تقسیم ہند اور مسلمانوں کی پسماندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دیگر حقائق جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انگریز وں نے کتنے مسلمانوں کو سر کا خطاب دیا؟ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو شاید مسلمانوں کو ہندوؤں سے زیادہ اس طرح کے خطابات ملے۔ مثلاً نواب خواجہ سلیم اللہ جن کے گھر پرآل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ہوا نہ صرف انہیں بلکہ ان کے والد اوردادا کو بھی سرکا خطاب ملا تھا۔

حسین شہید سہروردی کے والد اور سسر دونوں کو سر کا خطاب دیا گیا تھا۔ ان کے والد کلکتہ ہائی کورٹ کے جج تھے اور سسر بنگال میں وزیر داخلہ رہے۔ واضح رہے کہ حسین شہید سہروردی تقسیم سے پہلے بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ انہیں پاکستان میں غدار بھی قراردیا گیا تھا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن اور پہلے صدر آغا خان کو بھی سر کا خطاب دیا گیا تھا۔ وہ برطانوی بادشاہ کی پریوی کونسل کے رکن اور پھر 1937 میں لیگ آف نیشنز کے صدر بن گئے تھے۔
سرفیروز خان نون نے ایچیسن کالج اور آکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ 1917 ء میں بیرسٹر ہوگئے تھے۔ وہ 1936 سے 1941 تک برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر رہے۔ وہ بعد میں پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم بنے۔
بدرالدین طیب جی 1867 میں بمبئی ہائی کورٹ میں وکالت کرنے کرنے والے پہلے ہندوستانی بیرسٹراور 1902 میں بمبئی ہائی کورٹ چیف جسٹس بننے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ ان کے والد نے اپنے ساتوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھجوایا تھا۔

سرسکندر حیات پہلے ہندوستانی تھے جو 1932 اور 1934 میں سات ماہ تک پنجاب کے قائم مقام گورنر رہے۔ اس کے بعد 1937 سے 1942 تک وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔

1920 میں سکندر مرز ا انگلستان کے شہر سینڈہرسٹ میں واقع رائل ملڑی اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہونے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ وہ 1947 میں پاکستان کے پہلے سیکرٹری دفا ع اور 1956 میں اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
راجہ صاحب آف محمودآباد ہندوستان کے امیر ترین لوگو ں میں سے تھے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 2010 میں ان کی جائیداد کی مالیت کم ازکم تین ہزار ارب روپے تھی (ٹائمز آف انڈیا ’6 اگست 2010 )۔
1941 کی مردم شماری کے مطابق کلکتہ کی بہتر اعشاریہ سات فی صد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔ اس کے باوجود 1935 اور 1947 کے درمیان چار مسلمان یعنی شیر بنگال مولوی فضل الحق ’اے کے ایم ذکریا‘ عبدالرحمان صدیقی اور سید محمد عثمان اس کے میئر کے عہدے پر فائز رہے۔ مولوی صاحب کلکتہ کے پہلے مسلمان میئر تھے۔ انہوں نے 1940 میں قرارداد لاہور پیش کی تھی۔ انہیں بھی تقسیم کے بعد غدارقرار دیا گیا تھا۔
1946 میں پنجاب میں مسلمان آبادی کا تریپن فی صد تھے لیکن پولیس میں ان کا تناسب سترفی صد تھا۔ جولائی 1947 میں ہندوستان کی فوج میں مسلمانوں کا تناسب چھتیس اعشاریہ دو فی صد تھا۔
اب تک چارمسلمان یعنی ڈاکٹر ذاکر حسین ’جسٹس محمد ہدایت اللہ‘ فخرالدین علی احمد اور عبدالکلام ہندوستان کے اعلیٰ ترین منصب (صدارت) پر فائز رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے 1926 میں برلن یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے تھے۔ پاکستان کا آئین اگرچہ سب شہریو ں کو برابر قراردیتا ہے لیکن ساتھ ہی صدراور وزیر اعظم کے عہدوں کے لئے غیر مسلموں کو نا اہل بھی قرار دیتا ہے۔
محمد ہدایت اللہ ’مرزا حمید اللہ بیگ‘ عزیز مبشر احمدی اورالتمش کبیر ہندوستان کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔
ہندوستان کے معروف مورخ محمد حبیب 1916 میں الہٰ آباد یونیورسٹی کے بی اے کے امتحان میں اول آئے تھے۔ ان کے والد لکھنؤ کے متمول بیرسٹر تھے۔ حبیب صاحب نے 1947 میں انڈین ہسٹری کانگریس کو صدارتی خطبہ دیا تھا۔ حبیب صاحب کے برخوردار عرفان حبیب بھی ہندوستان کے معروف مورخ ہیں۔ وہ انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ کے چیئر مین رہ چکے ہیں۔ دونوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ ہندوستان میں متعدد تعلیمی ادارے ان کے نام سے موسوم ہیں۔ ان کے یوم پیدائش( 11 نومبیر) کو پورے ہندوستان میں یوم تعلیم کے طورپر منایا جاتا ہے۔ وہ 1923 میں محض پینتیس برس کی عمرمیں کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔
محمد علی چھاگلہ 1947 سے 1958 تک بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکہ اوربرطانیہ میں سفیر رہے۔ بعدا زاں انہوں نے ہندوستان کے وزیر تعلیم اور پھر وزیر خارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ ان کے علاوہ سکندر بخت اور سلمان خورشید بھی ہندوستان کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔
افتخارعلی خان پٹودی ’غلام احمد اور محمد اظہرالدین ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کے کپیٹن رہ چکے ہیں۔ سلمان حیدر سیکرٹری خارجہ اور سید آصف ابراہیم انٹیلی جینس بیورو کے سربراہ کے طورپر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ادریس لطیف 1973 سے 1976 تک فضائیہ کے سربراہ رہے۔ جعفر ظہیر بھی وہاں ائر مارشل کے عہدے تک پہنچے۔ شہاب الدین یعقوب قریشی‘ پی ایچ ڈی ’اور سید نسیم زیدی ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنرز رہ چکے ہیں۔

ہندوستان میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے مسلمانوں میں جمیل محمود ’سمیع خان‘ سید عطا حسنین ’ضمیرالدین شاہ اورمحمد علی حارض شامل ہیں۔ 1965 کی جنگ میں غیرمعمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے پر حوالدار عبدالحمید کواعلیٰ ترین فوجی اعزاز پرم ویر چکر سے نوازا گیا۔ ان کے نام پر دہلی میں ایک سڑک کا نام شہید عبدالحمید روڈ رکھا گیا ہے۔
جنوبی ایشیا کے متمول ترین مسلمان عظیم پریم جی کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ انہیں ہندوستان میں آئی ٹی انڈسڑی کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار ہندوستان کی محترم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کے بعد جناب یوسف علی کا نام آتا ہے۔ ان کی سالانہ آمدنی سات اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے۔ شاہ رخ کو ہندوستان کی فلم انڈسٹری کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔
کپواڑہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہ فیصل 2010ء میں پورے ہندوستان کی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلے کے امتحان میں اول آئے۔ اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے اطہر شفیع خان نے پانچ سال بعد اسی امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

سید اکبرالدین اس وقت اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب ہیں۔ وہ وزارت خارجہ کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد صاحب بی آرامبیدکر اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور قطر میں سفیر کے عہدے پر فائز رہے۔ احمد جاوید اس وقت سعودی عرب میں سفیر ہیں۔ وہ 2016 تک ممبئی کے پولیس کمشنر تھے۔ ان کے والد بھی ایک سینئر افسر تھے۔ امریکہ کے معروف صحافی فرید ذکریا کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ان کے والد رفیق ذکریا نے لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ وہ سولہ کتابوں کے مصنف تھے۔ فرید صاحب کی والدہ فاطمہ ذکریا ایک انگریزی اخبار کی ایڈیٹر تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

شکیل چودھری

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب ’ہینڈ بک آف فنکشنل انگلش‘ کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے [email protected] )

shakil-chaudhari has 7 posts and counting.See all posts by shakil-chaudhari

One thought on “تقسیم ہند اور مسلمانوں کی پسماندگی

Comments are closed.