مہمان، بچوں کی ماں اور ادھ جلا سگار


’ اسے اوڑھ لیجے سردی ہے۔ ‘ اس نے ہتھیلی پر جو لپٹا رکھا تھا اسے آگے بڑھایا۔

عالیہ نے کچھ کہے بغیر گرم چادر اس سے لے کر اپنے کندھوں پر پھیلا لی۔ اسے واقعی اس وقت اس کی ضرورت تھی۔

وہ وہیں کھڑا رہا۔ پھر جھجھکتے ہوئے بولا۔ ’کیا میں اس بنچ پر بیٹھ سکتا ہوں؟ ‘

عالیہ نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اور وہ بنچ کے دوسرے کونے میں سمٹ کر بیٹھ گیا۔

خاموشی کا ایک مختصر وقفہ گزرا تو قیصر کی آواز سنائی دی۔ ’کس قدر حسین رات ہے یہ اور کتنا خیال انگیز موسم۔ ‘

عالیہ نے کچھ نہ کہا۔ قیصر نے بھی کچھ اور نہ کہا۔ کئی ساعتیں یونہی گزر گئیں۔ پھر عالیہ کے کانوں میں قیصر کی آواز دوبارہ پڑی۔ بہت مدھم سی سرگوشی جیسی۔ شاید وہ خود کلامی کر رہا تھا۔ عالیہ نے کان لگا کر سنا۔ قیصر Shelley کی نظم ’ہوائے مغرب کے نام یک گیت‘ کے کچھ مصرعے گنگنا رہا تھا:

’ اے ہوا

مجھے اپنے ساتھ اڑا لے جا

ایک لہر کی صورت

ایک پتے کی مانند

یا بادل بنا کر

میں زیست کے خار زاروں میں آن گرا ہوں

اور میرا وجود لہو لہو ہے ’

’ پہلے بند سے پڑھئے۔ ‘ عالیہ کی آواز قیصر کے کانوں سے ٹکرائی۔

قیصر کچھ لمحات کے لئے ساکت ہو کر رہ گیا۔ اسے یہ یقین کرنے میں وقت لگاکہ یہ عالیہ ہی کی آواز تھی جو اس نے ابھی سنی تھی۔

پھر وہ سنبھلا اور اس نے نظم کو پہلے بند سے پڑھنا شروع کیا؛

’ اے سرکش ہوائے مغرب اے موسم خزاں کی آہ سرد‘
تو جس کے نادیدہ وجود سے مردہ پتے بھی

یوں بھاگ اٹھتے ہیں جیسے فسوں گر کے جنتر منتر سے آسیب

اس کے بعد قیصر پڑھتا چلا گیا۔ عالیہ کو خبر نہ رہی کہ قیصر نے نظم کے کتنے اور کون کون سے بند پڑھے تھے۔ وہ صرف اس کی آواز کی شراب پیتی رہی۔ جرعہ جرعہ۔ اور اس کا پورا وجود اس کے نشے میں ڈوب گیا۔ آج پہلی بار قیصر اس کے لئے بول رہا تھا اور وہ اسے سن رہی تھی۔ عالیہ نے گردن گھما کر قیصر کے چہرے کی طرف دیکھا جو اس وقت پوری طرح چاندنی کے ہالے میں تھا۔ عالیہ اس کے نازک ہونٹوں کو دھیرے دھیرے کھلتے اور بند ہوتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔ اس کی انگلیوں کی پوروں میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔ وہ انگلیاں قیصر کے لبوں سے وصال چاہتی تھیں۔ عالیہ قیصر کے کانوں کو دیکھ سکتی تھی۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ قیصر کے کانوں پر ہونٹ رکھ کر کوئی دھیمی سی سر گوشی کرے۔ شدت آرزو نے بالآخر عالیہ کے ہاتھوں میں جنبش پیدا کی اور اس کی لرزیدہ انگلیاں قیصر کے ہونٹوں کی طرف بڑھیں۔ لیکن پھر ایک خیال آتے ہی اس کا اٹھا ہوا ہاتھ وہیں فضا میں جم گیا۔

’یہ میں کیا کر رہی ہوں؟ میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں۔ میں عالیہ عمران احمد۔ ایک بیرسٹر کی بیوی اور ایک جج کی بیٹی۔ اتنے اعلی خاندان کی فرد۔ میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں؟ ‘

اور پھر اس لمحے جتنی شدت کے ساتھ عالیہ کا دل قیصر کی جانب لپک رہا تھا اسی شدت کے ساتھ اس نے اپنے بدن کو اس سے دور ہٹایا۔ وہ ایک بارگی بنچ سے اٹھی اور آن کی آن میں قیصر کو اور اس نیلگوں رات کی خواب ناک ساعتوں کو اپنے پیچھے چھوڑتی ہوئی واپس اپنے شوہر کی خواب گاہ میں پہنچ گئی۔ شاید قیصر نے اسے پیچھے سے پکارا بھی تھا لیکن اس نے اس کی آواز پر کوئی دھیان نہیں دیا نہ پلٹ کر دیکھا۔

اگلی صبح جب عمران سو کر اٹھا تو عالیہ بستر میں موجود نہ تھی۔

وہ کمرے سے نکل کر اسے پکارنے ہی والا تھا جب اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے ایک رقعے پر پڑی جسے عمران کے چشمے کے نیچے سرکا کر رکھا گیا تھا۔ عمران نے عینک لگا کر رقعہ پڑھنا شروع کیا:

’ عمران

میں بچوں کو لے کر لاہور واپس جا رہی ہوں۔

جب تک تمہارا یہ مہمان یہاں موجود ہے میں یہاں نہیں رہ سکتی۔

جب یہ چلا جائے تو مجھے اطلاع کر دینا میں واپس آ جاوں گی۔

عالیہ ’

’ کمال کی خاتون ہیں یہ ہماری عالیہ بیگم بھی۔ ‘ عمران مسکرا دیا۔

اس واقعے کو ایک برس بیت گیا۔ صبح شام کے کام دھندوں میں وقت کیسے گزرا کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ عمران کی سالانہ تعطیلات پھر سے قریب آئیں تو بچوں نے شور ڈال دیا کہ فارم ہاوس پر چل کر رہیں گے۔ عمران عالیہ سے مشورہ کرنے کے لیے کچن میں گیا جہاں وہ اس کے لئے کافی بنا رہی تھی۔

’ جی سرتاج ضرور چلیں گے۔ ‘ عالیہ نے ایک دل ربا مسکراہٹ کے ساتھ گرم کافی کا کپ اپنے شوہر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

۔ ’اور اگر موڈ ہو تو اپنے اس لاڈلے دوست قیصر ملک کو بھی بلا لیجے گا وہاں رہنے کے لئے۔ ‘

’اؤ۔ ریئلی‘ عمران عالیہ کے منہ سے یہ بات سن کر حیران رہ گیا

۔ ’آپ ناقابل یقین ہیں عالیہ بیگم! قطعی حیران کن۔ پچھلے سال تو آپ اس کی وجہ ہمیں وہاں اکیلا چھوڑ کر چلی آئیں تھیں اور اب؟ ‘

’ پچھلے سال جو ہوا اسے بھول بھی جاؤ نا‘ عالیہ نے ایک ادائے دلبری سے کہا۔ ’

اس بار میرا سلوک تمہارے دوست کے ساتھ بہت بہتر ہو گا۔ پکا پرامس۔ ’

عالیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں ایک پر اسرار چمک۔

عمران نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔

An adaptation of

’A Respectable Woman ”

A short story by Kate Chopin (USA 1850۔ 1904 )

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4