سوشل ایئر لایئنز (معاشرتی پروازیں)
جہاں ہر ملک میں ہوائی سفر کیلئے ائیر لائینز ہوتی ہیں وہیں سماجی سطح پر چندعناصر اپنے اپنے رنگ اور ڈھنگ میں متوازی ہوائی سروس مہیا کرتے ہیں۔۔۔ ان کیلئے سنسان گلی کوچے ہوائی اڈوں کا درجہ رکھتے ہیں۔عرفِ عام میں انہیں نشئی،پوڈری، بھنگی، شرابی اور چرسی کے اعزازی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ جیسے وطن عزیز کی قومی ہوائی سروس، ُ پی آئی اے اور سوشل ائیر لائن پی آئے ہیں” ہے۔ معاشرے میں نشے کی لت انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی نشے میں گھِرا نظر آتا ہے۔ کسی کو عشق کا تو کسی کو اقتدار کا نشہ لاحق ہے۔ کوئی دولت تو کوئی حسن و جوانی کے نشے میں مبتلا ہے۔ لیکن ہمیں ان تشبیہات و استعاروں سے غرض نہیں بلکہ اپنا موضوعِ سخن وہ حقیقی کردار ہیں جو سماج کے ہر شہر،گاؤں گلی اور محلے کا جزوِ لا ینفک ہیں۔ کہیں محوِ پرواز تو کہیں نیم پرواز ! نشہ آور اشیاء سے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ ایک عالم دین منشیات کے نقصانات بیان کرتے ہوئے فتویٰ دے رہا تھا کہ جس شخص کا پاؤں بھی افیون کو چھو گیا وہ شخص جنت میں نہیں جا سکتا۔ اِ ک نشئی بھی تشریف فرما تھا فوراً بولا ’’وہ شخص کیسے جنت میں جائیگا جو افیون جیسی متبرک چیز پر پاؤں رکھے ‘‘۔ ابراہیم ذوق تو ایمان کو اس قدر کمزور سمجھتے ہی نہ تھے کہ ڈیڑھ چلّو پانی میں بہہ جائے۔ حتٰی کہ اک صاحب جنت کی فضا راس نہ آنے کے باعث ساقی سے میخانے کا دروازہ بند نہ کرنے کی استدعا کرتے گئے۔ اک شاعر صاحب چل کر پینے جاتے مگر اٹھا کر لائے جاتے۔داغ دہلوی اپنے شوق اور بھرم دونوں کو کچھ یوں اکٹھا کرتے تھے،
مے خانے کے قریب تھی مسجد بھلے کو داغ
ہر شخص پوچھتا تھا کہ حضرت ادھر کہاں
فیض اس بہار کو بہار ہی نہ سمجھتے تھے جس میں مے نہ پی جا سکے البتہ شغل ِ شراب کے عادی، عدم ایک آدھ دن نہ پینے کو قابلِ برداشت قرار دیتے تھے۔غالب تو بادہ خواری کے موجب ولی ﷲ بننے سے بال بال بچ گئے اسی لئے ہاتھوں میں جنبش نہ ہونے کے باوجود ساغر و مینا کو سامنے رکھنے کے خواہاں تھے۔ ساغر صدیقی بھی صرف عالمِ مدہوشی میں اﷲ کوسجدہ کرنے کے قائل تھے۔ جہاں تک پینے کا معاملہ ہے تو وہ صرف تلخئی حیات، غم کی سیاہ رات، پھولوں کی واردات اور محبوب کی گذارشات سے گھبرا کر پی لیا کرتے تھے۔ فی زمانہ شراب تو وطن عزیز کا مرغوب اور دل چسپ موضوع بن چکا ہے۔ اب یہاں معجزاتی طور پر شراب شہد میں بھی بدل جاتی ہے۔ گویا کباب بوتل میں اور شراب سیخ پہ ڈالنے کا معما حل ہوا چاہتا ہے۔ نشئی حضرات اپنے گھر بار،بچوں،اعزہّ و اقارب سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اپنی ذوق کی تسکین کیلئے گھر کا سارا سامان وقف کر دیتے ہیں۔ گھر میں لوازمات نہ رہیں تو دوسرے لوگوں اور سرکاری املاک مثلاً سائن بورڈ اور گٹروں کے ڈھکن چرا کر فروخت کرتے ہیں تا کہ دو وقت کا نشہ مل سکے۔
باغِ بہشت کی سیر کرتے ہیں۔ نماز کے قریب نہیں جاتے کیونکہ نشے میں نماز کی ممانعت ہے۔ انسان مختلف جانوروں کو بھی نشہ کا عادی بنا کر تماشہ دیکھتا ہے۔ مرغوں اور بکروں کو چرس کا عادی بنایا جاتا ہے۔ اک طبقہ نسوارخوری کے موجب کافی بدنام ٹھہرا ہے کیونکہ ان کی زیست کا حاصل نسوار ہے۔ ان کے دانشوروں کا فلسفہ ہے کہ روئے زمین پر نسوار ہی واحد نعمت ہے جسے کسی کی ہتھیلی سے اٹھاتے وقت لینے والا کا ہاتھ، دینے والے ہاتھ سے اوپر ہو جاتا ہے حالانکہ دینے والا ہاتھ ہی ہمیشہ اوپر رہتا ہے۔ نشئی حضرات ہمہ وقت عرش کے مکین رہتے ہیں۔ عام جہازوں کی کیا مجال کہ ان کے مقابل آئیں۔ یہ شاہین کبھی کابل کبھی پشاور تو کبھی سمر قند میں اڑان لیتے ہیں۔ جب پوڈر کے اثرات جاتے رہتے ہیں تو پھر کسی گلی محلے یا فٹ پاتھ پہ اوندھے سیدھے آڑے ترچھے پڑے پائے جاتے ہیں۔ اس پرواز کی دوبارہ تیاری کیلئے گھر کے برتن تک ارزاں فروخت کردیتے ہیں اور منشیات فروشوں کے دروازے پہ نئی پرواز کیلئے ایندھن کے حصول کی خاطرمضطرب نظر آتے ہیں۔ اکثر مدہوش و نحیف حضرات شہر کے گلی کوچوں میں بیٹھ کر انجیکشن کے ذریعے پرواز کیلئے ایندھن کی فراہمی یقینی بناتے ہیں۔ یہ عمل عموماً سگریٹ نوشی سے شروع ہوتا ہے۔
فلموں کے ہیرو کی نقل کرتے کرتے نوجوان سموکر بن جاتا ہے۔ پبلک مقامات،اجتماعات، سرکاری دفاتر ہر جگہ دھواں دھار سگریٹ نوشی ہوتی ہے۔ بقول یوسفی ’’ سگریٹ کے ایک سرے پہ آگ اور د وسرے پہ احمق ہوتاہے‘‘۔ کچھ لوگ سگریٹ کے دو فوائد بھی بیان کرتے ہی۔ پہلا یہ کہ سگریٹ نوش کے گھر چور نہیں آتے کیونکہ وہ ساری رات کھانستے ہوئے جاگ کر گزارتا ہے۔اورسگریٹ نوش بوڑھا بھی نہیں ہوتا کیونکہ بڑھاپے سے قبل ہی گزر جاتا ہے۔ اتنے فوائد کے باوجود نہ جانے کیوں ہماری سرکار سگریٹ پہ گناہ ٹیکس کا نفاذ کررہی ہے۔ کچھ احباب کا توعقیدہ ہے کہ ان کی قسمت میں لکھنے والے نے چونکہ پینا لکھ دیا ہے تو ہم اسکے لکھے کوغلط کیسے کر دیں۔ یہاں ’’پینے‘‘ کی اصطلاح زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہے کیونکہ اس کا اطلاق دیسی، ولائیتی، چرس، افیون، سگریٹ، شیشہ، حقہ، پوڈر اور بھنگ وغیرہ پر برابر ہوتا ہے۔ گویا اس ضمن میں مائع،ٹھوس اور گیس ہر چیز کیلئے ’’پینے کا ‘‘ فعل ہی مستعمل ہے۔ہمارے اک معروف قوال نہ صرف خود کو ببانگ دہل شرابی کہا کرتے تھے بلکہ نہ پینے والوں کو،، ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں،، کا طعنہ بھی مارا کرتے تھے اور بضد تھے کہ نشہ شراب کا نہیں بلکہ انسان کا خاصہ ہے ورنہ بوتل بھی ناچتی۔ ان کی پینے پلانے سے محبت کا عالم ایسا تھا کہ میخانے میں دفنانے کی وصیت تک کر گئے مگر بخوفِ رسوائی دیسی کی بجائے ’’ولائیت،، کی مے سے بات جوڑ لی۔ اک اور صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ نا تجربہ کا ر ناصحین پئے بغیر پینے کے رنگ کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ کبھی کبھا ر تو ناصحین بھی عجب گل کھلاتے گئے بقول شاعر،،
کل رات میکدے میں عجب حادثہ ہوا
زاہد شراب پی گیا میرے حساب میں
حضرت غالب بھی واعظ کو مے خانے کے دروازے پہ دیکھنے کے عینی شاہد تھے۔ خیر ان پرانے قصوں کو چھوڑئیے، اب تو ہر شہر، گاؤں، تعلیمی ادارے اور مزارات ہر جگہ یہ شاہین براجمان ہیں خصوصاََ میلوں ٹھیلوں میں بھنگ سے ٹُن ملنگ حضرات کا رقصِ بسمل دیدنی ہوتا ہے۔ زور دار دھمال کا تو اپنا ہی رنگ ہوتا ہے۔ اک رائے کے مطابق اگر ان ملنگوں پر چھوٹے چھوٹے پاور پلانٹ نصب کر دئیے جائیں تو دھمال کے عمل میں حرکی توانائی سے ہزاروں میگا واٹ بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ادھر آئین کے ایوانوں میں شراب پہ پابندی کے غوغے کا اونٹ نہ جانے کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ درست، مگر اک صاحبِ پرواز شخص نے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ لوگ، لوگوں کا خون پئے جا رہے ہیں، ہم تو محض پوڈر،شراب اور بھنگ ہی پیتے ہیں۔


