پرورش سے علامہ بنتے ہیں!
خدارا اپنی اولاد کی نہایت خوش اخلاقی اور مکمل دھیان سے تربیت کریں اگر کوئی چاہتا ہے کہ میرا بیٹا انسانیت کے حامل اور اعلیٰ اخلاق کا مالک ہو تو اولاد کی اس طرح پرورش کریں کہ معاشرے کے لیے ایک مثال بنے۔ اولاد کی اچھی تربیت سے ان کا مستقبل بہتر ہوگا وہ کم عمری میں یہ سیکھ پائیں گے کہ ہمیں کچھ بننا ہے معاشرے میں نام کمانا ہے۔
کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اولاد کو سب سہولتیں مہیا کریں، مقصود یہ ہے کہ اولاد کے ساتھ کم از کم دن میں آدھا گھنٹہ بیٹھیں کہ وہ کیا کرتا ہے، کہاں کھیل کود میں مصروف رہتا ہے؟ کن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ صرف بچے پیدا کرنا مسئلے کا حل نہیں ان کی پرورش بھی کچھ معنی رکھتی ہے۔ بچے کی پرورش میں 80% والدین کا ہاتھ ہوتا ہے خصوصاً ماں کا، اگر ماں تعلیم یافتہ (دینی و دنیاوی) ہو تو پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا۔
اکثر والدین بچوں کے رویوں سے عاجز آچکے ہوتے ہیں ٬ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے فرمانبردار ہوں مگر جتنا بولنے میں آسان لگتا ہے اتنا دراصل ہوتا نہیں ہے۔ بچے والدین کی تمام باتیں نہ آرام سے سمجھتے ہیں اور نہ مانتے ہیں اکثر وہ ضدی اور چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔ اور پھر یہ چڑچڑا پن ان کی طبعیت کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے۔
تربیت میں بے جا لاڈ پیار اور بے جا سختی خرابیاں پیدا کر دیتی ہے۔ گھر کے ماحول کا بچوں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول خوشگوار ہوگا تو بچوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اگر اس کے برعکس ہوں گے تو بچے نفسیاتی مریض بن جائیں گے، ان کے معصوم ذہن کچلے جائیں گے اچھائی برائی کی تمیز نہیں سیکھ سکیں گے۔
خصوصاً اپنے علاقے کے لوگوں کو عاجزانہ گزارش ہے اپنے لیے خود مستقبل بنانے کی کوشش کریں۔ اپنی اولاد کے اوپر رحم کریں کم عمری میں مزدوری کرنے نہ بھیجیں خود بھوکا پیٹ سو جائیں، مگر اولاد کو تعلیم سے دور نہ رکھیں تاریخ گواہ ہے آج تک مغرب اس وجہ سے ترقی کرتا آرہا ہے کہ وہاں بچہ پیدا ہونے سے پہلے ان کے والدین کو پتا چلتا ہے کہ بچہ آگے جاکے کیا بنے گا۔


