نظریۂ پاکستان اور زمینی حقائق: فرزند اقبال کی ایک تاریخ ساز تحریر
1947 ء میں پاکستان کے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد اُسے اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دے دیا گیا۔ قرارداد مقاصد 1949 ء میں منظور ہوئی جو بعدازاں 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں دیباچہ کے طور پر شامل کی گئی۔ مستقبل میں پاکستان میں اسلامی قوانین نافذ کرنے کی خواہش کا اظہار ان دساتیر کے ابواب متعلقہ اُصول سرکاری پالیسی اور ان اسلامی دفعات سے ہوتا ہے جن کے تحت اسمبلیوں میں اسلامی قانون سازی میں مشورہ دینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل وجود میں لائی گئی۔ لیکن آج تک اس ادارے سے مشورہ نہیں کیا گیا۔
پاکستان کو ابتدا ہی سے ایسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کا بانیان پاکستان نے تصور تک نہ کیا تھا۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے سال بعد قائداعظم فوت ہوگئے۔ بعدازاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا۔ سیاسی قیادت میں خلا پیدا ہوجانے کے سبب ایسے بیوروکریٹ سامنے آگئے جن کا تحریک پاکستان سے کوئی تعلق نہ تھا۔ پاکستان کے قیام کے تقریباً دس برس بعد یعنی 1956 ء میں پہلا آئین بنا، جسے دوسال بعد سکندر مرزا نے بحیثیت صدر منسوخ کردیا۔
بالآخر 1959 ء میں جنرل ایوب خان نے عسکری استیلا کے ذریعے سکندر مرزا کو فارغ کرکے ملک میں نام نہاد جمہوری نظام کا خاتمہ کردیا۔ 1962 ء میں جنرل ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کی بنیاد پر صدارتی طرز کا آئین نافذ کیامگر اس کے اپنے زوال کے بعد جنرل یحییٰ خان نے وہ آئین منسوخ کردیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ شفاف انتخابات جنرل یحییٰ خان کے دور میں ہوئے، جن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سے مجیب الرحمن کی پارٹی اور مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔
اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل نہ کیے جانے کے سبب اور سیاسی قائدین کی آپس میں چپقلش کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوگیا۔ قائداعظم کے قائم کردہ پاکستان کے حامیوں کے لیے یہ نہایت مایوسی اور بے بسی کا مقام تھا، کیونکہ پاکستان کی علاقائی، لسانی اور نسلی قوتوں نے مسلم قومیت کی روح کو پامال کردیا تھا۔ اگرچہ اندرا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ بنگالیوں نے ”دوقومی نظریہ“ کو خلیج بنگال میں ڈبودیا، لیکن بنگلہ دیش نے مغربی بنگال (بھارت) میں مدغم نہ ہوکر ثابت کردیا کہ ”دوقومی نظریہ“ کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ بدستور زندہ ہے۔
مگر ہمارے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ محض اسلام پاکستان کی قومی یک جہتی کو مستقل طور پر قائم رکھنے کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ چند اور لوازمات مثلاً سماجی انصاف، معاشی خوشحالی وغیرہ بھی ہیں جنھیں دھیان میں رکھنا ہمارے سیاسی رہنماؤں کے لیے ضروری ہے۔ بہرحال ماحول یا گرد و نواح نے ”وجدانی“ طور پر پاکستانیوں کے المیے کو محسوس کرتے ہوئے اس صورت حال کا باعث بننے والوں کو ان کی کارکردگی پر کڑی سزادی۔
اگرچہ باقی ماندہ پاکستان کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 ء میں وفاقی پارلیمانی جمہوری طرز کا آئین نافذ کیا، مگر اس میں اپنی منشا کے مطابق تبدیلیاں کرکے اس کا حلیہ بدل دیا۔ بالآخر اپنی لڑکھڑاتی ہوئی حکومت کو بچانے کی خاطر قدامت پسند مذہبی عناصر کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور شہریوں کی معاشی بہتری کے لیے نہیں، بلکہ نام نہاد ”ظواہر“ پر مشتمل ان کی اسلامی اصلاحات قبول کرلیں۔ اتوار کے بجائے جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل قرار دے دیا گیا۔
شراب کی خرید و فروخت اور پینے پلانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ گھڑدوڑ پر قمار بازی کی ممانعت ہوگئی اور ”احمدی“ فرقہ کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔ پس یوں قیام پاکستان کے تقریباً تیس برس بعد پہلی مرتبہ ”اسلام“ نافذ کیا گیا۔ لیکن بھٹو کے حریف اُن کی اِن اسلامی اصلاحات کے نفاذ پر بھی مطمئن نہ ہوئے، کیونکہ اُن کا اصل مقصد اسلام کا نفاذ نہیں بلکہ بھٹو سے چھٹکارا پانا تھا۔ چنانچہ انھیں کامیابی تب حاصل ہوئی جب جنرل ضیاء الحق نے بذریعہ غصب سیاسی اقتدار پر قبضہ کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی تقلید میں اسلام کی سیاست کاری اور فوری نوعیت کے سیاسی مفادات کی خاطر مذہبی حلقوں سے سودابازی کی تنگ نظر پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں 1977 ء سے اہل پاکستان میں اسلامی انتہاپسندی یا فرقہ واریت کا زہر پھیلتا چلا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے عہد میں نفاذِ اسلام کے لیے کئی اقدام اُٹھائے گئے۔ مثلاً 1973 ء کے آئین میں ایسی ترمیم کی گئی جس کے تحت تمام اہم ذاتی دستاویزات یعنی شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ، میں مسلم اور غیرمسلم کے الفاظ کے استعمال سے ان کے آپس میں امتیاز کی نشان دہی کی جاسکے۔ پاکستان کے ضابطۂ تعزیرات میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اسلامی ”حدود“ کو اس میں شامل کرلیا گیا۔ احمدیوں پر اسلامی طریق عبادت استعمال کرنے کی پابندی لگادی گئی۔
قانون ناموس رسالتؐ نافذ کیا گیا اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانونی طریقِ کار میں جو اصلاحات ضروری تھیں، وہ علما حضرات کے دباؤ کے سبب نہیں کی گئیں۔ اس قانون نے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جو پہلے ہی امتیازی سلوک کی شاکی تھیں۔ اسی طرح قانون شہادت میں ایک کے بجائے دو عورتوں کی گواہی جیسی تبدیلیاں لائی گئیں جو آج کے زمانے کے مطابق نہ تھیں۔ 1973 ء کے آئین میں قرار دادمقاصد کو دیباچہ کے بجائے آئین کا مستقل حصہ بنادیا گیا اور اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب قرار پایا۔ اسلامی ”حدود“ کی سماعت کے لیے محدود اختیار کے ساتھ ایک خصوصی فیڈرل شریعت کورٹ کو وجود میں لایا گیا جس کے جج صاحبان جنرل ضیاء الحق کی مرضی سے مقرر کیے اور ہٹائے جاسکتے تھے۔
جنرل ضیاء الحق کی ”اسلامائزیشن“ درحقیقت بعض علما حضرات کی شرعی قوانین کے بارے میں قدامت پسندانہ تعبیر پر مبنی تھی جو کبھی پارلیمنٹ میں بحث مباحثہ یا ”اجتہاد“ کے مرحلے سے نہ گزری۔ مثلاً بجائے اس کے کہ اسلامی قوانین کے ذریعے مسلمانوں کی روٹی کا مسئلہ اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کیے جائیں، زیادہ تر زور تعزیرات کے نفاذ پر دیا گیا۔ زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ حکام کی بدعنوانی کے سبب ناکام ہوا اور مستحق افراد اِن فلاحی تدابیر سے مستفید نہ ہوسکے۔
اسلامی تعزیراتی قانون سازی بھی محض تبرکاً، آرایشی یا دکھاوے کی تھی کیونکہ حدود کے قوانین کے تحت متعین سزائیں عملی طور پر نہ دی جاسکتی تھیں اور نہ دی گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں امن و امان یا لاء اینڈ آرڈر کی ابتر صورتِ حال میں بہتری نہ آسکی۔ ان قوانین کے سبب خصوصی طور پر پاکستان کی دیہاتی یا اَن پڑھ خواتین کی حالتِ زار اور بھی تشویش ناک ہوگئی جنھیں ان قوانین کے ناجائز استعمال کے تحت ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
مختصراً جنرل ضیاء الحق نے اسلامائزیشن کی جو شکل متعارف کرائی وہ اسلام کی اُس تعبیر و تشریح کے بالکل برعکس تھی جو بانیانِ پاکستان کے اذہان میں تھی۔ اس کے باعث نارواداری اور فرقہ واریت میں اس حد تک شدت پیدا ہوئی کہ فرقہ پرست دہشت گردوں کے حریف گروہوں نے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردیا، بلکہ ایسے اوقات میں جب وہ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کررہے ہوتے۔ بانیانِ پاکستان نے اس کا تصور بھی نہ کیا تھا کہ جدید اور کمزور اسلامی جمہوریہ پر قدامت پسند مذہبی عناصر کے زیراثر اسلامائزیشن ہی کا دباؤ نہ پڑے گا بلکہ ناپختہ اور بصیرت سے عاری سیاسی قیادت باربار جرنیلوں کے غضب کا شکار ہوتی چلی جائے گی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


