بسنت میلہ کا انعقاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بسنت کا تہوار بھارت اور پاکستان دونوں جانب کی پنجاب ریاستوں میں مقبول ہے۔ یہ تہوار تاریخی طور پر راجا رنجیت سنگھ کے دور میں بہار کا خیرمقدم کرنے کے لیے منائی جاتی تھی۔ بسنت کے موقع پر دھاتی دھاگوں کے استعمال سے بعض ہلاکتوں کے باعث پاکستانی پنجاب میں پچھلے بارہ سال سے بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد دی تھی جسے گزشتہ روز ختم کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے بسنت منانے کے اعلان سے نوجوانوں میں تو اس فیصلے سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن کیا بسنت فیسٹیول اتنا ضروری ہے کہ اس کے لئے انسانی جانوں کی قربانی دی جائے؟ پنجاب حکومت کو حتمی فیصلہ لینے سے پہلے چند امور کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان کے سیکیورٹی حالات پچھلے کافی سالوں سے بہت نازک چل رہے ہیں۔ غیر ملکی پاکستان آنے سے گھبراتے ہیں۔ پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کا انعقاد بہت کم ہے کہ کوئی بھی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنا محفوظ نہیں سمجھتی۔ پچھلے کچھ عرصے سے ملکی حالات کافی بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ لیکن اگر بسنت منانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس میں غیر ملکی مہمانوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تو سیکیورٹی کے حوالے سے فول پروف انتظامات کرنے ہوں گے تاکہ پاکستان کا ایک مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔

حادثات: بسنت میں شہریوں کو سیکیورٹی سے زیادہ حادثات سے خطرات ہوتے ہیں، جن میں گردن میں ڈور پھر جانا، چھت سے لوگوں کا گرنا، ہوائی فائرنگ سے ہلاکت کے خدشات، اور چھتوں پر پتنگ اڑاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے اموات شامل ہیں۔ کیمیکل لگی ڈور کا استعمال ہی تھا جس نے بسنت کو ایک خوشیوں کے تہوار سے ایک جان لیوا تہوار میں تبدیل کر دیا۔ یہ ڈور خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کے لئے شدید خطرات کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح کے حادثات صرف کھلی شاہراہوں پر ہوتے ہیں کیونکہ تنگ گلیوں اور سڑکوں پر ڈور چھتوں تک رہ جاتی ہے اور نیچے نہیں گرتی۔ پتنگ کا سائز اور وزن بھی ان حادثات میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جتنا بڑا پتنگ ہو گا اتنا ہی ڈور میں تناؤ زیادہ ہو گا اور وہ زیادہ خطرناک ہو گی۔

حکومت اس سب میں کیمیکل ڈور پر پابندی، پتنگ کو ایک خاص سائز تک محدود کرنا، کھلی شاہراہوں پر بسنت کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی، شہریوں کو میڈیا کے ذریعے ان تمام خطرات سے مکمل آگاہی کی بدولت ان حادثات میں کمی کر سکتی ہے لیکن اس میں شہریوں کو بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا۔

بسنت فیسٹیول صرف پتنگ بازی تک محدود نہ ہے، اس فیسٹیول میں بہار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ جس میں مختلف میلے، جشن بہاراں، رقص و موسیقی کی محفلیں، ہارس اینڈ کیٹل شو، مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات، اور کھانے پینے کے درجنوں پکوان شامل ہیں۔ اس فیسٹیول میں لاہور میں مختلف کاروباری حضرات جن میں ہوٹل، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، پتنگ اور ڈور بنانے والے حضرات کا کام عروج پر ہوتا ہے۔ بسنت میلہ دنیا کی نظر میں ملک کا روشن چہرہ دکھانے اور ملک میں مثبت فضا بنانے کا بہت اچھا ذریعہ ہے، لیکن اس کے انعقاد میں حکومت کو انتہائی درجہ احتیاط اور بہترین پلاننگ کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •