مہمان، بچوں کی ماں اور ادھ جلا سگار



’عالیہ۔ عالیہ بیگم۔ بھئی کہاں ہیں آپ؟ ‘

عمران دور ہی سے آوازیں دیتا ہوا چلا آ رہا تھا۔

’ جی یہاں ہوں کچن میں‘ عالیہ نے پکار کر بتایا۔

’ ارے بھئی قیصر آ رہا ہے۔ مجھ سے ملنے۔ ‘ عمران کچن کے دروازے میں نمودار ہوا۔ سیل فون ہاتھ میں تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور باچھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔

’ اب یہ قیصر کون ہے؟ ‘ عالیہ نے ہاتھ میں پکڑے فرائنگ پین کو سنک میں رکھتے ہوئے پلٹ کر اپنے شوہر کو گھورا۔ ’آج سے پہلے تو کبھی ذکر نہیں کیا آپ نے اس کا؟ ‘

شوہر کے دوستوں کے معاملے میں عالیہ پکی روایتی بیوی تھی۔ سدا کی شکی۔

’ ارے قیصر جگر ہے بھئی۔ یارغار ہے اپنا‘ عمران بڑے پرجوش انداز میں بول رہا تھا۔ ’بی اے تک ہم ساتھ تھے۔ پھرمیں لا کالج چلا گیا اوروہ لٹریچر پڑھنے امریکہ۔ اب تو بڑا مشہوررائٹر بن گیا ہے وہاں کا۔ کئی کتابیں چھپ چکی ہیں اس کی۔ آج کئی سال بعد واپس آیا تو سب سے پہلی کال مجھے کی۔ میں نے کہا کہ ہم لوگ اپنے فارم ہاوس پر ہیں۔ تم بھی چلے آو مزہ رہے گا۔ ‘

’ تم بھی چلے آو مزہ رہے گا۔ ‘ عالیہ نے عمران کے اندازکی نقل کی۔ ’واہ کیا بات ہے آپ کی عمران صاحب۔ کتنے آرام سے دعوت دے دی۔ ‘

’ ارے۔ تو کیا برا کیا میں نے؟ ‘ عمران نے اچنبھے سے پوچھا۔

’ پوچھتے ہیں کیا برا کیا۔ ‘ عالیہ مزید چمک کر بولی۔ ’عمران صاحب آپ بھول رہے ہیں یہ ہمارا فیملی ٹائم ہے۔ یہاں بھی آپ کے دوست بیچ میں گھسیں گے کیا؟ سال میں ایک بار تو آپ کو چھٹی ملتی ہے‘
’ اوہو عالیہ یار۔ ایک توتم بھی نا! ‘ عمران نے آگے بڑھ کر اپنی بیوی کو بانہوں میں کس لیا۔ ’میں کونسا اپنی پیاری بیوی کو چھوڑ کر کہیں جا رہا ہوں۔ بالکل یہیں رہوں گا تیرے اور تیرے بچوں کے ساتھ۔ ‘

’ لیکن آپ سارا وقت ہمیں تو نہیں دیں گے نا۔ ‘ عالیہ نے خود کو عمران کی گرفت سے آزاد کراتے ہوئے کہا۔ ’ایک غیرآدمی تو رہے گا نا ہمارے درمیان میں۔ ‘

’ ارے غیر کہاں ہے بھئی۔ یار ہے میرا بھائیوں جیسا۔ اورمدتوں بعد ملنے آ رہا ہے مجھ سے۔ ‘

’ آپ کا کیا ہے۔ کسی بھی اینڈے بینڈے کو بھائی بنا لیتے ہیں۔ ‘ عالیہ آج ماننے کے موڈ میں نہیں تھی۔ ’میں کچھ نہیں جانتی بس۔ آپ منع کردیں اپنے دوست کو۔ میں نے کہہ دیا ہے آپ سے۔ ‘ اس نے گویا اپنا فیصلہ سنا دیا۔

’ارے ایسے کیسے منع کر دوں بھئی۔ کمال کرتی ہو تم بھی‘ عمران عالیہ کے ری ایکشن پر تھوڑا حیران تھا۔ ’میں نے خود اسے دعوت دی ہے یہاں آنے کی اوراب خود ہی اسے منع کر دوں۔ ‘

’ چلو جی ٹھیک ہے پھر۔ جیسے آپ کی مرضی۔ ‘ عالیہ سچ مچ ناراض ہو گئی اور پیر پٹختی ہوئی باہر کو چل دی۔ ’آپ نے آج تک میری کون سی بات مانی ہے جو آج مانیں گے۔ ‘

’ او ہو عالی! یار۔ بات تو سمجھا کرو نا۔ عالی۔ ‘ عمران اسے منانے کو اس کے پیچھے لپکا۔

عالیہ فارم ہاوس پرایک اجنبی مہمان کو مدعو کیے جانے پر بالکل بھی خوش نہیں تھی لیکن عمران کی ضد کے سامنے آخر اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔

عمران فارم ہاوس کے زراعتی حصے کی طرف چلا گیا۔ بچے اپنی اچھل کود میں مصروف رہے اورعالیہ دن بھر ملازمین کی نگرانی کرتی اور گھر کے مختلف کام کاج دیکھتی رہی۔ لیکن جانے کیوں یہ نام قیصراسکے ذہن میں اٹک گیا۔ یہ نام بہت عام نہ سہی لیکن کوئی ایسا انوکھا بھی نہ تھا کہ چیونگم کی طرح دھیان کے تالو سے چپک کر ہی رہ جائے۔ دن ڈھلے جب عالیہ آرام کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھی آنکھیں موندے دھیرے دھیرے جھول رہی تھی تو پتہ نہیں کیسے اس نام کے حروف اس کے سامنے بجھی ہوئی موم بتی کے دھویں کی طرح پھیلے اورپھر دھویں کی یہ لکیریں ایک انسانی پیکرمیں ڈھل گئیں۔ یہ قدیم رومی بادشاہوں کی طرح ایک بہت لمبا چوڑا بھاری بھرکم انسان تھا جس کی گھنی مونچھیں تھیں۔ بھاری آواز اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں تھیں جو سیدھا اسے تک رہی تھیں۔ وہ عمران کی طرح تھوڑا سانولا بھی تھا۔ اسے لگا کہ یہ عمران ہی کی طرح شوخ اور باتونی بھی ہو گا۔ ’توبہ ہے یہ عمران اکیلا ہی کتنا دماغ چاٹتا ہے۔ ایک سے دو ہو گئے تو پھر خدا ہی خیر کرے۔ ‘ اس نے خود سے کہا۔

لیکن تیسرے روز فارم ہاوس کے وسیع وعریض مہمان کمرے میں جب عمران نے اس کا تعارف قیصر سے کروایا تو عالیہ کو تھوڑی سی مایوسی ہوئی۔ یہ شخص جو اس کے سامنے کھڑا تھا نہ تو زیادہ لمبا چوڑا تھا اور نہ ہی بھاری بھرکم۔ کلین شیو تھا۔ آنکھیں ذرا چھوٹی چھوٹی تھیں اورنظر کا چشمہ لگاتا تھا۔ رنگ البتہ خوب گورا تھا کچھ گلاب جیسی جھلک لیے ہوئے۔ ہونٹ بھی نازک سے تھے لڑکیوں جیسے۔ ’ارے۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا‘ ۔ عالیہ کے اندر سے کسی نے شکوہ کیا۔ ’مردوں کو تو اتنا گورا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہونٹ اتنے پتلے سے ٹھیک لگتے ہیں۔ ‘

قیصر نے بہت شائستہ انگریزی میں اپنا تعارف عالیہ سے کروایا اور پھرعالیہ اور بچوں کا حال احوال پوچھا۔ اس کی آواز بھی ریشمیں تھی مگر لہجہ تصنع سے پاک تھا۔ عالیہ نے جلدی سے اپنی سوچوں کو مجتمع کیا اور مناسب انداز سے جوابی رسمی جملے ادا کیے اورپھر ایک طرف صوفے پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔ اب عمران کی لا متناہی گپ بازی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ عالیہ کچھ دیر وہاں بیٹھی دونوں دوستوں کی گفتگو دیکھتی اور سنتی رہی۔ عمران کی بھاری آواز اور اس سے بھی زیادہ بھاری بے محابا قہقہے کمرے میں گونج رہے تھے جن کے بیچ میں قیصر کی نرم آواز ذرا کی ذرا آتی اور پھر گم ہو جاتی تھی۔ عالیہ وہاں سے جانا نہ چاہتی تھی لیکن جانے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ ملازم ٹھنڈا لایا تو وہ چپکے سے وہاں سے نکل کرکچن میں آگئی جہاں ملازمین دوپہر کے کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس نے ایک نظر کچن کا جائزہ لیا۔ دیگچے کا ڈھکن سرکا کر پکتے ہوئے سالن پر ایک نظر ڈالی۔ پھر سویٹ ڈش کے بارے میں ملازمہ کو کچھ ہدایات دے کر کچن سے نکل گئی۔ اس نے پھر سے ایک نظرمہمان کمرے کے اندر جھانکا۔ دونوں دوست مشروب کے گھونٹ بھر رہے تھے اور کسی لطیفے پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ایک دم عالیہ کو کچھ خیال آیا تو اس کا رخ کچن کی بغل سے اوپر جاتے ہوئے زینے کی طرف ہو گیا۔ اوپر پہنچ کر اس نے مہمان کی خواب گاہ کا دروازہ کھولا روشنی جلائی اورایک بھرپور نظر اشیا کی ترتیب پر ڈالی۔ کمرہ نہایت شان دار تھا اور مہمان کی ضرورت کی ہرچیز اپنی جگہ پر موجود تھی۔ اس نے کمرے کا ایک چکر لگا کردوبارہ اپنا اطمینان کیا۔ کہیں کوئی کمی نہ تھی۔ اتنے میں زینے پر قدموں کی چاپ گونجی اورساتھ ہی عمران کی بھاری آواز بھی سنائی دی۔ وہ مسلسل بولتا اور قہقہے لگاتا ہوا اوپرآرہا تھا۔ قیصر بھی ساتھ تھا۔ عالیہ نے جلدی سے کمرے کا دروازہ بھیڑ دیا اوردوسری طرف کے زینے سے اتر کر نیچے چلی گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں