ہم فیل تم پاس، آپ ہی جواب دو


جنرل پرویز مشرف نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو ہمارے ادارے کے ایک بڑے افسر جو ریٹائرڈ کرنل تھے اور جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ فوج میں تربیت بھی حاصل کی تھی، ادارے کے چیئرمین مقرر کر دیے گئے۔ کرنل صاحب نے ادارے میں وی آر ایف ( voluntary retired scheme) اسکیم متعارف کرائی اور اپنے چہیتے افسران کے ذریعے ملازمین پر کچھ اس طرح دباؤ کی کیفیت طاری کی کہ ملازمین کی بڑی تعداد نے دباؤ میں آ کر وی آر ایف اسکیم میں حصہ لے کر اپنی نوکری گنوائی۔

وی آر ایف اسکیم میں حصہ لینے والے اکثر ملازمین نوکری چھوڑنے کے بعد معاشی طور پر پریشان ہی رہے۔ جن چہیتے افسران نے کرنل صاحب کا ساتھ دیا وہ اہلیت ہونے یا نہ ہونے کے باوجود قبل از وقت اعلی عہدوں پر فائز کر دیے گئے۔ کرنل صاحب کی اس افسوس ناک حکمت عملی سے دل برداشتہ ہو کر کئی قابل و اہل اعلی افسران نے بھی نوکریوں سے استعفی دے دیا اور اکثر بیرون ملک جا بسے۔

جو افسران اعلی عہدوں پر فائز ہو گئے۔ ان کو اپنے سے نچلے درجے کے افسران پر رعب جمانے کا خوب موقع ملا۔ روز صبح میٹنگ ہوتی، جس میں شفٹ انچارج بھی موجود ہوتا، جس سے رات بھر کی کارکردگی پوچھی جاتی اور افسران سے کچھ ایسے اچھوتے ٹیکنکل سوال پوچھے جاتے کہ جن کی کوئی تک نہ ہوتی۔ ان سوالات کے پوچھنے کا مقصد صرف افسران پر اپنی بڑائی جتانا ہوتا۔ ایسا ہی ایک سوال جب میٹنگ میں پوچھا گیا تو شفٹ انچارچ صاحب بے ساختہ بولے، ”ہم فیل تم پاس، آپ ہی جواب دو“۔ شفٹ انچارج صاحب نے مزید فرمایا کہ سمجھ میں ہی نہیں آرہا کہ نوکری کیسے کی جائے۔ آپ کبھی سر سے پکڑنے کو کہتے ہو، جب پکڑ لو تو کہتے ہو نہیں پیر سے پکڑنا تھا۔ جب پیر سے پکڑو تو کہتے ہو، نہیں سر سے پکڑو۔ ہم کو تو اس افسری کا کوئی سر پیر ہی نظر نہیں آرہا اور نہ پکڑ میں آرہا ہے۔

گزشتہ تین ماہ کی حکومتی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ واقعہ بے طرح یاد آگیا، جب شفٹ انچارچ صاحب نے فرمایا تھا کہ ہم فیل تم پاس اور کہا تھا کہ اس افسری کا سر پیر ہی نظر نہیں آرہا۔ گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں کابینہ کے نو گھنٹے طویل اجلاس کی بازگشت رہی۔ جس میں وزیر اعظم نے 26 وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق ہر وزیر سے تین سوال پوچھے گئے،

اخراجات کتنے کم کیے؟
کارکردگی کیا رہی؟
آیندہ کا لائحہ عمل کیا ہے؟

وزراء نے ان سوالات کا کیا جواب دیا ہوگا؟ یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن اخبارات میں اجلاس کی کارروائی پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ یہ اجلاس انجمن ستائش باہمی کے اجلاس سے گہری مماثلت رکھتا تھا۔ پندرہ دسمبر کو بنی گالہ میں ان چھے وزارتوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، جن کی کارکردگی کا جائزہ کسی بھی وجہ سے گزشتہ اجلاس میں نہیں لیا جا سکا تھا۔

وزراء کی کارکردگی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی مزید روداد بتاتے ہوئے، وزیر اطلاعات نے فرمایا کہ وزیر اعظم تمام وزراء کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور انہوں نے وزراء کو چند مزید ہدایات دے کر پاس کر دیا ہے۔ وزیر ریلوے کی کارکردگی کو بہت سراہا گیا اور اس خوشی میں ڈیسک بھی بجائے گئے۔ وزیر اطلاعات نے فرمایا کہ وزیر اعظم وزیر مملکت مراد سعید برائے کمیونیکیشن اور پوسٹل سروسز سے بے پناہ خوش ہیں اور ان کو وفاقی وزیر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزراء کے پاس ہونے کی خبر سن کر مشہور زمانہ چاکلیٹ کا اشتہار نظروں کے سامنے گھوم گیا، جس میں مشہور بھارتی اداکار سب کو چاکلیٹ کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں، ”پپو پاس ہو گیا“۔

وزیر اطلاعات نے فرمایا کہ وزراء کی کارکردگی جانچنے کے لیے اجلاس ہر تین ماہ بعد منعقد ہوا کریں گے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ہم پہلے تین ماہ اپوزیشن موڈ میں رہے اب حکومتی موڈ میں آ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی نہ حکومت کی اور نہ وزیر اعظم کی کوئی کل سمجھ آ رہی ہے۔ صبح حکومت کچھ کہہ اور کر رہی ہوتی ہے اور شام کو کچھ اور۔ اس صورت حال میں ووٹر حکومت وقت سے یہی کہہ سکتا ہے کہ ہم فیل تم پاس، جو بھی ہے، حکومت کرو تاکہ حکومت کے کسی سرے کا تو پتا چلے۔

Facebook Comments HS