پاکستانی فلم بھٹو دور میں


ذوالفقار علی بھٹو کو نوجوانی میں فلموں کا بہت شوق تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ قیامِ بمبئی کے زمانے میں شوٹنگ دیکھنے کے لیئے اکثر سٹوڈیو جایا کرتے تھے۔

یہ باتیں تو ہمارے ہوش سے پہلے کی ہیں لیکن جو کچھ ہم نے اپنی نوجوانی میں دیکھا وہ بھی فلموں میں بھٹو صاحب کی گہری دلچسپی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد فلموں کے اس شوق کی نوعیت اور وسعت بہت بدل گئی تھی۔

روس کے انقلابی رہنما لینن کی تقلید میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی فلم کے شعبے کی طرف توجہ مبذول کی اور 1972 میں فلمی صنعت کی حالت کا جائزہ لینے کے لیئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے اگلے برس جو سفارشات پیش کیں اُن کا خلاصہ یہ تھا:

اگرچہ کاروباری سطح پر ہم دنیا کے اُن دس ملکوں میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ فلمیں پروڈیوس ہوتی ہیں لیکن معیار کے لحاظ سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ پاکستان میں عوام و خواص یکساں طور پر اس بات کے خواہش مند ہیں کہ یہاں اعلٰی معیار کی فلمیں بنائی جائیں اور یہ تبھی ممکن ہو گا جب حکومت فلم کو معاشرتی اور ثقافتی انقلاب کا ایک موثر ذریعہ سمجھتے ہوئے اسکی جانب پوری توجہ دے۔

 

بیرونی ملکوں سے جو فلمیں درآمد کی جاتی ہیں وہ اتنی گھٹیا ہیں کہ ہمارے ناظرین کا ذوق بالکل بگڑتا جارہا ہے اور اِن فلموں میں جس طرح کے تشّدد اور بے راہ روی کا پرچار کیا جا تا ہے وہ خود ہماری علاقائی فلموں میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔

ہماری فلمی صنعت کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ پڑھے لکھے اور تازہ فکر نوجوانوں کا داخلہ اِس میں ممکن نہیں۔

حکومت کو چاہیئے کہ فوری طور پر اپنی قومی فلمی پالیسی کا اعلان کرے اور ایسے اِدارے قائم کرے جو فلمی صنعت کو اسکے موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے فوری اور موثّر اقدام کریں۔

صدر ذوالفقار علی بھٹو نے (وہ تب تک وزیرِاعظم نہیں بنے تھے) اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فوراً متعلقہ حّکام کو ایک قومی فلمی پالیسی تشکیل دینے کے احکامات جاری کئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے اِن اقدامات کے نتیجے میں جون 1973 میں نیشنل فلم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن یعنی نیفڈک کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی تھی اور اکثریتی حصص کی مالک خود حکومت تھی۔ چیئر مین کی نام زدگی خود وزیرِاعظم کرتے تھے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی اکثریت سرکاری نمائندوں کی تھی۔

28 جولائی 1974 کو حکومتِ پاکستان نے اپنی قومی فلم پالیسی کا اعلان کیا جس کی رُو سے نیفڈک کو درجِ ذیل ذمہ داریاں سونپی گئیں:

ایک نیشنل فلم اکیڈمی کا قیام۔

نگار خانوں کو فلم سازی کا جدید سامان مہیّا کرنا۔

جن مراکز میں فلم سازی کا کام بند ہو چکا ہے (مثلاً کراچی) وہاں پھر سے فلم سازی کو فروغ دینا۔

فلموں کو مختلف زمروں میں تقسیم کر کے انھیں الگ الگ سینسر سرٹفکیٹ جاری کرنا۔

فلمی صنعت میں کام کرنے والے افراد کی شرائطِ ملازمت کو باضابطہ شکل دینا۔

ایسی فلمیں پروڈیوس کرنا جو قومی سیمنا کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔

بیرونِ ملک سے معیاری فلمیں درآمد کرنا۔

پاکستان میں پروڈیوس ہونے والی اچھی فلموں کی بیرونِ ملک نمائش کا اہتمام کرنا۔

خام فلم کی درآمد، ذخیرہ اور تقسیم کاری کی تمام تر ذمہ داری سنبھالنا۔

اپنے قیام کے پہلے ہی برس میں نیفڈک نے کئی مثبت قدم اٹھائے۔ سب سے پہلے تو غیر معیاری اور سستے ذوق والی بیرونی فلموں کی درآمد بند کی اور بہتر معیار کی فلمیں درآمد کرنی شروع کیں لیکن سینما مالکان تقسیم کاری کے اس نظام سے خوش نہیں تھے چنانچہ نیفڈک نے ملک بھر میں اپنے نئے سینما گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔

بیرونِ ملک پاکستانی فلمی صنعت کی نمائندگی کے لیئے ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ کے ممالک میں پاکستانی فلمی میلوں کے انعقاد کا پروگرام بھی فوراً ہی عملی شکل میں سامنے آگیا اور مارچ۔اپریل 1974 میں قاہرہ، سکندریہ، کولمبو اور تاشقند میں پاکستانی فلمی میلے منعقد کئے گئے۔

اگلے برس فیض احمد فیض اور فرید احمد کی سرکردگی میں پاکستان کا ایک فلمی وفد ماسکو کے معروف سالانہ فلمی میلے میں شریک ہوا جہاں جمیل دہلوی کی فلم Towers of silence کو دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرینِ فلم نے دیکھا۔

مقامی فلم پروڈیوسروں کی جانب سے ایک ہی دلیل بار بار سامنے آتی تھی کہ ہماری فلموں کا معیار ہمارے عوام کی ذہنی صلاحیتوں اور تفریحی ذوق کے عین مطابق ہے اور ہم ویسی ہی فلمیں بناتے ہیں جیسی عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ نیفڈک کے کارپردازوں کو معلوم تھا کہ اِس شیطانی چکر سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے: فلم بینوں کا معیار بلند کیا جائے۔ یہ معیار اسی صورت میں بلند ہو سکتا تھا جب عوام کے سامنے اچھی فلموں کی مثالیں پیش کی جائیں۔

پاکستان کی قومی فلمی پالیسی کا اعلان 29 جو لائی 1974

چنانچہ نیفڈک نے ایک طرف تو بیرونی فلموں کی درآمد کا کاروبار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور دوسری جانب ناظرین کو دنیا کے بہترین فلم آرٹ سے متعارف کرانے کے لئے ہر شہر میں فلم کلب کھولنے کا منصوبہ پیش کیا۔ بعد میں اس منصوبے کو ایک خوبصورت اور بارعب نام دے دیا گیا یعنی:

Pakistan Institute for the Study of Film Art.

نیفڈک کا قیام یقناً نیک نیتی سے عمل میں آیا تھا اور اسکا بنیادی مقصد پاکستان میں اچھی فلموں کی پروڈ کشن کے لئے ساز گار حالات پیدا کرنا تھا۔

تشدّد عریانی اور سستے جذباتی مکالمات پر تکیہ کرنے والے پروڈیوسروں کے لئے اس ادارے کا قیام خاصی تکلیف کا باعث بنا چنانچہ انھوں نے کسی سطح پر بھی نیفڈک سے تعاون نہ کیا۔ خام مال کی درآمد اور تقسیم کاری پر نیفڈک کا اجارہ قائم ہو جانے کے باعث پروڈیوسروں کی برادری میں اس سرکاری ادارے کے خلاف نفرت کی جو چنگاری بھڑکی تھی وہ بعد کے حالات میں ایک بہت بڑا الاؤ بن گئی مگر لطف کی بات یہ ہے کہ نیفڈک کا خاتمہ پروڈیوسروں کے ہاتھوں نہیں ہوا بلکہ اس ادارے نے خود اپنے لئے پھانسی کا پھندہ تیار کیا۔ لیکن یہ ایک الگ داستان ہے۔                             

  

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں