندگی میں نواب صادق محمد خان عباسی کے فیصلہ کا بنیادی عمل دخل تھا۔ راقم الحروف کے ساتھ نواب فیملی کے احترام اور سیاسی عداوتوں کا تذکرہ اسوقت درمیان میں ہوا جب چوہدری طاہر بشیر چیمہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام بارے میں بات کررہے تھے۔ راقم الحروف کا کہنا تھا کہ طاہر صاحب بہاول پور کے عوام تو ایک نقط پر جدوجہد کررہے تھے کہ ان کا بہاول پور صوبہ بحال کیا جائے اور آپ نے الیکشن سے قبل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر اپنے سمیت دیگر آبادکاروں کو لاکر ایک نیا پتہ کھیل دیاہے اور آپ کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ آپ نے بہاولپور کی عوام کی تمناؤں کے برعکس فیصلہ کرکے ان کے ارمانوں کا خون کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ خضربھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
یہ فیصلہ ہم نے نیک نیتی سے کیا ہے اور اسی میں ہم سب کا مفاد ہے۔ اب یہ کھیل ختم ہونے کا وقت آگیا تھا کہ صوبہ بہاولپور ہو یاپھر جنوبی پنجاب اور یوں آبادکاروں اور سرائیکیوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر رکھاجائے۔ میں نے عرض کیا کہ بھائی صاحب اس سیاسی کھیل میں آپ کے خاندان کا سیاسی کیرئیربھی داؤ پر لگ سکتاہے کیونکہ یہاں پنجاب کی تقسیم کو روکنے والی بھی بہت ساری قوتیں ہیں، حدتو یہ ہے کہ آپ دونوں بھائی طارق بشیر چیمہ اور طاہر بشیر چیمہ کے درمیان اس بات پر اختلاف ہوچکاہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے دارالحکومت بہاولپور ہوگا یاپھر ملتان ہوگا؟
تو ان کا کہنا تھا کہ جی بالکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے آپ آپس میں بیٹھ کر اس ایشوکو حل کرنا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اسی جھگڑے میں پڑرہے ہیں اور ہماری عوام لہور کی طرف دیکھتی رہے اور زندگی کے دن پورے کرتی ر ہے۔ ساتھ ہی میں نے سوال کیا کہ بھائی جی یوں لگتاہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے راستہ میں بڑی رکاوٹ دراصل اس کے دارالحکومت کا فیصلہ ہے مطلب ملتان ہوگا یا پھر بہاولپور ہوگا۔ ادھر دونوں اطراف سے سخت موقف دیکھنے کو مل رہا ہے۔
پھر کیا ہوگا؟ اگر دونوں راضی نہ ہوئے تو طاہر بشیرچیمہ کا کہنا تھا کہ خضر بھائی ہم درمیانی راستہ نکالنے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ میں نے پوچھا پھر بتادیں تو انہوں نے کہا لودھراں بھی تو دارالحکومت ہوسکتا ہے۔ دونوں کے لئے برابراہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب وہ دیواریں ہٹانی ہیں جو کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے راستہ میں حائل ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا فیصلہ قطعی طور پرہوچکا ہے۔
میں نے عرض کیا چیمہ صاحب ساری باتیں آپ کی درست ہوسکتی ہیں لیکن جنوبی پنجاب صوبہ کا خواب اسی صورت میں حقیقت کا روپ دھارسکتاہے جب نواب صادق محمد عباسی صاحب کی طرح آبادکاروں کو اپنے بچوں جتنی اہمیت دی جائے گی اور دارالحکومت کی خاطر سرائیکی اور آباد کار اتحاد کو نقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔ طاہر بشیر چیمہ صاحب سے َباتیں تو کافی ہوئیں مطلب وزیراعلی عثمان بزدار فیصلوں میں کتنے آزاد ہیں۔ ان کی ساری توجہ فی الوقت ڈیرہ غازی خان پر کیوں ہے اور تھل جیسے علاقہ کو نظرانداز کیوں کیا جا رہا ہے؟
جنوبی پنجاب کے لئے بڑے بڑے فیصلہ کب ہورہے ہیں؟ اسی طرح اور بھی بہت کچھ ہے جو کہ آپ کی امانت ہے لیکن فی الحال کالم میں گنجائش اتنی ہی ہے۔ لیکن جاتے جاتے اتنا عرض کردوں کہ جب راقم الحروف نے تھل کی پسماندگی کے بارے میں تسلسل کے ساتھ سوال اٹھائے تو طاہر بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ خضر بھائی تھل کے نمانئدوں کی توجہ ترقیاتی منصوبوں کی بجائے پٹواری، ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ڈی پی او اور ڈی سی او کی تعیناتی پر ہو تو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور ہم جیسے عوام کے تابعدار کیا کرسکتے ہیں۔ راقم الحروف کے پاس خاموشی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔


