اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں

پاکستان میں جب ٹیلی ویژن کا اجراء ہوا تو اس نرم و نازک پودے کو سینچنے والوں میں اشفاق احمد کے ہاتھ سب سے فعّال تھے اور 1970 کی دہائی میں جب یہ نوخیز پودا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر رہا تھا تو اشفاق احمد ایک مسرور و مطمئن باغبان کی طرح اسے پروان چڑھتا دیکھ رہے تھے۔ ٹی وی والوں کے لئے اشفاق صاحب ’ گھر کے آدمی‘ تھے۔ وہ ہماری سب کمزوریوں اور توانائیوں سے واقف

Read more

حیراں سر بازار

حارث خلیق سے میرا اولین تعارف ایک دوست اور رفیق کار کے طور پر اس وقت ہوا جب وہ لندن سکول آف اکنامکس میں اپنا ماسٹرز مکمل کر رہے تھے اور میں چند قدم دور بش ہاؤس کی عمارت میں بی بی سی کی اردو سروس کے لیے خدمات انجام دے رہا تھا۔ ہمارے ملکوں میں طالب علمی اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور اگر آپ برطانیہ جیسے مہنگے ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں

Read more

پی ٹی وی: جانے کہاں گئے وہ دن؟

مقام : بارہ کھمبا روڈ نئی دہلی۔ وائس آف امریکا کا دفتر وقت: 1987ء کے موسم بہار کی ایک شام کردار: دہلی کے صحافی، ادیب، شاعر اور میڈیا کے کچھ لوگ کمرے میں مردوں عورتوں کی ملی جلی آوازوں کا مگھم سا شور ہے جس میں کبھی کبھار ہلکا سا قہقہہ بھی ابھر آتا ہے۔ تقریب کے میزبان وائس آف امریکا کے مقامی بیورو چیف روی کھنہ ہیں جو ہر طرف گھوم پھر کر اس بات کو یقینی بنا رہے

Read more

میں نے علی اعجاز کو "دبئی چلو” میں کیسے کاسٹ کیا؟

مجھے اپنے کھیل ’دوبئی چلو‘ کے لیے ایک بھولی بھالی شکل والے دیہاتی کردار کی تلاش تھی۔ اس تلاش میں ایک روز آرٹس کونسل گیا تو دیکھا کہ بالکل میرے تصوراتی کردار جیسا ایک شخص دھوپ میں بیٹھا آہستہ آہستہ اپنی ٹنڈ کھجا رہا ہے مجھے دیکھ کر اس نے ہیلو کے انداز میں اپنا ہاتھ ہوا میں لہرایا تو مجھے مزید تجسس ہوا۔ قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ یہ تو علی اعجاز ہے۔ میں نے پوچھا کہ بالوں

Read more

گریز: شہباز خواجہ کا نیا مجموعہ کلام

شہباز خواجہ کو ہمارے ہاں "لندن میں مقیم شاعر” کی تعمیم کے سائے میں اپنی پہچان بنانا پڑی ہے۔ وہ گزشتہ 16 برس سے اردو نظم کے گیسو سنوارنے میں اپنا ہنر آزما رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے آباد ہونے سے پہلے شہباز خواجہ راوی کی رواں دواں موجوں اور جہلم کی وارفتہ لہروں سے شناسائی پیدا کر چکے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 2005  میں منظر عام پر آیا اور عام قارئین

Read more

ٹھرک : منٹو کی ایک نامکمل تحریر

سن پچاس کے عشرے کا ذکر ہے۔ لاہور کے ماہوار فلمی میگزین ’ ڈائریکٹر‘ کے مدیر شباب کیرانوی کی دلی خواہش تھی کہ ایک فلم پروڈیوس کی جائے۔ 1954 ءمیں انہوں نے کچھ دوستوں سے قرض لے کر ایک فلم شروع کر دی جو چند ماہ میں تیار ہو گئی۔ فلم کا نام تھا ’جلن‘ اور مزاحیہ اداکار نذر پر اس میں ایک گانا پکچرائز ہوا جس کے بول تھے ’میں بھی ٹھرکی، تو بھی ٹھرکی…. سارا زمانہ ٹھرکی ہے

Read more

منٹو، جالب اور صدر ایوب

یومِ منٹو منانے کا زبردست پروگرام پاک ٹی ہاؤس کی میزوں پر تیار ہوا تھا اور تقریب کے لیے ہمیں محکمہ قومی تعمیرِنو نے جو آڈیٹوریم عطا کیا تھا وہ بھی ٹی ہاؤس کے سامنے ہی تھا۔ چنانچہ جلسے میں آنے والے لوگ وقتِ مقررہ سے کافی پہلے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ سب سے زیادہ بے چینی حبیب جالب کو تھی۔ ہم نے یومِ منٹو کے سلسلے میں جو پوسٹر تیار کیا تھا اس میں یہ لائن بھی درج تھی:

Read more

پاکستانی فلم بھٹو دور میں

ذوالفقار علی بھٹو کو نوجوانی میں فلموں کا بہت شوق تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ قیامِ بمبئی کے زمانے میں شوٹنگ دیکھنے کے لیئے اکثر سٹوڈیو جایا کرتے تھے۔ یہ باتیں تو ہمارے ہوش سے پہلے کی ہیں لیکن جو کچھ ہم نے اپنی نوجوانی میں دیکھا وہ بھی فلموں میں بھٹو صاحب کی گہری دلچسپی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد فلموں کے اس شوق کی نوعیت اور وسعت بہت

Read more

لفظوں کی لفاظی

یہ بات بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی ہمارا واسطہ نئے نئے الفاظ سے پڑتا ہے یا پُرانے لفظوں کا ایک نیا مفہوم ابھر کر سامنے آتا ہے۔

ہر زندہ زبان اِن تبدیلیوں کو قبول کرتی ہے اور اپنا دامن نئے الفاظ و محاورات سے بھرتی رہتی ہے۔ انہی تبدیلیوں کے دوران بعض زیرِ استعمال الفاظ و محاورات متروک بھی ہو جاتے ہیں۔ گویا جس طرح ایک زندہ جسم پُرانے خلیات کو ختم کر کے نئے بننے والے خلیات کو قبول کرتا ہے اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی ردّوقبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

Read more

صوفیہ لارین اور کارلو پونتی کی باتیں

اپنے دورِ عروج میں صوفیہ لارین پاکستان میں جتنی مقبول اور جانی پہچانی اداکارہ تھیں، ان کے شوہر فلم ساز کارلو پونتی اتنے ہی غیر معروف تھے، حالانکہ دنیائے فلم کے لیے ان کی بے پناہ خدمات ہیں۔ 152 فلموں کے پروڈیوسر، کارلو پونتی سے صوفیہ کی ملاقات کوئی 55 برس پہلے ہوئی تھی جب وہ پندرہ برس کی چھُوئی مُوئی سی لڑکی تھی۔ کارلو پونتی اس وقت بھی ایک جانے پہچانے فلم ساز تھے اور کئی نئے چہروں کو

Read more