نظریۂ پاکستان اور زمینی حقائق: فرزند اقبال کی ایک تاریخ ساز تحریر
(ا) اسلام ہماری قومیت ہے۔
(ب) جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
(ج) فلاحی ریاست ہمارا نصب العین ہے۔
بنگلہ دیش کے قیام نے ”دوقومی نظریہ“ زندہ رکھتے ہوئے ہمیں سبق سکھلایا تھا کہ ”اسلام“ کا لفظ پاکستان کی قومی یک جہتی کو مستقل طور پر قائم نہیں رکھ سکتا جب تک کہ وفاق کے ہر صوبے کے ساتھ عملی طور پر مساوات اور معاشی انصاف ایسے سلوک کو روانہ رکھا جائے۔ کیا ہمارے حکمرانوں نے یہ سبق سیکھ کر اُس پر عمل کیا؟ اگر عمل کیا ہوتا تو بلوچستان میں واویلے کا سبب کیا ہے؟ سوات میں بندوق کی نوک پر یا امن کی خاطر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانونی نظام سے ہٹ کر کس نوع کے نظام عدل یا شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ اگر پاکستان کے صوبوں کے مختلف علاقوں میں جو چاہے گا دھڑلے سے اپنی نوعیت کی شریعت یا نظام عدل نافذ کرنے لگے گا تو نظریاتی طور پر پاکستان کے مستقبل کی ضمانت، بطور ایک مقتدر قومی ریاست، کیسے دی جاسکے گی؟
پاکستان کی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ غریب عوام میں تعلیم کے فقدان اور جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والی موروثی نوعیت کی ناپختہ اور بصیرت سے عاری سیاسی قیادت کے آپس میں دست و گریبان ہونے کے سبب یہاں فوجی جرنیل بار بار مداخلت کرکے اقتدار پر ناجائز قبضہ کرتے رہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں مستقل طور پر جمہوری نظام قائم نہیں کیا جاسکا۔ چنانچہ اب بھی حالات موافق نہیں۔ وہی پرانی جانی پہچانی سیاسی شخصیتیں ہیں جو غیر مستحکم سیاسی جماعتوں میں متحرک دکھائی دیتی ہیں۔
علاوہ اس کے اب تو جرنیلوں کی سیاسی طور پر پے بہ پے ناکامیوں کے سبب فوج بھی اقتدار سنبھالنے کے معاملے میں خاصی بددل ہوگئی ہے۔ اگر حاضر یا منتظر سیاسی قیادت سے پاکستان کے حالیہ مسائل حل کرسکنے کے بارے میں مایوسی ہے تو نظریاتی طور پر پاکستان کے مستقبل کی ضمانت، بطور ایک جمہوری ریاست کیسے دی جاسکتی ہے؟ خصوصی طور پر جب جمہوریت کو کفر قرار دینے والے موجود ہوں۔
اب رہ گیا مسئلہ فلاحی ریاست قائم کرنے کے نصب العین کا۔ سب جانتے ہیں کہ قیام پاکستان کا سب سے اہم مقصد مسلمانوں کی روٹی کا مسئلہ حل کرنا تھا۔ اس کے لیے پہلا قدم ”لینڈ ریفارمز“ کے ذریعے جاگیردارانہ نظام و ذہنیت کا قلع قمع کرنا تھا۔ لیکن جنرل ایوب خان اور بعدازاں وزیراعظم بھٹو کے ادوار میں جو ”لینڈ ریفارمز“ کی گئیں وہ بنیادی طور پر منافقانہ تھیں جن کے باعث نہ جاگیرداری کا خاتمہ ہوا اور نہ جاگیردارانہ ذہنیت سے نجات ملی۔
صنعت و حرفت کے کارخانوں کے فروغ کے سلسلہ میں پاکستان کے ابتدائی دور میں حکومتی کنٹرول کے شانہ بشانہ پرائیویٹ انٹرپرائز کی شمولیت سے جو تھوڑی بہت ترقی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، وہ وزیراعظم بھٹو کی بے وقت سوشلائزیشن کی نذر ہوگئے اور بیشتر سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل ہوگیا۔ معاشی طور پر پاکستان کی اب جو کیفیت ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ جاگیردارانہ اور کارخانہ دارانہ قیادت آزمائی جاچکی۔ جب تک محنت کش پاکستان کی قیادت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوجاتے یہاں فلاحی ریاست کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہیں۔
جب پاکستان کی اسلامی ری پبلک میں ایک قانون کے بجائے اُس کے مختلف علاقوں میں اپنی اپنی قسم کی شریعت نافذ ہونے لگے، جب پاکستان میں جمہوریت کا تجربہ باربار کیا جائے اور ناکام رہے، اور جب پاکستان کے مفلس اور نادار مسلمانوں کی روٹی کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے ایسے حالات پیدا کردیے جائیں کہ لوگ اپنے بچے بیچنے یا خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجائیں تو کیا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ نظریہ پاکستان ہے اور زندہ ہے یا زندہ رہے گا؟ اقبال نے غالباً اسی موقع کے لیے درست کہا ہے :
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں


