نظریۂ پاکستان اور زمینی حقائق: فرزند اقبال کی ایک تاریخ ساز تحریر


پاکستان میں جمہوریت کو بے شمار الجھنوں اور دشواریوں سے گزرنا پڑا ہے۔ کسی منتخب حکومت کو اپنی میعاد پوری کرسکنے کا موقع نہ ملا۔ سیاسی جماعتوں کے بجائے سیاسی شخصیتیں ملکی سیاست پر حاوی رہیں۔ ان کی جاگیردارانہ ذہنیت کے سبب آپس میں رقابت اور تصادم یا باربار فوجی مداخلت کے نتیجے میں یہ بے معنی سوال اُٹھایا جاتا رہا کہ صدر اور وزیراعظم کے اختیارات کے مابین توازن قائم نہیں کیا جاسکا، حالانکہ وفاقی پارلیمانی طرزحکومت میں صدر صرف وفاق کی علامت ہوتا ہے جبکہ تمام انتظامی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔

قائداعظم نے خود اس کی نظیر قائم کردی تھی۔ انھوں نے بحیثیت گورنر جنرل کبھی وزیراعظم لیاقت علی خان کے انتظامی اختیارات میں مداخلت نہ کی۔ تاہم 1956 ء کا آئین اس لیے منسوخ ہوا کہ اس کے تحت صدر کو وہ اختیارات تفویض نہ کیے گئے تھے جو ملک غلام محمد یا سکندر مرزا اپنے لیے چاہتے تھے۔ بعد میں 1962 ء کے آئین کے تحت صدارتی نظام حکومت کا تجربہ کیا گیا جو جنرل ایوب خان نے اپنی ضروریات کے مطابق وضع کرایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1973 ء کے آئین کے نفاذ کے ذریعے صحیح طور پر وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام قائم ہوا، جس کے تحت صدر وفاق کی علامت اور وزیراعظم بھٹو مقتدر کل بن گئے۔

لیکن غصب کے ذریعے بھٹو حکومت کے خاتمہ کے بعد جنرل ضیاء الحق نے 1973 ء کے آئین میں دفعہ 58 ( 2 ) (بی) کا اضافہ کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ اس دفعہ کی رو سے ایک بالواسطہ منتخب صدر کو ایسے اختیارات تفویض کردیے گئے کہ وہ براہِ راست منتخب وزیراعظم اور اس کی کابینہ کو برخاست اور قومی اسمبلی کو کالعدم قرار دے سکتا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی انتخابی کامیابیوں کے باعث دو دو مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیربھٹو نے سنبھالا۔ دونوں لیڈروں کی سیاسی رقابت نے دشمنی کی صورت اختیار کرلی۔ دونوں فریقوں کے درمیان خوب کیچڑ اچھلا۔ دونوں کو آئین کی دفعہ 58 ( 2 ) (بی) کے تحت سول نوعیت کے صدروں یعنی غلام اسحاق خان اور فاروق احمد لغاری نے اقتدار سے علیحدہ کیا۔ بہرحال میاں نوازشریف نے وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں اسمبلی کے ایک متفق الرائے فیصلے کے تحت آئین میں ترمیم کے ذریعے دفعہ 58 ( 2 )(بی) خارج کروادی۔

یوں وفاقی پارلیمانی جمہوریت پھر بحال ہوگئی۔ مگر 1999 ء میں جنرل پرویز مشرف نے میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے بذریعہ غصب فارغ کرکے اقتدار پر قبضہ جمالیا۔ میاں نوازشریف تو جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں بھٹو کے انجام کے پیش نظر اپنے آپ پر عاید کردہ الزامات کے سلسلہ میں فوجی حکومت سے اپنی جان چھڑاکر سعودی عرب چلے گئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو خود ہی ترک وطن کرکے دبئی جاآباد ہوئیں۔

جنرل پرویز مشرف کے چوتھے فوجی غصب کے دوران 1973 ء کے آئین میں متعدد ترامیم کے ساتھ دفعہ 58 ( 2 ) (بی) نہ صرف بحال کردی گئی بلکہ صدر کے اس اختیار کے ساتھ ایک نئے فورم مسمّٰی ”نیشنل سیکیورٹی کونسل“ کا اضافہ کردیا گیا جو دیگر سول ارکان کے علاوہ چاروں فوجی سربراہان پر مشتمل ہے۔ یعنی آئین میں اس فورم کے ذریعے ملک کے سیاسی نظام میں فوج کو مستقل کردار ادا کرنے کی غرض سے ایک ادارے کی صورت دے دی گئی ہے۔

میاں نوازشریف کے ہٹائے جانے سے پیشتر حکومت پاکستان کی افغان پالیسی افغانستان میں سابق سویت روس کے اقتدار کے خاتمے کی خاطر تیار کردہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ دوستی پر قائم تھی۔ شاید اس پالیسی کی حکمت عملی ان کے اثرو رسوخ کو افغانستان کی سرحدوں تک محدود رکھنا تھا۔ مگر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے دباؤ پر اس پالیسی کو ختم کرکے اُن کے خلاف محاذ کھول دیا۔ امریکہ کے نزدیک چونکہ 11 ؍ستمبر 2001 ء کے نیویارک اور واشنگٹن میں تباہ کن دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار اسامہ بن لادن اور افغانستان پر قابض طالبان تھے، اس لیے امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ملکوں نے عراق کے علاوہ افغانستان پر بھی تسلط کے لیے حملہ کردیا۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے کود کر نہ صرف امریکہ کی طفیلی ریاست بننا قبول کرلیا بلکہ پاکستان دہشت گردی اور خودکش بمباروں کی زد میں آگیا۔ اور اس کا شمار دنیا بھر کے انتہائی غیرمحفوظ اور خطرناک ترین ملکوں میں ہونے لگا۔

جنرل پرویزمشرف اپنی غلط پالیسیوں کے سبب پاکستان کی ناپسندیدہ ترین شخصیت سمجھے جانے لگے۔ بالآخر وکلا، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، عوام و خواص کے ساتھ مغربی ممالک کے شدید دباؤ پر اُنھیں نہ صرف جرنیل کی وردی اتارنی پڑی بلکہ ملک میں انتخابات کا اعلان بھی کرنا پڑا۔ انھی حالات میں پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے قائدنوازشریف کو پاکستان واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کیا گیا، مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت یا بہیمانہ ٹارگٹ قتل کا معمہ ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا۔

فروری 2008 ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ دوسرے درجے پر مسلم لیگ (ن) رہی۔ آخر کار جنرل پرویزمشرف رضاکارانہ طور پر صدر کے عہدے سے علیحدہ ہوگئے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ نیشنل اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد ختم ہوچکا ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ہیں۔ 1973 ء کے آئین میں جو ناجائز ترامیم جنرل پرویزمشرف نے کی تھیں، اُسی طرح برقرار ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں، خصوصی طور پر سوات اور وزیرستان میں حکومت کا اختیار قریب قریب ختم ہوچکا ہے۔ ان علاقوں میں حاکموں کی کرپشن، بنیادی سہولتوں کے فقدان اور معاشی بدحالی کے سبب عسکریت پسند طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا ہے اور اب مؤثر سیاسی قیادت کی عدم موجودگی میں نسلی، فرقہ وارانہ اور سیاسی قتلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلکہ اسلامی شدت پسندی کے فروغ کے سبب خوف کے مارے یہاں کے باشندے بھی طالبان طرز کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ اگر یہی صورت حال رہی تو پاکستان کے دیگر علاقوں میں، مثلاً سارا صوبہ سرحد، بلوچستان، پنجاب اور سندھ، جہاں طالبان پہلے ہی سے خاصی تعداد میں موجود ہیں، اُن کی یلغار کا خدشہ ہے۔ بلکہ بلوچستان میں شرپسندوں کی کارگزاری کے پیش نظر پاکستان کے ٹوٹنے کا بھی خطرہ ہے۔

ان زمینی حقائق کی روشنی میں پاکستانی قوم کو غور کرنا چاہیے کہ نظریہ پاکستان باقی ہے بھی کہ گزشتہ ساٹھ برس کی مدت میں ہمارے قائدین (فوجی و سیاسی) اُسے دفناکر بغیر کسی نئے مقصد کے اِدھر اُدھر مٹرگشت کررہے ہیں۔ نظریہ پاکستان کے تین بنیادی اُصول یہی تھے اور کہنے کو اب بھی ہیں :

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5