بے جرم مسیحائی کی سزا ہم کو ملی ہے۔۔۔۔
ڈاکٹرز اور طب کے شعبے میں کام کرنیوالے افراد کے ساتھ ناروا سلوک کیوں۔
میڈیکل کی فیلڈ کو دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور شعبہ طب میں کام کرنے والے افراد کو بھی بے حد عزت و احترام دیا جاتا ہے لیکن گذشتہ کچھ برسوں میں یاسا لگتا ہے کہ یہ عزت و احترام گئے زمانے کی بات ہوگئی ہے اور جہاں لوگوں کے انداز و اطوار میں تبدیلی آئی ہے اسی طرح ان کے رویوں میں بھی خاصی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور لوگوں کی سوچ اور ان کے عمل میں انتشار دکھائی دینے لگا ہے۔ معاشرے کے افراد اپنے ہر در عمل کا اظہار شور شرابے اور چیخ و پکار سے کرنے لگے اس صورتحال کا فائدہ چند سیاستدانوں نے بھی خوب اٹھایا اور لوگوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔
ایک وقت وہ بھی آیا جب دیگر شعبوں سے ہوتے ہوتے احتجاج کی سیاست نے طب کے شعبے میں بھی قدم رکھ دیا۔ کبھی دیکھا جانے لگا کہ پیدا میڈیکل اسٹاف اپنے حقوق کے لیے احتجاج کررہا ہے تو کبھی مریض توجہ نہ ملنے پر ہیلتھ کیئر اسٹاف کے خلاف اٹھ کھرے ہوئے ہیں۔ یہ وہ صورتحال تھی کہ جس میں مکمل طور پر کسی بھی ایک فریق کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ تاہم خرابی بہرصورت ہورہی تھی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ میڈیا ڈاکٹروں یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی جانب سے کیے جانے والے احتجان کی خبریں یا ایسی خبر جس میں کسی بھی طرح سے ڈاکٹروں کی کوئی غفلت شامل ہو اس کا ذکر تو بڑھ چڑھ کر کرتا ہے لیکن جب شعبہ طب میں کوئی مثبت قدم اٹھایا جاتاہے تو اس کا ذکر شاز و نادر ہی منظر عام پر آتا ہے۔ ڈاکٹروں کی اچھی کارکردگی کو کبھی بریکنگ نیوز کیوں نہیں بنایا جاتا؟
یہاں یہ بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ ہیلتھ اسٹاف کی اصطلاح کن لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ہیلتھ کیئر اسٹاف میں کسی بھی ہسپتال میں کام کرنے والا وہ عملہ شامل ہوتا ہے جو ڈاکٹر تو نہیں ہو تا تاہم کسی بھی مریض کو صحت کے حوالے سے سہولیات فراہم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ چاہے وہ نرسیں ہوں، پیرا میڈیکل اسٹاف ہو یا دیگر کسی شعبے سے وابستہ کوئی شخص ہو۔ شعبہ طب میں خدمات انجام دینے والے یہ تمام لوگ بھی اتنی ہی محنت اور جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں جتنے کے کوئی ڈاکٹر کرتا ہے۔ تاہم ان کی بد نصیبی کہیں یا زمانے کی ستم ظریفی کہ عوام الناس پیرا میڈکس کے شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات تسلیم کرنے کو آج بھی تیار نہیں بلکہ جہاں کوئی مسئلہ ہوتا ہے یہ لوگ اپنا سارا غصہ اسپتال کے عملے پر نکالنے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔
حال ہی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے مشترکہ طور پر ایک سروے کا آغاز کیا ہے جس میں ہیلتھ کیئر اسٹاف پر ہونے والے تشدد کے واقعات کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ اس سروے کے لیے ملک بھر میں ہونے والے شعبہ طب کے عملے کے ساتھ نارووا سلوک کے واقعات کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا جس کے بعد ایسے واقعات کی روک تھا م کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور ریڈکراس کے تعاون سے کیے جانے والے اس سروے کا پہلا مرحلہ اب تک مکمل کرلیا گیا جس میں ابتدائی طور پر ڈیٹا جمع کیا گیا ہے۔
اس سروے کے ذریعے پوری دنیا میں اس وقت ہیلتھ کیئر اسٹاف کو لاحق کو سیکیورٹی خطرات کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ یہ سروے ملک کے تین بڑے صوبوں میں کروایا جائے گا جس کے لیے آٹھ ہزار ہیلتھ ورکرز کی مدد لی جائے گی۔ اس سلسلے میں خیبر یونیورسٹی پشاور، اسرا یونیورسٹی اسلام آباد اور لاہور میڈیکل یونیورسٹی بھی ڈیٹا جمع کرنے میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کریں گی۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر لبنیٰ بیگ جو اس منصوبے کی چیف انویسٹی گیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سروے کی بنیاد پر ہیلتھ کیئر اسٹاف پر کیے جانے والے تششد کی وجوہات جاننے میں مدد ملے گی جس سے کہ معاملے کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ جب تک شعبہ طب کے عملے کی حفاظت کے لیے ادارے اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تب تک معاملات میں تبدیلی نہیں آسکتی ساتھ ہی ساتھ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عوامی سطح پر لوگوں میں بھی یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ عدم برداشت کا رویہ معاشرے کے لیے کسی بھی صورت میں فائدہ مند نہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ جب کسی کا کوئی اپنا کسی بھی بیماری یا حادثے کی صورت میں اسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اس کے اعزا و اقربا کی یہ ہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے عزیز کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات حاصل ہوں اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
ایسا اکثر کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ مریضوں کے رشتے دار خود بھی ڈاکٹرز یا دیگر عملے کے لیے درد سر بن جاتے ہیں، بار بار سوال کرنا، اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرنا بلاضرورت شور شرابا اور ایسے ہی کئی مسئلے جن کی وجہ سے اسپتال کے عملے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ہی نہیں اگر کسی مریض کا کوئی رشتے دار اسپتال آکر دم توڑ دے تب تو مریض کے لواحقین اسپتال کے عملے کو ہراساں کرنا یا ان کے ساتھ نارووا سلوک اختیار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
یہاں ہمارا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ ہمیشہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ زیادتی ہی ہوتی ہے یا وہ ہمشہ اچھا کام کررہے ہوتے ہیں اکثر صورتوں میں مریضوں کے ساتھ بھی زیادتی ہورہی ہوتی ہے تاہم دونوں ہی صورتوں میں تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔ اپنے پیاروں کو جان کی بازی ہارتے دیکھنا ایک بے حد تکلیف دہ عمل سہی تاہم پھر بھی اس کے سزا یا جزا کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لینا بھی کوئی
عقل کی بات نہیں۔ غلطی کسی بھی طرف سے ہوسکتی ہے۔
یہاں یہ امر بی قابل غور ہے کہ ہیلتھ ورکرز یا عملے کے ساتھ ہونے والے واقعات میں اکثر شر پسند عناصر بھی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر ڈالتے ہیں، پولیو ویکسینیشن ٹیم پر ہونے والے متعدد حملے انھیں واقعات کی مثال ہیں۔ اب ان معاملات کا حل نکالنا تو شاید ہمارے اختیار میں نہیں تاہم جو چیز ہامرے اختیار میں ہے وہ معاشرے عدم برداشت کا رویہ ختم کرنا۔ لوگوں کو یہ بات سمجھانا بھی ضروری ہے کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کو اگر ان کی ذمے داریاں سکون سے انجام دینے دین گے تو یہ ناصرف مریض کے لیے بہتر ہوگا بلکہ عمومی طور پر سب ہی لوگ اطلماین سے اپنا کرم کرسکیں گے اور عملے کو بھی مریض کے تیمارداروں سے شکایت نہیں ہوگی۔ ایک بار کوشش تو کرکے دیکھیں شاید کہ کسی کے دل میں اتر جائے یہ بات۔


