اسلام آباد کے طلبہ و طالبات کے لئے منشیات کا حصول مشکل یا آسان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل وزیر داخلہ شہر یارآفریدی نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف تعلیمی اداروں میں منشیات کے مکروہ دھندے کے بارے میں ہوش ربا انکشافات کیے تو میڈیا میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بتائے گئے اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی کہا گیا۔ منشیات کی لعنت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انتہائی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ لیکن کیا ملک کے دارالحکومت میں منشیات کا حصول اتنا ہی آسان ہے اور تعلیمی درسگاہوں تک ان جرائم پیشہ عناصر کی دسترس کیسے ہوتی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی درس گاہ قائد اعظم یونیورسٹی منشیات فروشوں کا سب سے بڑا ٹھکانہ سمجھی جاتی ہے، یونیورسٹی کے گیٹ سے لے کر اس کے ہاسٹلز تک شراب، آئس اور ہر طرح کا نشہ باآسانی دستیاب ہوتا ہے اور اگر شام کے وقت یہاں جائیں تو آپ یونیورسٹی کے اندر گلی کے نکڑوں پر شراب کی بکھری ہوئی بوتلیں پائیں گے۔ جامعہ میں طالب علم کھلے عام چرس و آئس کا ستعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ منشیات آتی کہاں سے ہیں اور کئی ناکوں سے گزر کے ریڈ زون عبور کرتے ہوئے منشیات فروش پہنچتی کیسے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں وفاقی پولیس کے کئی اہلکاروں کو ریڈ زون میں منشیات فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا ان پر پرچے بھی کٹے لیکن لکیر کی فقیر پولیس ان کے پشت پناہوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں رہی۔ وفاقی پولیس نے گزشتہ کچھ عرصہ میں مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 402 کلو گرام چرس، 80 کلو ہیروئن، 30000 بوتل شراب سمیت اربوں روپے کی منشیات بر آمد کی۔ اسے کارکردگی کے طور پر ظاہر کرنے والی مثالی پولیس پر اسلام آباد سے اس قدر منشیات کی برآمدگی بذات خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔

شہر کے تمام پوش علاقوں میں شیشہ کیفے کے نام سے سنٹرز کھل گئے ہیں جہاں طرح طرح کا زہر نوجوان نسل کی رگوں میں گھولا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان شیشہ سنٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہاں کئی غیر ملکی رہائش پذیر ہیں اور منشیات کے زیادہ تر دھندوں میں انہی کا ہاتھ پایا گیا ہے۔ یہاں موجود ڈورے گاؤں جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جنازہ پڑھتے وقت بھی لوگ منشیات کے سودے کر رہے ہیں پولیس اس طرف کارروائی سے گریزاں ہے اور کئی افسران اسے پولیس کے بس سے باہر کا کھیل قرار دے رہے ہیں۔

راولپنڈٰی کے علاقہ میں بندہ ناچیز نے منشیات فروشوں کے خلاف سٹنگ آپریشن کیا تھا وہاں آپ جائیں تو اندرون شہر کی گلیوں میں پھلوں کی طرح ریڑھیوں پر منشیات سر عام بک رہی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہاں منشیات فروش علاقہ ایس ایچ اوز کو لگوانے کا سر عام دعوی کر رہے ہوتے ہیں۔ راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال اور پیر ودھائی کی دیواروں کے ساتھ منشیات فروشوں کے جتھے آپ کو ہر وقت دکھائی دیں گے۔

جب میں نے اپنے سٹنگ آپریشن سے قبل پولیس کو آگاہ کیا تو یقین مانیں وہ منشیات فروش جو کئی سالوں سے مجھے ہزارہ کالونی سمیت تھانہ رتہ امرال و گردونواح میں نظر آتے تھے منظر سے غائب تھے جو کہ میرے لئے حیران کن تھا۔ ایک ماہ کے بعد پولیس کو بتائے بغیر جب وہاں گیا تو سب کچھ ویسے کا ویسے پایا۔ ہزارہ کالونی، ڈورے سمیت مختلف علاقوں میں آپ کو ہر وقت یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات کا رش نطر آئے گا اور شہر یار آفریدی صاحب کے کہنے کے عین مطابق طلبا کے بیگز میں کتابوں کی جگہ منشیات بھری جا رہی ہوتی ہے۔ یہ چند حقائق تھے جن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن وزیر داخلہ صاحب اب آپ اپوزیشن میں نہیں ہیں اللہ نے آپ کو طاقت دی ہے اتنی نشاندہی کے بعد بھی کوئی کارروائی نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •