میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان اور ایسٹبلشمنٹ اس معاملے میں حکومت آنے سے بھی پہلے ایک پیج پر تھے کہ ”ایماندار و صالح“ قیادت کے آتے ہی جیسے اوورسیز پاکستانیوں سے انہیں ڈالرز کی برسات کی امید تھی۔ اسی طرح یقین کامل کی حد تک انہیں یہ غلط فہمی بھی تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد انہیں سرکاری ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوتے ہی کرپشن کے ہوشربا کیسز ملیں گے۔ یہ زرداری نواز سمیت سب خائنوں کو الٹا لٹکا کر پیسے نکلوائیں گے۔ ایک طرف ان کے ووٹر خوش ہوں گے تو دوسری جانب خزانہ بھر جائے گا۔

کرپشن افسانوں کو مقتدرہ اور خان نے گوئبلز پروپیگنڈے کی طرز پہ اتنا دہرایا کہ ان کے حامی ہی نہیں وہ خود بھی ان افسانوں پہ ایمان لے آئے۔ دونوں بڑی توقعات کو لے کر حکومت کو شاک پہنچا۔ ایک تو اوورسیز پاکستانیوں نے ڈالرز نہیں برسائے۔ دوسری طرف چائنہ سی پیک تا قطر ایل این جی و پنجاب تا ترکی کسی بڑے معاہدے میں کوئی خاص کرپشن نہیں ملی۔

اب ایک تو حکومت پہ ایسٹبلشمنٹ کا دباؤ ہے جنہیں ڈھیر سارا پیسا چاہیے اور بجٹ کے موقع پر شاید ان کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹے۔ دوسرا کرپشن کہانیوں پہ سر دھننے والے اپنے ووٹرز سپورٹرز کا بہت دباؤ ہے۔ تس پہ مستزاد معاملات حکومت میں ان کی نا اہلی و نا تجربہ کاری اور مسائل کے باوجو سابقہ حکومت کی نسبتاً عمدہ کارکردگی کا دباؤ ہے

اس تہرے دباؤ کی شکار حکومت نے آگے نیب وغیرہ ایسے اداروں پہ بے تحاشا دباؤ ڈالا ہوا ہے کیونکہ انہیں ایسٹبلشمنٹ و حکومت کے لئے پیسے اور فیس سیونگ کے لئے کرپشن کیسز چاہئیں۔

بادی النظر میں سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر جاوید اقبال صاحب کی نیب کے کیس میں حراست کے دوران ہلاکت بھی اسی دباؤ کا شاخسانہ لگتی ہے۔ اور اگر یہ تجزیہ درست ہے تو صرف نیب نہیں بلکہ انتظامیہ اور مقتدرہ کے سربراہان بھی پروفیسر صاحب کے بالواسطہ قاتل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •