انسان نما بھیڑے۔۔۔۔۔


اگر ہم پاکستانی اپنی تاریخ پڑھیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہے یہ پاکستان جس میں آج ہم آزادی سے زندگی گزار رہے ہیں کتنی مشکلوں اور قربانیوں کے بعد بنا تھا۔ پاکستان کی تکمیل کے لیے ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں آزادی کے ساتھ سانس لے سکیں۔ ہم ان کو ایک ایسی آزاد ریاست دے جائیں جس میں ان کا ایمان محفوظ ہو ان کی عزتیں محفوظ ہوں ان پر کوئی ظلم زیادتی کرنے والا نا ہو ان کی قربانیوں کے عیوض ہمیں آزاد ریاست تو مل گئی لیکن آج اس آزاد ریاست میں مائیں، بہنیں، اور بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔

پچھلے چند سالوں سے مملکت خداد اد پاکستان میں جس قسم کے واقعات ہو چکے ہیں ان کا تصور کرتے ہی جسم میں لرزے طاری ہو جاتے ہیں۔ قصور میں سات سالہ بچی کوریپ کے بعد جس درندگی کے ساتھ قتل کیا گیا اس کا قاتل تو پھانسی کے جھولے پر جھول گیا۔ پچھلے دنوں، حویلیاں اور پھر نو شہرہ میں دو کم سن بچیوں کے ریپ کے بعد قتل کے واقعات نے سب کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ضلع ایبٹ آباد کے تھانہ حویلیاں کی حدود کیالہ گاؤں میں 3 سالہ فریال کو ایک انسانی درندے نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعدشدید سردی میں نیم مردہ حالت میں اسے پھینک کر چلا گیا جہاں سردی اور خوف کے مارے ننھی پری زندہ نہ رہ سکی۔

زینب کو تو انصاف مل گیا تھا اگر اس کے قاتل کو سرعام پھانسی سے بھی بد تر سزا دی جاتی تو شاید آج حالات مختلف ہوتے لوگوں کے اندر ڈر پیدا ہو جاتا اس قسم کے واقعات رونما نا ہوتے۔ کہتے ہیں کہ ایسے حالات جہالت اور تعلیمی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں آزاد جموں کشمیر استاد کے ہاتھوں جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی بچی جو اپنے والدین کی عزت بچانے کے لیے خود کشی کرنے کی کوشش کرتی ہے تعلیم بنٹانے والے ہی جب ہوس کے پجاری ہوں تو پھر گلہ کسی اور سے کیسے کریں۔

استا د کو تو ایک روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔ یہاں مسٔلہ جہالت کا نہیں شرعیت کے نفاذ کا ہے دین اسلام سے دوری کا ہے جب سے ہم نے قرآ ن و سنت کو چھوڑا ہے تب سے ہی ایسے واقعات نے جنم لینا شروع کیا ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں پر بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ مغرب کی اندھی تقلید نے ہمارے معاشرے کا بیڑہ غرق کر دیا ہے پورن ویڈیو ہی ایسے حالات کو پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں آج پورن ویڈیو تک ہر فرد کی رسائی ممکن ہے چاہے وہ 50 سال کا ہو یا دس سال کا بچہ۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ پورن ویڈیو پر قانون سازی کرے ان کی رسائی مکمل طور پر بند کی جائے دوسری طرف ایسے درندوں کو کڑی سے کڑی سزا دے تاکہ آئندہ ایسی حرکت کوئی نا کرے والدین کو بھی چاہیے وہ اپنے ملنے والوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں پر بھی نظر رکھیں۔ ان کی غلط حرکات پر نوٹس لیں۔

ملک عبدالجبار

Facebook Comments HS