تقسیم ہند اور مسلمانوں کی پسماندگی



محمد اظہارالحق صاحب ایک سینئر ’قابل احترام اور سنجیدہ شخص ہیں۔ وہ باعمل مسلمان ہیں لیکن پھر بھی اہل مذہب اور معاشرتی رویوں پر بڑے جرأت مندانہ اور ریشنل طریقے سے تنقید کرتے ہیں۔ میں ان کے مداحوں میں سے ہوں۔ اسی وجہ سے میں نے ایک ایف ایم ریڈیو چپنل کے لئے ان کا انٹرویو بھی کیاتھا۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اختلاف رائے کا برا نہیں مانتے۔

ان کا ایک مضمون 25 دسمبر کے روزنامہ 92 نیوز اور پھر ہم سب نے شائع کیا۔ //www.humsub.com.pk/199444/izhar-ul-haq-152/

ان کے اس مضمون کے حوالے سے بہت ادب سے کہنا چاہتا ہوں۔ اس مضمون میں دیے گئے بہت سے دلائل ان کے علمی معیار اور ان کی ریشنل اپروچ سے بہت فروتر ہیں۔ مثلاًنہوں نے لکھا ہے کہ آج اگر پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمان اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں تو قائد اعظم محمد علی جناح کو دعائیں دیں جن کے وژن نے انہیں اپنی تقدیر کا مالک بنایا۔

کیا پاکستان کے قیا م کا مقصد مسلمانوں کو نوکریاں دلانا تھا؟ کیا یہ ملک پوری دنیا کے لئے اسلام کے اصولوں اور آدرشوں کا ایک بہترین نمونہ بننے کے لئے وجود میں نہیں آیا تھا؟ اظہار صاحب نے اس قیمت کا ذکر نہیں کیا جو بنگلہ دیش کے لوگوں نے ان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے لئے دی۔ میرے خیال میں داؤو بیگ صاحب نے فیس بک پر بہت معقول سوال پوچھا کہ اتنی زبردست عمارت اکہتر میں کیسے ٹوٹ گئی؟ اس کے جواب میں اظہار صاحب نے لکھاکہ ٹوٹی نہیں۔ دوبھائی الگ الگ ہوگئے۔

بڑے احترام سے عرض کروں گا کہ یہ انتہائی کمزور جواب ہے جو پاکستان سے باہرپوری دنیا میں شایدایک شخص کو بھی قائل نہ کرسکے۔ بیگ صاحب نے بالکل صحیح سوال اٹھایا ہے کہ کیا بھائی اس طرح الگ ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں جتنی نفرت پاکستانیوں کے خلاف پائی جاتی ہے اتنی ہندوستان میں بھی نہیں پائی جاتی۔ جالب نے کیا خوب کہا تھا:

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو

پاکستانیوں نے تقسیم کے وقت یہ عہدے لینے کے لئے جو قیمت ادا کی اس کا ذکر بھی اظہار صاحب نے نہیں کیا۔ صدیوں سے یہاں رہنے والے غیرمسلموں نے ان نوکریوں کی جو قیمت ادا کی اس کا مضمون میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ کیا مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا؟ کیا اب برصغیرکے مسلمانوں اور خاص طور پرپاکستانی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور ہوگئی ہے؟ تقسیم کے دقت ہندوستان کی شرح خو اندگی بارہ فی صد تھی اور اب یہ شرح اسی فی صد کے قریب ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی محض ستاون فی صد ہے۔ اس پسماندگی کی ذمہ داری کس پر ہے؟ ہندوستان اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی شرح کیا ہے؟ ایران میں بہائی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ کیا اس طرح کی کوئی پابندی ہندوستان کے مسلمانوں پرپھی ہے؟

پاکستان میں جو لوگ غربت کی چکی میں پس رہے اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ مثلاً پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں اکہتر فی صد عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

اظہار صاحب نے لکھا ہے کہ بھارت مسلمانوں کی آبادی تقریباً اٹھارہ کروڑ ہے جو کل آبادی کا پندرہ فیصد بنتی ہے۔ بھارت کے مسلمان اپنی آبادی کے تناسب سے سول سروس ’مسلح افواج‘ عدلیہ ’تعلیم اور سفارت کاری‘ میں پندرہ فیصد حصے کے حق دار ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا بنگلہ دیش اور پاکستان میں غیر مسلموں کو ان کی آبادی کے تناسب سے سول سروس ’مسلح افواج‘ عدلیہ ’تعلیم اور سفارت کاری میں ملازمتیں میسر ہیں؟ اس سلسلے میں انصاف کا تقاضہ کیا ہے؟ حیرت ہے کہ اظہارصاحب کے ذہن میں یہ نکتہ نہیں آیا۔ کیا 1971 ء تک بنگالیوں کو پاکستان میں ان کی آبادی کے تناسب سے ملازمتیں میسر تھیں؟

ملائشیا کی چالیس فی صد آبادی غیرمسلموں پر مشتمل ہے۔ کیا انہیں کی آبادی کے تناسب سے سول سروس ’مسلح افواج‘ عدلیہ ’تعلیم اور سفارت کاری میں ملازمتیں میسر ہیں؟ وہاں کتنے غیر مسلم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں؟ وہاں بھومی پترا کی پالیسی کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا مطلب وہاں کے غیر مسلموں کو ان کے برابری کے حقوق سے محروم رکھنا نہیں؟ کیا وہاں کے غیر مسلم علیحدگی کی تحریک چلانے میں حق بجانب ہوں گے؟ کیا تقسیم ہند سے پہلے ہندوؤں نے کبھی اس طرح کی پالیسی کا مطالبہ کیا تھا؟

اظہار صاحب نے دو قومی نظریہ کی بھی بات کی ہے۔ کیا یہ نظریہ اب بھی اپنا وجود رکھتا ہے؟ کیا اب بھی پاکستان اور ہندوستان میں دو دو قومیں بستی ہیں؟ کیا اظہار صاحب کو معلوم ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدرچودھری خلیق الزمان نے اپنی سوانح عمری شاہراہ پاکستان میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ نظریہ ہندوستان کے مسلمانوں کے مضر ثابت ہوا اوریہی وجہ ہے کہ بانی پاکستان نے اپنی 11 اگست 1947 ء کی تقریرمیں اسے الوداع کہہ دیا تھا۔

قیوم نظامی صاحب نے 7 جون 2018 ء کے نوائے وقت میں لکھا تھا ”پاکستان کو اپنی باشعور آنکھوں سے بنتے دیکھنے والی نسل اداس ہے۔ ان کے خواب چکنا چور اور ولولے مردہ ہوئے۔ “

انہوں نے مزید لکھا کہ ”بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے پہلی ہی معاشی منصوبہ بندی کررکھی تھی ان کو اگر موقع ملتا تو وہ“ اسلامی سوشلزم ”کے اُصول پر معاشی پالیسی تشکیل دیتے جس کے نتیجے میں پاکستان چند سالوں کے اندر فلاحی ریاست بن جاتا۔ “

لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بانی پاکستان کے پاس اتنا بھی وقت نہیں تھا کہ وہ ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے کم ازکم جاگیرداری کے خاتمے کا اعلان ہی کر دیتے؟ اور اگر پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا مقصود تھا تو پھرمولانا شبییراحمد عثمانی کے بجائے جوگندرناتھ منڈل کو وزیر قانون کیوں بنایا گیا؟ ایک احمدی ’سر ظفراللہ خان‘ کو کیوں وزیرخارجہ بنایا گیا؟

یہ درست ہے کہ جدید تعلیم کی طرف مسلمانوں کا رجحان کم تھا بلکہ اس کی شدید مخالفت پائی جاتی تھی۔ کیا سرسید کی مخالفت ہندوؤں نے کی تھی؟ ان پر کفر کے فتوے کس نے لگائے تھے؟ ہندوؤں نے تو ان سے تعاون کیا تھا۔ ہمارے ایک شاعرجناب اکبرالہٰ آبادی نے جو خود انگریز دور میں اچھے عہدوں پر فائز رہے لیکن جدید تعلیم کی مذمت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ مثلاً

تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے، فقط سرکاری ہے
آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کو تعلیمی اورمعاشی پسماندگی سے نکالنے کے لئے کیا کوششیں کیں؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا 1947 ء سے پہلے تمام مسلمان جاہل ’گنواراور بدحال تھے اور تمام ہندو اعلیٰ تعلیم یافتہ اورخوش حال تھے؟ تقسیم ہند کے وقت مسلمان بیوروکریٹ کی تعداد ایک سو کے قریب تھی جن میں سے ایک دہلی کے چیف کمشنرصاحبزادہ خورشید احمد خان تھے۔ غالباً تین کے سوا یہ سب لوگ ہندوستان کے مسلمانوں کوبے آسرا چھوڑ کرجلدی جلدی ترقیاں پانے کے لئے پاکستان تشریف لے آئے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

شکیل چودھری

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب ’ہینڈ بک آف فنکشنل انگلش‘ کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے [email protected] )

shakil-chaudhari has 7 posts and counting.See all posts by shakil-chaudhari