کیا روح بھی تھک جا تی ہے؟
انسانی جسم فانی ہے جبکہ اصل محرک روح ہے۔ روح کی حقیقت کو سمجھنا اور سمجھانا آسان نہیں۔ ٹیلی وژن کی مثال اس بات کو سمجھنے میں معاون ہے ٹی وی اِک ڈبہ ہے جس میں میں مختلف پروگرام چلتے ہیں۔ مگر انرجی (بجلی) نہ ہو تویہ بیکار ہے۔ گویا ٹی وی سیٹ ہارڈ وئیر ہوا۔ نشر ہونے والے پروگرام سافٹ وئیر جبکہ بجلی روح کی مانند ہے۔ اسی طرح انسانی جسم ہارڈ وئیر ہے۔ افکار، خیالات اور خواہشات سافٹ وئیرہیں۔ مگر انرجی (روح) نہ ہو تو سب خاک ہے۔
روح ہی انسانی جسم اور ذہن کو متحرک کرتی ہے اور کارِ جہاں میں مصروف رکھتی ہے۔ روح کی عدم موجودگی ایسے ہی ہے جیسے بجلی کی عدم موجودگی میں ٹی وی یا کمپیوٹر۔ کوئی انسان ہندو کے گھر پیدا ہوکے کٹر ہندو بنا تو دوسرا مسلمان کے ہاں جنم لے کر مسلمان ٹھہرا۔ جب اصلی محرک روح پرواز کر جائے تو جسم اِک نا قابل برداشت حقیقت بن جاتی ہے۔ جس کو کہیں تو مٹی میں دبا دیا جاتا ہے تو کہیں نذر ِ آتش کر دیا جاتا ہے۔ روحوں اور شب تارِ الست کے واقعہ سے اِ ک اور دل چسپ نقطہ سامنے آتا ہے کہ ہندو سات جنم کی بات کرتے ہیں۔
جسے وہ آواگون اور تناسخ کا نام دیتے ہیں۔ کہ انسان مرنے کے بعد کسی نہ کسی روپ میں دنیا میں پھرسے بھیج دیا جاتا ہے۔ اچھے لوگ اچھے روپ میں اور بُرے لوگ جانوروں کی شکل میں موجود رہتے ہیں۔ غور کریں تو انسان مسلسل سفر میں ہے اور اسے۔ کوئی مقام جچ نہیں پاتا۔ شبِ تارِ الست میں روحوں کی موجودگی کا ذکر ہے۔ پھر انسان ماں کے پیٹ میں نو ماہ کی کامل حیات گزارتا ہے مگر عالم ارواح اور ماں کے پیٹ میں موجودگی کا ادراک نہ ہے۔
مگر یہ حقائق ہیں کہ عالم ارواح سے ماں کے پیٹ میں آئے۔ پھر اس دنیا میں مختاری و محتاجی کے جھگڑے میں روز و شب بسر کیے اور اِک روز اس عالمِ حیات سے بھی اگلے مقام، عالمِ ممات یا برزخ کی جانب انتقال کر گئے اور پھر دوبارہ قبر سے اٹھا کر حساب اور جنت دوزخ میں منتقلی عقائد کا حصہ ہیں۔ یوں ایک دنیا سے دوسری دنیا میں انتقال کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ روح فنا نہیں ہوتی بلکہ اگلے مقا م کی جانب انتقال کرتی ہے۔
سائنس بھی مادہ کو فانی نہیں سمجھتی۔ یہ زندگی انتہائی مختصر سفر ہے اور ہم مسافر۔ کچھ جھوپنڑیوں تو کچھ عالیشان سراؤں میں قیام پذیر ہیں۔ بڑی بڑی سواریوں میں سوار ہیں۔ اچھا کھاتے پیتے پہنتے ہیں مگر منزل آنے پہ سب ٹھاٹھ یہیں رہ جاتا ہے اور بنجارا رختِ سفر باندھ لیتا ہے۔ ہم جس سفر پہ گامزن ہیں یہ سفر ایسا ہے کہ جیسے کسی گاڑی میں سوار ہیں، سٹاپ آتے ہیں، کچھ مسافر اترتے تو کچھ سوار ہو جاتے ہیں۔ اور سفر جاری رہتا ہے اور بالا ٓخر ہم بھی اس قافلے کو منزل آنے پہ خیر باد کہہ دیتے ہیں۔
جس قافلے کے ساتھ ہم نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا اب اس کے منظر کتنے بدل چکے ہیں۔ پیچھے مڑ کے دیکھیں تو بہت سے پیارے اس کارواں میں دکھائی نہیں دیتے۔ ، اک لمحہ سوچئے کہ جب اپنے گھر یا محل سے چار کہار جنازہ اٹھانے آتے ہیں تو مرحوم اپنے گھر کے در ودیوار کو کس حسرت سے تکتا ہوگا۔ یہ انسان کی اپنے مالک کے سامنے بے بسی کی معراج ہوتی ہے۔ ایک طرف اللہ نے اپنی نیابت کا وہ کوہ گراں جسے پہاڑ، آسمان اور زمین اٹھانے سے قاصر رہے۔
انسان کے ناتواں کندھوں پر رکھ دیاتودوسری طرف یہ ذمہ داری قبول کرنے پہ انسان کو ظالم اور جاہل قرار دیا۔ پھرابلیس کی ریشہ دوانیوں کے باعث انسان ہی جنت بدر ہوا۔ یوں شیطان کے مقابل اللہ کی عدالت میں پہلا مقدمہ ہی اشرف المخلوقات کے حق میں منتج نہ ہو سکا۔ اور تعزیراً اِک حیاتِ مستعار دے کر انسان کو زمین کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ جہاں لا تعداد آزمائشیں، محرومیاں، آلام، مصائب اور دکھ اس چار روزہ زندگی کا جزوِ لاینفک ٹھہرے۔
یہی نہیں بلکہ انسان کے ازلی و ابدی دشمن شیطان کو انسان کی گمراہی اور تباہی کے خصوصی اجازت نامے دے کر زمین پہ اس کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا۔ دنیا میں آتے کسی نے پوچھا تو نہ دنیا سے جاتے رائے لی۔ انسان کو اپنے مالک کے حضور سر تسلیم خم کر نا پڑا ہے۔ انسان بصد عجزو انکسار اعتراف کرتا ہے کہ انسان ہی اپنے رب کا حق ادا نہ کرپایا اور زندگی بے بندگی شرمندگی ہی رہی۔ فطرتاً انسان بھلکڑ بھی ہے کیونکہ شب تارِ الست کا اقرار بھول چکا ہے۔ اُسے اپنا اصل وطن یاد نہیں رہا اور زندگی کے مختصر میلے میں کھو چکا ہے۔
اس گلزارِ ہست و بود کی رنگینیوں اور اپنی کم ہمتی سے انسان وہ قول و اقرار بُھلا چکا ہے۔
بھول گئی سب و َچن وداع کے کھو گئی میں سسرال میں آکے
جا کے بابل سے نظریں مِلاؤں کیسے گھر جاؤں کیسے۔ لاگا چُنری پہ داغ چھپاؤں کیسے
کون جانے کہ انسان دنیا میں آ کر کامیاب اور خوش نصیب رہا یا پھر ناکام و مایوس! اس کی مجبوری واختیارکی حدودکیاٹھہریں؟ اورنیابت الٰہیہ کابوجھ اٹھاکر اشرف المخلوقات نے کیا کھویا، کیاپایا؟ مگر انسان کا دنیا م میں آنا، تقدیر کے دکھ سہنا اور پھر مر جانا خا لص اللہ کی رضا ئیں ہیں۔ اک کڑواسچ یہ بھی ہے کہ صرف غالب ہی نہیں بلکہ سبھی اندر یہی مانے ہیں کہ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں توکیا ہوتا
مگر کبھی یہ منزل سانحہ کی بجائے نجات بھی ثابت ہوتی ہے۔ اگر موت نہ ہو تو آدم سے لے کر اب تک کتنے لوگ اذّیت ناک حالت میں بے یارو مدد گار ملیں۔ میڈیکل سائنس کی ترقی کے موجب بعض ضعیف مریض مصنوعی تنفس کے سہارے عالم نزع کی اضافی تلخیاں برداشت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے کنجِ مزار میں پاؤں پھیلا کر سونے کی بات کی تھی۔ انسان کی روح اس عالم فانی میں وقت گزار کر آخر بے زار ہو جاتی ہے اور اُسے اپنے وطن کی یاد آنے لگتی ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ حقائق آشکار ہوتے ہیں۔
کیونکہ جرمِ ضعیفی محض مرگِ مفاجات پہ ہی منتج ہوتی ہے۔ زندگی کے سبھی ادوار چارم فل ہوسکتے ہیں مگر بڑھاپا صرف ہارم فل ہی ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں کوئی خوشی اور امید باقی نہیں رہتی۔ اور انسانی روح دنیا کی خباثتوں، پریشانیوں اور دکھوں سے تنگ آ جاتی ہے۔ جیسے ایک ننھا بچہ گھر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کا بے حد شوق رکھتا ہے۔ اس کا سارا انہماک کھیل میں ہوتا ہے اس کی ماں بار بار دروازے پہ آکے جھانکتی ہے، اُسے بُلاتی ہے مگر وہ مگن رہتا ہے آخر چند گھنٹوں بعد وہ تھکنے لگتا ہے اب وہ بار بار گھر کی جانب دیکھتا ہے۔
اب اُسے ما ں کی گود اور محبت اور آرام کا خیال آتا ہے اور بھاگ کر اپنے گھر آتا ہے۔ جہاں وہ سب تھکن اور تکلیف بھول کر ماں کی آغوش میں آجاتا ہے ہم سب اس بچے کی طرح اپنے اپنے دھندوں، تماشوں اور کاموں میں مشغول ہیں۔ وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھومتا ہے۔ زندگیاں بیت جاتی ہیں اور کانوں کان خبر نہیں ہوپاتی۔ آخر ہم اک روز بیزار ہو جاتے ہیں اور اور ہماری ر وح بھی تھک جاتی ہے۔ وہ اپنے وطن جانے کی خواہش کر تی ہیں۔ جی ہاں وہ وطن جہاں سے اس جہان ِ رنگ و بو میں آئی تھی۔ جہاں ستر ماؤں سے بڑھ کر شفقت کرنے والا اللہ اپنے بندے کو اپنی رحمت کی چادر میں ابدی سکون بخش دیتا ہے۔


