نندتا داس کی ’منٹو‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر پاکستان میں نندتا داس کی فلم ”منٹو“ کی نمائش پر پابندی نہ لگتی تو واقعی حیرت ہوتی! ان دنوں وطن عزیز میں مختلف و منحرف آوازوں کو خاموش کرانے کی نئی لہر آئی ہوئی ہے۔ منٹو اپنے زمانے کی سب سے منحرف آواز تھے، جسے نوزائیدہ مملکت کے بزرجمہروں نے خاموش کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ نندتا داس نے منٹو کی انحراف پسندی کے کئی مناظر فلم میں دکھا دیے ہیں۔ ان سب کا راست یا بالواسطہ تعلق پاکستان و ہندوستان دونوں ملکوں کی موجودہ صورتِ حال سے ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملک ’مستقل دشمنی‘ کی جس ڈور سے بندھے ہیں، اور جس کے زخم دونوں ملکوں کے عوام کو اکہتر سے زائد برسوں سے جھیلنے پڑرہے ہیں، منٹو نے اس ڈور کے ایک ایک دھاگے، دھاگہ ساز کارخانوں کے پتے کے ساتھ اپنے افسانوں میں پیش کردیا تھا۔ ’ہم کس جہنم میں اور کیوں جینے پر مجبور ہیں‘ منٹو نے ہمیں بتادیا تھا۔ بھلا ایسے سفاک مصنف کو وہ صاحبان اختیار کیوں برداشت کریں، جن کی بقا ہی اس جہنم کو دہکائے رکھنے پر ہے۔

اگر یہ سچ ہے کہ ایک تصویر ہزاروں لفظوں سے زیادہ گویا ہوتی ہے تو یہ بھی سچ ہے کہ ایک فلم، کئی کتابوں سے زیادہ مؤثر ابلاغ کرتی ہے۔ شایداسی لیے منٹو کی کتابیں ہمیں قبول ہیں، مگر انھی کتابوں پر مبنی فلم قبول نہیں۔ ایک اور بات بھی ہے۔ کتاب کو کوئی کوئی پڑھتا ہے اور تنہائی میں پڑھتا ہے، مگر سینما میں چلنے والی فلم تو سب دیکھتے یا دیکھ سکتے ہیں۔ کتاب کا سچ برداشت ہوسکتا ہے، سب کے سامنے آنے والا سچ بھی اگر برداشت کیا جانے لگے تو سمجھیے وہ ملک تہذیبی ترقی میں کئی قدم آگے نکل گیا۔ ہمیں اتنا تو ماننا چاہیے کہ ہم آگے نہیں بڑھے۔ آدمی اور قوم آگے بڑھتے ہیں یا پیچھے ہٹتے ہیں۔ ذہنی و تہذیبی ترقی میں ایک ہی مقام پر رکنا ایک متھ ہے!

اس فلم میں وہ منٹو نہیں دکھایا گیا جو اس سے پہلے سرمد کھوسٹ کی فلم منٹو میں دکھایا گیا ہے، اور یہی چیز اس فلم کو ”قابل دید“ بناتی ہے۔ پورا منٹو تو خیر نہ پاکستانی فلم میں آسکا نہ ہندوستانی فلم میں۔ منٹو اس جرات سے تو مالا مال تھا جس کے بغیر کوئی تخلیق کار اپنے بنیادی فرض کی ادائی میں ناکام رہتا ہے ؛ بزدل، مصلحت پسند، مقتدرہ کی منشا کو اپنی منشا بنانے والے تخلیق کار نہیں، منشی ہوتے ہیں۔ منٹو جرات مند ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی طور پر متنوع بھی تھا۔

پارٹیشن اوراس کے متوقع مگر دونوں نو زائیدہ ملکوں کی طرف سے نظر انداز کردہ عواقب کا سب سے بڑا، سب سے سفاک افسانہ نگار تو وہ ہے ہی، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ اس کی افسانوی اور غیر افسانوی تحریروں میں ہے۔ جنس، مذہب، سیاست، مسلط کی گئی اخلاقی قدریں اور طاقت کس طرح انسانی وجود کو تار تار کرتے ہیں، اور کس طرح انسان اپنی بنیادی انسانی شناخت کو بچانے کی سعی کرتا ہے اور کس طرح وہ کبھی مضحکہ خیز انجام سے دوچار ہوتا ہے اور کس طرح کبھی اسے ایک اپنی طرز کا المیہ اپنا شکار بناتا ہے، لیکن وہ آخری سانس تک اس انسانی وقار کی حفاظت کرتا ہے، جس کا تعلق نہ اس کی قوم سے ہے، نہ مذہب سے، نہ اس کے پیشے سے، نہ اس کے جینڈر سے، بلکہ صرف اس کے خاکی انسان ہونے سے ہے۔

اسی طرح کولونیل ہندوستان برطانوی سامراج سے نبرد آزما تھا اور پوسٹ کولونیل پاکستان نئے امریکی سامراج کے پنجوں میں گرفتار ہورہا تھا، یہ سب منٹو کی پیغمبرانہ متخیلہ کے راستے، اس کی تحریروں میں، کبھی سنجیدہ اسلوب میں اور کبھی طنزیہ انداز میں ظاہر ہورہا تھا۔ یہ تھا منٹو۔ دوگھنٹے کی کسی مووی میں یہ منٹو کیوں کر پیش ہوسکتا ہے!

منٹو پر پاکستانی اور ہندوستانی فلموں میں فرق، صرف دونوں ملکوں میں منٹو سے متعلق عمومی تنقیدی تصورات کا فرق نہیں ہے، بلکہ فلم سازی کی تیکنیک اورمہارت کا فرق بھی ہے اور یہ فرق زیادہ بڑا ہے۔ نندتاداس کی فلم سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فلم سازی کے آرٹ کا گہرا شعور رکھتی ہیں۔ کس سین کو کتنی دیر دکھاناہے، مختلف سینز میں وقفوں کا اہتمام کیسے کرنا ہے اور ان کے درمیان تعلق کیسے قائم کرنا ہے، کس طرح کی موسیقی پس منظر میں جاری کرنی ہے، پارٹیشن اور بعد کے مناظر کو کیسے ان کی تاریخی سچائی کے ساتھ پیش کرنا ہے۔

کہاں منٹو کو اور کہاں اس کے کس افسانے کے کس ٹکڑے کی ڈرامائی تشکیل دکھانی ہے، اس سب کا وہ گہرا ادراک رکھتی دکھائی دیتی ہیں۔ فلم میں جہاں لاہور میں ’ٹھنڈا گوشت‘ پر مقدمے کی کارروائی شروع ہوتے دکھائی گئی ہے، وہیں اس فسانے کا وہ منظر فلمایا گیا ہے جہاں ایشر سنگھ کلونت کور کو پھینٹنے کے باوجود پتا نہیں پھینک سکتا۔ یعنی ٹھیک وہ منظر جسے فحش قرار دے کر اس افسانے پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہونے کے باوجود ہماری حکومت، اس طرح کے مناظر کو برداشت کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی، اور یہ سوچنے پر بھی تیار نہیں کہ آرٹ میں انسانی وجودکی اس نوع کی پیچیدگیوں کی ترجمانی کو گوارا کرنے ہی سے شدت پسندی کے متبادل بیانیے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔

لیکن کیا واقعی ہمیں متبادل بیانیہ چاہیے؟ عہد وسطیٰ کے مسلمانوں اور جدید مغرب کی تاریخ سے ثابت ہے کہ مذہبی شدت پسندی کا متبادل اگر کوئی انسانی سرگرمی ہوسکتی ہے تو وہ آرٹ ہے۔ واضح رہے کہ مذہب اور آرٹ میں کوئی بنیادی جھگڑا نہیں۔ جھگڑا مذہبی سیاست، مذہبی شدت پسندی سے شروع ہوتا ہے۔ فلم میں اس مقدمے کی کارروائی کو نسبتاً تفصیل سے دکھایا گیا ہے، یہ واضح کرنے کے لیے کہ منٹو صرف سیاسی مقتدرہ کے عتاب کا نشانہ نہیں تھا، اپنے ہمعصر ادیبوں کے خود راستی پر مبنی استبدادی رویوں کا شکار بھی تھا۔

منٹو کو فیض کا یہ جملہ سخت تکلیف دیتا ہے کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ فحش نہیں ہے مگر لٹریچر بھی نہیں۔ منٹوکو صفیہ کے سامنے اپنی اس تکلیف کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس سے دوباتیں نندتا داس باور کرانا چاہتی ہیں۔ ایک یہ کہ لاہور میں کوئی ادیب منٹو کا درد بانٹنے کو موجود نہیں تھا۔ دو یہ کہ منٹو کے لیے مقدم اپنی آرٹسٹ کی حیثیت تھی۔ منٹو کا کمال یہ بھی ہے کہ اس نے اس مناقشے کا خاتمہ کیا جو آرٹ براے آرٹ اور آرٹ براے زندگی کے نعروں کا پیدا کردہ تھا۔

جسے آرٹ کہتے ہیں وہ ہے ہی انسانی دنیا کی چیز۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ انسانی دنیا کا تصور کتنا وسیع اور گہرا رکھتے ہیں۔ عدالت میں بھی منٹومقدمہ خالص فنی بنیادوں پر لڑتا ہے۔ اس کے لہجے میں جس تلخی کو دکھایا گیا ہے، اس سے منٹو کے لیے قدرے ترحم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، فلم بین کو یہ بات ذرا چبھتی ہے۔ فلم میں شروع سے آخر تک منٹو اور صفیہ کو ایک دوسرے کا سچا ہمدرد دکھایا گیا ہے، سوائے دو ایک مواقع کے، جہاں دونوں میں معمولی سی رنجش دکھائی گئی ہے۔ ایک جب منٹو اپنی بیٹی کی دوا لانے میں ناکام ہوتا ہے۔ اور جب منٹو کی بیٹی اس کے منھ سے شراب کی بو کا ذکرکرکے دور چلی جاتی ہے۔ دونوں واقعات قیام پاکستان کے بعد کے لاہور میں دکھائے گئے ہیں۔

منٹو اس فلم کا موضوع ضرور ہے، مگر یہ ہے بہر حال ایک فلم، منٹو پر ڈاکومینٹری نہیں۔ فلم میں زیادہ فوکس منٹو کے پارٹیشن سے پہلے ممبئی میں قیام اورپارٹیشن کے بعد لاہور میں قیام پر کیا گیا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ممبئی میں منٹو کے قیام کا زمانہ اس کی سماجی اور ذاتی زندگی کا خوشگوار زمانہ تھا، مگر لاہور میں اس کا ایک ایک دن اس کی تکالیف میں اضافوں کا موجب تھا، تاہم دونوں جگہوں پر منٹو کا قلم ایک سی تخلیقی قوت کے ساتھ رواں رہا۔

لاہور میں منٹو نے بہت دکھ اٹھائے، صحت کی مسلسل خرابی سے لے کر معاشی تنگ دستی اور ترقی پسندوں اور اسلام پسندوں کی تنقید تک۔ یہ سب فلم میں دکھایا گیا ہے، مگر کہیں بھی منٹو اپنے وقار کو مجروح کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ لاہور میں جب اس کی ملاقات شیام سے دکھائی گئی ہے تو وہ شیام کے کہنے پر اپنا گھٹیا سگریٹ پھینک کر شیام سے بڑھیا سگریٹ قبول کرلیتے ہیں، مگر روپے نہیں۔ حالاں کہ اسے ان کی اشد ضرورت تھی۔

فلم میں منٹو کی زندگی اور افسانوں کو مہارت سے جوڑا گیا ہے۔ فلم کے آخری حصے میں مینٹل ہسپتال لاہور میں منٹو کو دکھایا گیا ہے۔ وہیں اسے شیام کی حادثاتی موت کی خبر پڑھنے کو ملتی ہے اور وہیں ٹوبہ ٹیک سنگھ کا افسانہ شروع ہوتا ہے۔ فلم میں اس افسانے کے جن مکالموں کو پیش کیا گیا ہے، ان کی معنویت آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ بش سنگھ کی نو منیز لینڈ پر موت کے منظر کے ساتھ ہی فلم ختم ہوجاتی ہے اور اپنے پیچھے سوالات کا ایک طویل سلسلہ چھوڑتی ہوئی! منٹو کی موت نہیں دکھائی گئی۔ منٹو کو موت ہوئی ہی کہاں ہے!

نواز الدین صدیقی (منٹو)، راسیکا دگل ( صفیہ ) اور طاہر راج ( شیام ) راج شری دیش پانڈے ( عصمت چغتائی ) نے بہت عمدہ اداکاری کی ہے۔ جاوید اختر نے عابد علی عابد کا نہایت مختصر کردارادا کیا ہے۔ تاہم پوری فلم پر نوازلدین صدیقی اور راسیکا دگل چھائے نظر آتے ہیں۔ کہیں کہیں راسیکا دگل، نوازلدین صدیقی کو مات دیتی محسو س ہوتی ہے۔

پس نوشت:

شاید پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ ایک پاکستانی نے پابندی کے باوجود کیسے یہ فلم دیکھ لی؟ تو عرض ہے کہ انٹر نیٹ کے زمانے میں کسی شے پر مکمل پابندی ممکن نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •