نظریۂ پاکستان اور زمینی حقائق: فرزند اقبال کی ایک تاریخ ساز تحریر


قائداعظم نے ”دوقومی نظریہ“ کی بنیاد پر جب تحریک پاکستان شروع کی تو اُنھیں بھی علماے ہند کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں ”کافر اعظم“ کا خطاب دیا گیا اور پاکستان قائم ہوجانے کے بعد تو بعض حلقوں نے برملا اعلان کیا کہ ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہوئے جس کی بنا پر پاکستان وجود میں آیا۔ غالباً اسی پس منظر میں قائداعظم نے اپنی ایک تقریر میں ارشاد فرمایا تھا کہ ان کی مسلم لیگ نے مسلمانوں کو تین منفی قوتوں سے نجات دلائی ہے، یعنی انگریز حاکموں، ہندوؤں اور مولوی اور مولانا صاحبان سے۔ یہ درست ہے کہ علما حضرات کی اکثریت نے جب محسوس کیا کہ پاکستان اب وجود میں آہی جائے گا تو وہ تحریک میں شامل ہوگئے۔

”دوقومی نظریہ“ کی بنیاد پر علیحدہ مسلم ریاست کا قیام ایک جدید تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانان برصغیر کی ”قومیت“ اسلام سے وابستہ ہے۔ یعنی نسل، رنگ، زبان یا علاقہ کے بجائے ان کی ”قومیت“ ایک مشترکہ روحانی سرچشمے سے ماخوذ ہے۔ اپنی شناخت کے اس شعور نے بالآخر تخلیق پاکستان کے لیے ایک اُصول کی شکل اختیار کرلی۔ یوں اسلام برصغیر کے مسلمانوں کے لیے جدید معنوں میں قوم سازی کا محرک بنا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس تصور کے ذریعے روایتی اسلامی اقدار کو جدید لبرل افکار سے ہم آہنگ کیا گیا۔

اس مرحلے پر ایک وضاحت کی ضرورت ہے۔ اقبال ”قدیم“ اور ”جدید“ کی بحث کو غیرضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک جب ”قدیم“ کی تعبیر نو اس طرح کی جائے کہ وہ وقت کے نئے تقاضوں کے عین مطابق ہو تو وہی ”جدید“ ہے۔ گویا ”جدید“ ”قدیم“ سے منقطع نہیں بلکہ ملحق ہے۔ یا حرکت کے اُصول کے تحت ہر انسانی عمل گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ وہ اس تسلسل ہی کو ارتقا کا نام دیتے ہیں۔ یہی ”اقبالی تصورِ جدید“ ہے۔ اُس کے مقابلے میں ”انقلابی تصورِ جدید“ یہ ہے کہ ”قدیم“ کو بالکل منہدم کرکے ہی ”جدید“ وجود میں لایا جاسکتا ہے۔ یعنی نقوشِ کہن کو کلی طور پر مٹا کر ہی ”نئے صبح و شام“ پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ قائداعظم نے اصطلاح ”نظریۂ پاکستان“ کبھی استعمال نہیں کی۔ یہ تصور بعد کی اختراع ہے۔ اگر ایسا ہے تو اُن کی تقریروں میں ”مسلم آئیڈیالوجی“ اور ”اسلامک سوشلزم“ کی اصطلاحات سے کیا مراد لی جائے؟ کیا ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ قائداعظم کے نزدیک تحریک پاکستان کی بنیاد مسلم قومیت کا اُصول اور پاکستان کا قیام مسلمانوں کی معاشی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے؟ قائداعظم کی زیرقیادت تحریک پاکستان کیوں کامیاب ہوئی جبکہ اس سے پیشتر اسلام کے نام پر مسلمانوں کی سیاسی تحریکیں ناکام رہیں؟ اس لیے کہ یہ تحریک:

(ا) وقت کے بدلے ہوئے تقاضوں کے مطابق تھی۔

(ب) مسلم قوم کے لیے ریاست کی جستجو، گویا ایک نئے اجتہاد پر انحصار کیا گیا۔

(ج) محض جوش و جذبہ کے بجائے عقلی حکمت عملی کے مطابق عمل کیا گیا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ اگرچہ عہد نبوی میں قرآنی احکام کی تعبیر سے ریاست کے بارے میں چند اُصول متعین ہوگئے تھے لیکن سیاسی اعتبار سے ریاست کو کبھی ایک مکمل چیز نہیں سمجھا گیا۔ آنحضور صلعم کی وفات کے بعد جب خلفاے راشدین کا دور آیا تو حکمرانی کے لیے آئینی طور پر مختلف تجربے کیے گئے۔ مثلاً انتخاب، نامزدگی، انتخاب بذریعہ محدود حلقہ انتخاب، استصواب رائے اور بالآخر غصبِ اقتدار جس نے 661 عیسوی سے لے کر 1924 عیسوی تک موروثی مطلق العنان ملوکیت کی مختلف شکلیں اختیار کیں۔

روایتی فقہا نے ریاست کے سیاسی نظام اور قانونی نظام کے درمیان خط امتیاز کھینچا ہے۔ اسی امتیاز کی بنا پر اکثر فقہا کی رائے میں ایک غاصب کی حکمرانی کو تسلیم کرلینے میں کوئی حرج نہیں اگر وہ مسلمانوں کے دینی فرائض کی انجام دہی میں مداخلت نہ کرے اور شریعت نافذ کرنے کا مدعی ہو۔ تاریخ اسلام میں سیاسی نظام نے تو کئی شکلیں بدلیں اور اسی طرح قانونی نظام بھی قرآن و سنت کے احکام کی کسی ایک تعبیر پر مبنی نہیں رہا، بلکہ اربابِ اقتدار اپنے مطلق العنانانہ مزاج کے تحت ایسے شاہی فرامین صادر کرکے فرماں روائی کرتے رہے جو شرعی قوانین کے ماورا اور بسا اوقات اُن سے متصادم ہوتے تھے۔

ریاست کے تینوں وظیفوں یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی آزادی کو تو خلفاے راشدین کے عہد سے تسلیم کیا جاتا تھا مگر بعدازاں مطلق العنان حکمرانوں کی گرفت ان تینوں وظیفوں پر مضبوط ہوگئی۔ خصوصی طور پر ”شوریٰ“ جس کا تعلق مقننہ سے تھا صاحبان اقتدار کے لیے محض ایک ”مجلس مشاورت“ کی حیثیت اختیار کرگئی۔ جس کے اراکین فرماں روا اپنی مرضی کے مطابق چنتے اور جو انتظامیہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے، یعنی وزیر و کبیر ہونے کے سبب ان کے وفادار ہوتے۔

اسی طرح تاریخ اسلام کے آخری ادوار میں عدلیہ کے قاضیوں اور مفتیوں کی آزادی بھی ختم کردی گئی۔ وہ وہی فیصلے یا فتوے دیتے جو فرماں روا کو قبول ہوتے۔ فرماں رواؤں کی مطلق العنانی کے سبب بالآخر ترکی کے عثمانی خلفا کے عہد میں انقلابی صورت حالات پیدا ہوگئی۔ خلافتِ ترکی کی بقا کی خاطر سید جمال الدین افغانی نے ”آئینی خلافت“ (ایسی خلافت جو ملکی آئین کی پابند ہو) کی تجویز پیش کی، جس پر ترکی کے شیخ الاسلام نے فتویٰ صادر کیا کہ قرآنی حکم کے تحت اولوالامر کی اطاعت فرض ہے۔ لہٰذا جو کوئی خلیفہ کے اختیارات کو محدود یا آئین کا پابند کرے وہ سرکش اور کافر ہے۔ نتیجے میں خلافت کی تنسیخ عمل میں آئی، خلیفہ کے تمام اختیارات ترکی کی منتخب اسمبلی کو منتقل ہوئے اور ترکی میں ”سیکولرڈیماکریسی“ قائم کی گئی۔

اقبال کے نزدیک خلیفہ یا امام کے تمام اختیارات جمہوری طور پر منتخب مسلم اسمبلی کو منتقل کردینا درست اقدام تھا۔ ان کی رائے میں اگر ”شوریٰ“ کو موقع فراہم کیا جاتا تو وہ ”مشاورتی ادارہ“ بننے کے بجائے جدید پارلیمنٹ کی طرح ایک مقتدر ادارہ بن سکتا تھا۔ اقبال نے ”ترکی سیکولرزم“ کو رد کرتے ہوئے منتخب مسلم اسمبلی کو اسلامی امور پر قانون سازی کے معاملے میں ”اجتہادِ مطلق“ کا اختیار دے دیا۔ پس بانیان پاکستان، بالخصوص اقبال کو احساس ہوگیا تھا کہ شرعی قوانین کی تعبیرنو کے لیے پاکستان میں اجتہاد کا طریقِ کار استعمال کرنا پڑے گا۔

قائداعظم جناح کو پختہ یقین تھا کہ وفاقی پارلیمانی نظامِ جمہوریت جو انسانی حقوق کی ضمانت دے، تمام شہریوں کے ساتھ مساوات کا سلوک کرے اور قانون کی بالادستی کا علم بردار ہو، اسلامی احکام کے منافی نہیں بلکہ عین مطابق ہے۔ بالفاظ دیگر اقبال اور قائداعظم دونوں نے روایت کو جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ کرلیا اور یوں ایک جمہوری اسلامی ریاست میں ہم عصر وفاقی پارلیمانی طرزِ حکومت قائم کرنے کا جواز پیدا ہوگیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5