تبادلہ آبادی اور جنونیت کا رقص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1947 ء کے افسادات اور تبادلہ آبادی کے زمانہ میں جب دہلی کے مسلمان اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر پاکستان جا رہے تھے، تو میرے پاس کئی مسلمان دوستوں کے پیغام پہنچے، کہ میں ان کا مکان کرایہ پر لے لوں۔ کیونکہ یہ دوست سمجھتے تھے، کہ ان کے مکان چھوڑنے کی صورت میں ان کے مکان پر شرنارتھی قابض ہو جائیں گے۔ اور یہ شرنارتھی نہ صرف آئندہ مکان کا کرایہ ادا نہ کریں گے، بلکہ یہ گھر کے اس سامان کو بھی اپنے قبضہ میں کر لیں گے، جس سامان کو یہ پاکستان منتقل نہیں کر سکتے۔

کیونکہ یہ ممکن ہی نہ تھا، کہ یہ گھر کے اس سامان کو کسی دوسری جگہ منتقل کر سکتے، جو سامان یہ پچھلے تیس، چالیس یا پچاس برس میں آہستہ آہستہ جمع کرتے رہے۔ کیونکہ کوئی مکان بھی ایسا نہ تھا، جو گھر کے سامان سے بھرا ہوا نہ تھا۔ میں ان دوستوں کے مکانات کو دیکھنے گیا، تو ایک مکان میں نے پسند کیا، جو پھاٹک مفتی والاں، تراہا بیرم خاں میں تھا، اور جہاں کہ تبادلہ آبادی کے بعد سے اخبار ”ریاست“ کا دفتر اور میری رہائش اخبار کے بند کرنے کے زمانہ تک رہی۔

میں یہ مکان دیکھنے گیا، تو یہ مکان میں نے پسند کیا۔ یہ مکان ماسٹر عبدالمجید مینجر ہمدرد دوخانہ اور ان کے بھائیوں کا تھا۔ جب اس مکان کو دیکھنے گیا، تو وہاں سامان باندھا جا رہا تھا، اور ماسٹر صاحب کے بھائی پاکستان جانے کی تیاریوں میں تھے۔ مکان بہت فراخ تھا، میں نے پسند کیا۔ اور کرایہ کے متعلق بات ہوئی، تو مالکان مکان نے بہت زور دیا، کہ کوئی کرایہ نہ لیں گے، اور میں کرایہ کے بغیر وہاں رہوں۔ میرے لئے یہ ممکن نہ تھا، اور میں نے بغیر کرایہ کے مکان لینے سے انکار کر دیا، تو آخر فیصلہ ہوا، کہ میں پچھتّر روپے ماہوار کرایہ ادا کروں گا۔

میں اپنا سامان اس مکان میں لے آیا۔ اپنے گھر کا جو سامان یہ پاکستان نہ لے جا سکتے تھے، انہوں نے یہ سامان ایک کو ٹھڑی میں بند کر دیا، اور اپنا تالہ لگا دیا۔ کیونکہ یہ جانتے تھے، کہ سامان میری موجودگی میں محفوظ رہے گا۔ چنانچہ یہ سامان غالباً دو برس تک اس کو ٹھڑی میں نکال لے گئے۔ اور ایک دوسری کو ٹھڑی میں ظفر احمد صاحب ( جو میرے ساتھ دفتر ”ریاست“ میں کئی برس تک رفیق کار رہے، اور اب کراچی میں ) نے بھی اپنا سامان بند کر دیا۔

ظفر صاحب بھی غالباً چار برس بعد حالات کے بہتر ہونے پر پرمٹ لے کر اپنا یہ تمام سامان ایک ٹرک میں لاہور لے گئے۔ یعنی میں اس مکان کا پچھتّر روپیہ ماہوار مالکان مکان کو کرایہ ادا کرتا رہا، اور اس کے علاوہ ان کے سامان کی چوکیداری کے فرائض بھی میرے ذمہ تھے، کیونکہ میری موجودگی میں اس سامان میں سے ایک پیسہ کا نقصان بھی ممکن نہ تھا۔

دہلی کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے حلقہ میں جو لوگ مجھے جانتے تھے، یا اخبار ”ریاست“ پڑھتے تھے، ان کے دل میں میرے لئے بہت قدر تھی۔ کیونکہ ”ریاست“ کے ہر زمانہ اور ہر اشاعت میں مظلوموں کے حق میں آواز پیدا کی جاتی۔ ان مظلوموں میں ہندوستان کے عیسائی اور مسلمان وغیرہ بھی شامل تھے، جن پر کیے جانے والے مظالم کو میں برداشت نہ کرتا تھا، اور سچ تو یہ ہے، کہ ان مظالم کو دیکھ کر میرا خون اہل آتا تھا۔ اس مکان کو کرایہ پر لینے کے بعد جو مسلمان اس محلہ میں یا تراہا بیرم خاں کے قریب رہ گئے، وہ مجھے بہت ہی عزت اور محبت کی نگاہوں سے دیکھتے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے، کہ آئندہ اگر ان کو کبھی میری امداد کی ضرورت ہوئی، تو میں اپنی ذات کو خطرہ میں ڈال کر بھی ا ن کی حمایت میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ یعنی اس علاقہ کے مسلمانوں میں میری پوزیشن ایک میر محلہ کی سی تھی۔ یہ لوگ اکثر میرے پاس آیا کرتے، اور اپنے متعلق رائے طلب کرتے۔ اور میں بھی ان کو وہ رائے دیتا، جسے میں ایمانداری کے ساتھ درست سمجھتا۔

ایک روز ایک حکیم صاحب ( جو تراہا بیرم خاں کے علاقہ میں اپنا مطلب کرتے تھے، اور جامعہ طبیہ میں ملازم بھی تھے ) میرے پاس تشریف لائے۔ یہ حکیم صاحب کھدر کا لباس پہنا کرتے اور دل سے کانگرسی تھے۔ انہوں نے بتایا، کہ چونکہ ان کی دکان کے قریب کی تمام دکانوں پر شرنارتھی قابض ہو چکے ہیں، یہ شرنارتھی ان کو بہت تنگ کرتے ہیں۔ کوئی مسلمان عورت بازار میں سے بے برقع کے ساتھ گزرے، تو یہ اس پر آواز کستے ہیں۔ اور جب حکیم صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوتے ہیں، تو دوسری طرف منہ کر کے ایک شرنارتھی اونچی آواز سے دوسرے شرنارتھی کو سنا کر کہتا ہے کہ :۔
” یہ کم بخت اب یہاں سے جاتے کیوں نہیں؟ “

اور جب یہ اس قسم کی آواز یں کستے ہیں، تو اکثر ماں بہن کی گالیاں بھی دے دیتے ہیں۔ جس کا مقصد یہ ہے، کہ حکیم صاحب تنگ آ کر اس دکان کو چھوڑ جائیں۔ ان حالات میں حکیم صاحب کو کیا کرنا چاہیے؟ ان کو رائے دی جائے۔ حکیم صاحب سے جب میں نے یہ سنا، تو مجھے تکلیف ہوئی، اور میرے اور حکیم صاحب کے درمیان یہ بات چیت ہوئی:۔
میں :۔ میری تو رائے یہ ہے، کہ آپ کو پاکستان چلے جانا چاہیے۔

حکیم صاحب :۔ آپ پرو کانگرسی ہیں، تمام عمر آپ فرقہ پرستوں کی مخالفت کرتے رہے، آپ کے اخبار کی پالیسی انڈی پنڈٹ ہے، اور ظلم کے خلاف آواز پیدا کرنا آپ کا شعار ہے۔ آپ مجھے تلقین کرتے ہیں، کہ میں کانگرسی ہوتے ہوئے پاکستان چلا جاؤں۔

میں :۔ میری تو آپ کے متعلق یہی رائے ہے، میں اپنے ضمیر کے خلاف غلط رائے نہیں دے سکتا۔ جس صورت میں کہ اس ظلم کو کوئی علاج نہیں، اور گورنمنٹ بھی ایسے مظالم کو بند کرنے کے اعتبار سے بے بس ہے، تو دوسری صورت بھی کیا ہے؟ میری تو یہی رائے ہے، کہ آپ بھی ہجرت کر کے پاکستان چلے جائیے۔

حکیم صاحب :۔ میں حیران ہوں، کہ آپ ایک جب الوطن اور پرو کانگرسی ہوتے ہوئے یہ رائے دے رہے ہیں، میں زندگی بھر مسلم لیگ کا مخالف رہا ہوں، میں پاکستان کیوں جاؤں؟
میں :۔ اگر آپ پاکستان نہیں جانا چاہتے، تو پھر ظلم برداشت کیجئے۔ اس ظلم سے نجات حاصل کرنے کی دوسری صورت بھی کیا ہے۔

حکیم صاحب :۔ اگر آپ پاکستان میں رہ گئے ہوتے، تو آپ کی وہاں پوزیشن کیا ہوتی، اور آپ وہاں اپنے متعلق کیا کرتے؟
میں :۔ میں نے اس مسئلہ پر کئی بار غور کیا ہے۔ میں اگر پاکستان میں رہ گیا ہوتا، تو انتہائی کوشش کر کے ہندوستان چلا آتا، اور اپنے آپ کو فرقہ پرست مسلمانوں کے رحم پر نہ چھوڑتا۔

حکیم صاحب :۔ اور اگر وہاں سے آپ ہندوستان نہ آ سکتے تو؟
میں :۔ تو پھر خود کشی کر کے اپنے آپ کو ختم کر لیتا، کیونکہ میرے لئے ایسی ذہنی اذیت کو برداشت کرنا ممکن نہ تھا۔

حکیم صاحب :۔ اگر آپ خود کشی بھی نہ کر سکتے، تو پھر کیا کرتے؟
میں :۔ اگر خود کشی کرنے کی بھی مجھ میں جرات نہ ہوتی، تو پھر میں اسلام قبول کر کے اپنے ذہن کو ایسے شرمناک ظلم سے نجات دے لیتا۔

حکیم صاحب میری باتیں سن رہے تھے، اور حیران تھے، کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ مگر میں تو وہی کچھ کہہ رہا تھا، جسے میں درست سمجھتا تھا۔ کیونکہ میں کسی بھی شخص کو غلط رائے دینا بدترین قسم کا کمینہ پن ہوں۔ چنانچہ میری اب بھی یہی رائے ہے، کہ اگر کوئی شخص اطمینان کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتا، وہ مستقبل کے متعلق خطرہ سمجھتا ہے۔ وہ نہیں کہہ سکتا، کہ اس کو ظلم کا کب نشانہ بننے پڑے گا، اور وہ حالات کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا، تو اس لئے بہتر ہے، کہ وہ مکان، گاؤں، قصبہ، شہر یا ملک سے ہجرت کر جائے۔

چنانچہ میں نے حکیم صاحب کو ریاست نابھ کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا، کہ اخبار ”ریاست“ کے جاری کرنے سے پہلے میں ریاست نابھ میں سرکاری ملازم تھا۔ مجھے وہاں ملازم ہوئے ایک برس ہوا تھا، کہ وہاں کے ایک سابق ہندو وزیر ( جو مہاراجہ کے معتوب تھے ) کے متعلق مہاراجہ کو کسی نے بتایا، کہ یہ سابق وزیر مہاراجہ کو اپنے زیر اثر کرنے کے لئے چنڈی دیوی کا پاٹھ کرتا ہے، اور اس نے اس سلسلہ میں ہی اپنے گھر میں ایک ہون (عبادت اور پاٹھ کے لئے ایک جگہ کا جلانا ) جاری کر رکھا ہے۔

مہاراجہ نے جب یہ سنا، تو آپ نے اپنے ایک مخبر کو اصل حالات معلوم کرنے کے لئے اس سابق وزیر کے مکان پر بھیجا۔ اس مخبر نے دیکھا، کہ اس مکان میں ہون ہو رہا ہے، اور اسی برس کے ضعیف اور کمزور سابق وزیر اسی ہون کے پاس بیٹھے چنڈی دیوی کا پاٹھ کر رہے ہیں۔ مخبر نے تمام واقعہ مہاراجہ کو بتایا، تو مہاراجہ نے حکم دیا، کہ اس سابق وزیر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ پولیس چند پولیس کا نسٹبلوں کے ساتھ رات کو بارہ بجے اس سابق وزیر کے مکان پر گئے، اور وزیر کو گرفتار کر کے بحکم حضور مہاراجہ صاحب جیل کے اندر چھوڑ گئے۔

کیونکہ اس زمانہ میں ریاستوں میں والی ریاست کا حکم ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ رات کو بارہ بجے ہوا۔ میں صبح جاگا، تو آٹھ بجے کے قریب ایک دوست ملنے آئے، اور انہوں نے بتایا، کہ سابق وزیر صاحب رات بارہ بجے مہاراجہ کو چنڈی کے پاٹھ کے ذریعے مسخر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے فیصلہ کیا، کہ مجھے اس ریاست میں ملازمت نہ کرنی چاہیے دوپہر کو میں نے مہاراجہ کو ایک خط لکھا، کہ میں یہاں اب ملازمت نہیں کرنا چاہتا، میرا استعفیٰ منظور کر لیا جائے۔

میرے اس خط کے جواب میں مہاراجہ نے اپنا آدمی بھیج کر مجھے سے دریافت کیا، میں کیوں مستعفی ہونا چاہتا ہوں اس آدمی کو میں نے جواب دیا، کہ جس ریاست میں یہ یقین نہ ہو، کہ رات کو سونے کے بعد اگلی صبح کے سورج کے شعاعیں یہ اپنے گھر میں دیکھ سکتا ہے، اور یہ شعاعیں شاید اسے جیل کی دیواروں کے اندر ہی دیکھنی ہوں گی، میں ایسی ریاست میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ مجھے اس ریاست اور اس ریاست کے حکمران کی خدمت سے سبکدوش کر دیا جائے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon