وہ فرانسیسی لڑکی خود کش بمبار بننا چاہتی تھی


”بات تو شاید تمہاری صحیح ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ مجھے رُکنا پڑگیا۔ بیرا ہم دونوں کے خالی گلاسوں کو دیکھ کر بکارڈی اور واڈکا کے نئے جام خود ہی لے کر آگیا تھا۔ میری اچھی بات یہ ہے کہ میں کتنا بھی پی لوں کبھی بھی اپنے ہوش و حواس سے باہر نہیں آتا ہوں، چسکی پر چسکی لیتا رہتا ہوں اور اگر کمپنی اچھی ہو تو مستی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ ایک خوشی اور بیگانگی کا احساس، مسائل، پریشانیاں تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی دماغ سے، جسم سے، روح سے جدا ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو جسم، رُوح اور ذہن، دماغ تینوں الگ الگ دنیاؤں میں بادلوں کے اوپر آہستہ آہستہ تیرتے ہوئے پرواز کرتے ہوئے نہ جانے کہاں کہاں گھوم آتے ہیں۔ غالبؔ اورفیضؔ کی بہترین شاعری شاید ان لمحوں کی دین ہے۔ میں نے اسے دیکھا تو ایسا لگا جیسے بکارڈی اس کے چہرے آنکھوں اور وجود پر حاوی ہوچکی ہے، میں سرور میں مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں بھی بڑی گرمجوشی اور سرمستی تھی، نشیلی آنکھوں کا سُرور چھلک چھلک پڑرہا تھا۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ ہی بول پڑی، ”اور یہ جو خودکشی والے حملے ہیں نیویارک سے عراق تک یہ تو بے چارگی کی موت ہیں۔ ان کا شکار ہونے والے معصوم شہری، بے گناہ لوگ، ان کے لیے میرا دل روتا ہے بہت روتا ہے بار بارر وتا ہے اور یہ سوچ سوچ کر اوربھی بے قرار ہوتا ہے کہ ابھی ایسے بے شمار لوگ مریں گے، بے تحاشا مریں گے اور مرتے رہیں گے کیونکہ نا انصافی ختم نہیں ہوگی اور بن لادن ٹوٹے گا نہیں اگر وہ گرفتار بھی ہوگیا تو حالات ایسے ہیں کہ مزید بن لادن بن جائیں گے، نکل آئیں گے ان کھنڈروں سے جہاں موت ناچ رہی ہے۔ تم نے بن لادن کی تصویر دیکھی ہے؟“ اس نے غور سے مجھے دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا۔

”ہاں دیکھی ہے کئی دفعہ دیکھی ہے۔“ میں نے جواب دیا تھا۔

”اس کی آنکھوں میں کچھ ہے، بے رحمی، سنگین بے رحمی ایسی ہی جیسے بش کی آنکھوں میں ہے، حملہ ہر حالت میں حملہ اور اس بے رحمی اورحملے میں لوگ مرتے رہیں گے، لندن میں موصل میں، میڈرڈ میں، بغداد میں۔ یہ بڑا افسوسناک ہے بہت افسوسناک۔ دنیا بن لادن اور بش لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔“

کسی یورپین سے اس قسم کی باتوں کی توقع نہیں تھی مجھے مگر وہ سب کچھ کہہ گئی تھی۔ ایسی باتیں جو کراچی کی گلیوں میں لوگ کرتے ہیں، جو قاہرہ کے بازاروں میں ہوتی ہے، جو بغداد کے گھروں میں کی جاتی ہے یہ کیسی فرنچ ہے۔ پہلے کیا کہہ رہی تھی اب کیا کہہ رہی ہے۔ کیا میں نشے میں کچھ اور سن رہا ہوں یا وہ نشے میں کچھ اور بول رہی ہے۔ ”I thought you hate muslims۔ یہی کہا تھا نا تم نے کہ تم مسلمانوں سے نفرت کرتی ہو۔ لیکن کہہ رہی ہو یا میں غلط سن رہا ہوں۔“ میں اپنے تعجب کونہیں چھپاسکا تھا۔

”وہ تو میں کرتی ہوں شدید نفرت، مسلمانوں سے گھن آتی ہے مجھے۔“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ بکارڈی کا ایک بڑا گھونٹ لیا، اس نے پھر میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ”نائیجر کا نام سنا ہے تم نے۔ صومالیہ اور ایتھوپیا سے ملا ہوا ملک ہے۔ مسلمان ملک۔ محمد حسین، فاطمہ، علی احمد، عائشہ، مریم اورعمر نام کے لوگ رہتے ہیں۔ سارے مسلمان۔ میں وہاں سے آئی ہوں تین دن ہوئے اور اب پرسوں پیرس چلی جاؤں گی۔ چھ ماہ سے کام کررہی تھی وہاں آفت زدہ علاقوں میں۔ میں ڈاکٹر ہوں اور وہاں امدادی کام کرنے گئی ہوئی تھی۔“

”پتہ ہے تمہیں لوگ کیسے مررہے ہیں وہاں۔ مسلمان لوگ؟ قتل نہیں ہورہا ان کا، کوئی بم نہیں پھینک رہا ہے ان پہ، وہ سب بھوک سے مررہے ہیں بھوک سے، فاقے سے، اناج کی کمی سے، پانی نہ ہونے کی وجہ سے۔ میں نے لوگوں کو پگھلتے ہوئے دیکھا ہے، وہ چھوٹے چھوٹے چھ سال سات سال آٹھ سال کے بچّے، نوجوان ہوتی ہوئی لڑکیاں اپنے پچکے ہوئے گالوں، اپنی دھنسی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ہمارے کیمپ میں آتی ہیں اور مرجاتی ہیں۔ خواہش اُمنگیں تمنائیں لیے ہوئے۔ نہیں بچا سکے انہیں ہم لوگ، وہاں یہی کچھ ہورہا ہے، بھوک اور بیماری سے لوگ مررہے ہیں، بے وقت کی موت، بے حساب کی موت۔“

”دوسری طرف تمہارے سعودی عرب میں جتنا کھانا پھینکا جاتا ہے اتنے کھانے سے ان سب کا پیٹ بھرسکتا ہے۔ سارا سال۔ لندن اور پیرس کے جواخانوں میں سعودی شہزادے جتنا ہار جاتے ہیں اس سے بھی کم میں ان کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ سعودی عرب، دبئی، ابوظہبی، کویت ان تیل والے ملکوں کی ایک دن کی آمدنی سے یہ سارے بچّے، عورتیں، مرد، بوڑھے بچ سکتے ہیں۔ مگر وہ سب مررہے ہیں اور مریں گے ہماری آنکھوں کے سامنے۔ میں نے کل لندن میں ایک جلسے میں بھیک مانگی ہے ان کے لیے اور اس ہفتے کے آخر میں پیرس میں بھیک مانگوں گی ان کے لیے۔ ان مرتے ہوئے بچوں کی تصویریں دکھا کر اور واپس جاؤں گی تو وہ مرچکے ہوں گے۔ محمد حسین، فاطمہ، عائشہ، عمر، مریم نام والے مسلمان۔ دوسری جانب تیل نکل رہا ہے، جوئے خانے چل رہے ہیں۔ دنیا بھر سے عیاشی کی ہر چیز وہاں پہنچائی جارہی ہے۔ معلوم ہے میرا دل کیا کرتا ہے؟“ اس نے مجھے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا اور سوال کیا تھا۔

”کیا کرتا ہے؟“ میں نے بھی خفت آمیز لہجے میں مسکرا کر ہی سوال کا جواب سوال سے دیا تھا۔

”میں بھی خودکش بمبار بن جاؤں، اپنے جسم پر بارود لپیٹ کر کبھی جدہ کے محلوں میں پھٹُوں، کبھی ابوظہبی کے ایوانوں میں پھٹوں، کبھی کویت کے قلعے میں پھٹوں، کبھی برونائی کے دربار میں پھٹوں، تباہ کردوں ان سارے حکمرانوں، شہنشاہوں، بادشاہوں کو ان کے محلوں کے چراغوں کو ہمیشہ کے لیے بجہادوں پھر محمد، حسینوں، فاطماؤں، عائشاؤں اور مریموں کے، بار بار نائیجر میں مرنے کا کوئی دکھ نہیں ہوگا مجھے۔“ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

مجھے ایسا لگا جیسے بکارڈی اس کے دماغ میں بھرگئی ہے نشہ چڑھ گیا ہے اتنا زیادہ کہ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا وہ کیا کہہ رہی ہے، میں نے آنکھیں بند کرکے کرسی کے سرہانے پر سر ٹکا دیا۔ نشہ کرنا صحیح نہیں ہے، صحیح منع کیا گیا ہے ہمارے مذہب میں، نشہ بُرا ہے، نشہ گناہ ہے نشہ گناہ ہے، نشہ گناہ ہے۔ عجیب باتیں سوچتا ہے آدمی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے کار کی باتیں۔ خود کش حملہ آور بننے کی باتیں۔ جان دینے اور جان لینے کی باتیں۔ میرا سر پہلی دفعہ نشے میں چکرایا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2