ایاز خانہ بدوشوں کے ساتھ


آج مریخ کے سفر کی باتیں ہو رہی ہیں اورکچھ زمانہ پہلے ہم کارواں بنا کر سفر کرتے تھے۔ ہمارے مشہور سیاح وہ ابن بطوطہ ہوں یا مارکو پولو سب ہی اپنے اونٹوں اورگھوڑوں پر اپنا سامان لادے سیکڑوں میل کا سفر کرتے تھے ۔ خانہ بدوش کہلاتے تھے، دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیجیے کہ گھرکا سامان شانوں پر اٹھائے نگری نگری پھرتے تھے ۔

حیدرآباد کی دو دوستوں امر سندھو اورعرفانہ ملاح کو خیال آیا کہ وہ کیوں نہ شہر میں ایسی عوامی جگہ بنائیں جہاں ہر شہر اورگاؤں سے آنے والے نوجوان اور ادیب مل کر بیٹھیں،ادبی محفلیں ہوں جن سے نوجوانوں کے ذہن روشن ہوں ۔انھوں نے رانی باغ ، قاسم آباد میں ’’کیفے خانہ بدوش‘‘ کھولا۔اس کیفے کی ابتداء ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ یہ زیادہ دنوں نہیں چل سکے گا لیکن امر سندھو اور عرفانہ ملاح کی محنت اور ذہانت سے ’’ کیفے خانہ بدوش ‘‘ آج حیدرآباد کا ایک اہم ثقافتی اور ادبی مرکز بن چکا ہے۔

چند دنوں پہلے یہاں سندھی کے عظیم شاعر شیخ ایاز کی یاد میں پانچ روزکا ایک شاندار میلہ ہوا ۔ یہ ان کی یاد میں ہونے والا چوتھا میلہ تھا۔ اس میں سندھ بھر سے دانشور، ادیب اور شاعر آئے ۔اس کے ساتھ ہی سندھ کے مقبول اور مشہور لوک فن کار بھی آئے اور انھوں نے اپنی راگ راگنیوں سے سماں باندھ دیا ۔ مجھے بھی اس میلے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔ یہ معروف شاعر اور ادیب عطیہ داؤد تھیں جو آصف فرخی کو اور مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر زناٹے سے حیدرآباد لے گئیں ۔

سندھی ادب کے آسمان پر اٹھارویں اور بیسویں صدی کے زمانوں کے درمیان کھنچی ہوئی شعروں کی دھنک کا ایک سرا اگر شاہ لطیف ہیں تو دوسرا شیخ ایاز ۔ اس دھنک کے سات نہیں، ستر نہیں، سات سو رنگ ہیں۔ ان میں انقلاب اور التہاب کا ، بغاوت اور استقامت کا، حسن خوباں اور یاد جاناں کا ، وصال وفراق کا رنگ ہے۔ شاہ اگر سندھی ادب کا تاج محل ہیں تو شیخ ایاز کو اس ادب کے قطب مینارکے سوا اورکسی نام سے یاد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کی طرح تنہا، اسی کی طرح یکتا، اسی کی طرح سرفراز اوراسی کی طرح سربلند۔

ایاز کی شاعری میں ابھاگن دھرتی،گرجتا گیت ، رن سے آتی ہوا، پر افشاں صدی، قرض منصور، سرمد مست الست، تختہ دار اور رباعی تلوار … استعاروں کا ایک دریا اور لفظیات کا سمندر ہے جو ہمیں بہاتا چلا جاتا ہے ۔

ہم کبھی اسے کبیرکے ساتھ پریت کا دھاگا کاتتے دیکھتے ہیں،کبھی وہ خسرو کے ساتھ ہمیں جمنا تٹ پر ملتا ہے اور کبھی شاہ کے ساتھ سندھو کے صحرا میں ۔ کبھی وہ باغی اور انقلابی ہے،کبھی وہ عاشق اور کبھی معشوق ہے،کبھی وہ جوگی بیراگی،کبھی سادھو، صوفی، سنیاسی ہے۔ بڑے شاعر ایسے ہی ہشت پہلو ہوتے ہیں اور ان کی شاعری میں شش جہات اسی طرح سمٹ جاتے ہیں ۔

یہ اعزاز اور اختصاص،ایازکے حصے میں آیا کہ اس نے ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا منظوم ترجمہ کیا ۔ اردو ترجمے کے مقدمے میں ایاز نے اردو، فارسی، سنسکرت ، ہندی اورانگریزی شاعری کے بارے میں جو باتیں کی ہیں، جن فلسفیانہ نکات پر بحث کی ہے، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنقید اور فلسفے سے اس کا کتنا گہرا تعلق تھا ۔

سندھ کی مخصوص سیاسی صورتحال نے ایازکو سندھی کا سب سے بڑا مزاحمتی شاعر بنا دیا ۔ اس کے گیت ، انقلابی گیتوں کی طرح گائے گئے۔اس کی تین کتابوں پر توہین مذہب اور بغاوت کی فرد جرم عائد ہوئی اور تین مرتبہ وہ جیل گیا ، اپنی انقلابی تحریروں سے اس نے سندھ میں آگ لگا دی اور اس کا نام سندھ کی ادبی تاریخ میں امر ہوگیا۔ وہ سندھ کی نوجوان نسل کا ہیرو ٹھہرا ،اس کی پرستش کی گئی، اس سے عشق کیا گیا اور اس کے سا تھ ہی اس سے حسدکیا گیا ، اختلاف کیا گیا ۔

1958کے مارشل لاء میں جنرل ٹکا خان نے سندھی زبان پر جو کلہاڑا چلایا اور72میں سندھ کو اس کا جائز مقام دینے کی جو جزوی کوشش کی گئی اس کے خلاف جو ہنگامہ برپا کرایا گیا ، اس نے سندھی اور اردو کے بیشتر ادیبوں کو غیر متوازن کردیا۔ ایک ایسی زہریلی فضاء میں ایاز دونوں طرف کے ان چند گنے چنے ادیبوں میں سے تھا، جنہوں نے وقتی شہرت اور مقبولیت کے لیے اپنی تحریروں سے رواداری ، مروت ، محبت اور وضع داری کو ذبح نہیں کیا۔

وہ ان نام نہاد ادیبوں میں سے نہیں تھا جو قلم سے خنجرکا کام لیتے ہیں اور دلوں کے ٹکڑے کرتے چلے جاتے ہیں ۔ وہ ان میں سے تھا جو نوکِ قلم سے دلوں کو رفو کرتے ہیں ۔ زہریلی رُتوں کے زمانے میں اس نے اردو کے پہلے شاعر خسروکوکس کس طور پر یاد نہیں کیا ۔کبھی اس نے لکھا :

مکھ پر ڈالے کیس ، ابھاگن دھرتی جب سوجاتی ہے

کھسرو رونے لگتا ہے

اس دھرتی کے بھاگ نرالے ، روتے روتے گاتی ہے

میرے من میں جوکھسرو ہے، نین بھگوتا رہتا ہے

کبھی اس نے نظم ’’لطیف اور خسرو‘‘ لکھی :

’’دو دیپ جلے

اک جمنا ماں کے کنٹھے پر

اک سندھو ماں کے صحرا میں ‘‘

ہمارے ادیب اور استاد کرن سنگھ نے ان کی جیل ڈائری کا اردو میں ترجمہ کیا ۔ایاز کی ’’ساہیوال جیل کی ڈائری‘‘ کے چند ورق جب میں نے پڑھے تو یہی سوچتی رہی کہ برصغیر کے وہ شب و روز کہاں چلے گئے جب سب کے دکھ ایک تھے، جب عقیدے ، زبان یا نسل کی بنیادوں پر نفرتوں کا سلسلہ دراز نہیںہوا تھا ، جب حشوکیول رامانی ، مونس سیالکوٹی، ایاز شکارپوری اور حسن حمیدی عظیم آبادی یار غار ہو سکتے تھے ، ایک دوسرے کے لیے دھاڑیں مارکر رو سکتے تھے ۔

دلی میں اپنے جگری یار حشوکی اور ایاز کی جب آخری ملاقات ہوئی تو حشو نے کہا تھا ’’ایاز‘‘ ایک بات ہرگز نہ بھولنا۔ اگر تم نے پاکستان میں کسی ریفیوجی (مہاجر) پر ہاتھ اٹھایا تو سمجھنا کہ مجھ پر ہاتھ اٹھایاکیونکہ میں بھی ہندوستان میں ریفیوجی (شرنارتھی) ہوں۔‘‘ یہ کہنے والا حشوکیوں رامانی چلا گیا ۔ یہ سن کر آنسو بہانے والا ایاز چلا گیا ۔ ایسی دوستیاں ہی ان مروتوں اور محبتوں کو جنم دیتی تھیں جو ایازکی تحریروں میں سگندھ کی طرح بسی ہوئی ہیں، جو اس کے اشعار میں لہوکی طرح دوڑتی ہیں ۔

ایاز نے لکھا تھا سندھو دھرتی میں تجھے ماتھا ٹیکوں، سیس نواؤں ۔ اسے سندھ سے عشق تھا اور جس سے عشق ہو، اس کے لیے دنیا کی تمام نعمتوں کی آرزوکی جاتی ہے ۔ ایاز نے سندھ کے لیے خوبصورت خواہشیں کیں، رنگین خواب دیکھے اور یہ خواب اب اس کی آنکھوں میں سوتے ہیں ۔ سندھ کو اس کے اصل وارثوں سے چھیننے کی کوششیں آج بھی اپنے عروج پر ہیں ۔

آج بھی اس کا ہاری محروم ہے اور اس کا مزدور مغموم ۔ اس کے دیہات ظلم کی چکی میں پستے ہیں اور اس کے شہر دہشت گردوں کے خوف سے لرزتے ہیں۔ وسائل گنے چنے اور مسائل لاتعداد ، اس صورتحال نے سندھ میں آباد ہرگروہ کو دوسرے سے دست وگریباں کردیا ہے اور بجائے اس کے کہ مظلوم اپنی لڑائی ظالموں سے لڑیں، غاصبوں سے اپنا حق چھینیں، ہر طرف کے اور ہر گروہ کے بے کس و بے بس اور بے یارو مددگار جھنجھلا کر آپس میں ہی لڑ رہے ہیں اور یہ بھلا چکے ہیں کہ انسانوں کے درمیان اصل تفریق ظالم اور مظلوم اور جابر ومجبورکی ہوتی ہے ۔

اردو ہو یا سندھی ، دونوں زبانوں کا ادب آج اپنے پڑھنے والے کی تلاش میں ہے ۔ ایاز نے اس عذاب ناک معاملے کو 1955 میں محسوس کرلیا تھا ۔

سندھ کے دکھ ان کے خطوں میں ببول کے کانٹوں کی طرح اُگے ہوئے ہیں جو پڑھنے والے کی آنکھوں میں چبھ جاتے ہیں ۔

’’باتیں کرتے ہوئے میں نے بیلدار سے پوچھا ! ’’تمہیں تنخواہ کتنی ملتی ہے ؟‘‘

’’صاحب ! کیا پوچھتے ہو ! صرف چالیس روپے تنخواہ ہے ۔ میرے تین بچے ، بیوی اور بوڑھی ماں ہے ۔ پیاز اور روٹی بھی بہ مشکل نصیب ہوتی ہے ۔ سامنے بیلے میں شبانی بلوچ رہتے ہیں ۔ ان کے پاس گائیں اور بھیڑیں ہیں،ان سے کبھی کبھار مفت میں لسی مل جاتی ہے تو عیش کرلیتے ہیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تندرست رکھا ہوا ہے ، ورنہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ آج کل مصیبت میں کون کسی کا ہوتا ہے۔ سارا دن دریا سے پانی بھرکر اس بند پر چھڑکتا ہوں،گھڑے اٹھا اٹھا کرکندھوں پر داغ پڑگئے ہیں ۔‘‘

’’ اس نے مجھے اپنے دونوں کندھوں پرکالے کالے داغ دکھائے جوکسی تہجد گزارکی پیشانی پر بنی محراب کی طرح لگ رہے تھے ۔‘‘

1955 کے سندھ کی جو تصویر ایازکے اس خط میں نظر آتی ہے آج بھی وہی ہے ۔ مقدم ، بیلدار ، ہاری اورکلرک اسی طرح بھوکے ہیں جب کہ 1988سے آج تک سندھ اسمبلی میں گلاب کی طرح کھلے ہوئے چہرے والوں نے سندھ کی خدمت کا حلف اٹھایا ہے لیکن کیا سندھ کے دیہات اورکیا شہر، ان میں آباد بیشتر چہروں پر دکھ کی وہ سیاہی اور آنکھوں میں وہ گہری ناامیدی ہے جسے دیکھ کر دل ٹکڑے ہوتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں