گلگت کی پہلی انجینئرنگ یونیورسٹی اور تنازعہ اراضیات


قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں سخت حفاظتی حصار میں پہلے فیکلٹی آف انجینئرنگ کا افتتاح کردیا گیا۔ گلگت سے چند کلومیٹر دور چھلمش داس کے مقام پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے مذکورہ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں فیکلٹی آف انجینئرنگ کا منصوبہ دو سال قبل سابقہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے دور میں منظور ہوا تھا، کروڑوں روپے کی لاگت کا یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں دوکیمپسز یعنی گلگت اور سکردو کے لئے بھی تھا، تاہم بعد میں سکردو سے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا کیمپس ختم ہونے کی وجہ سے اس کے پی سی ون میں ترمیم کرکے اسے صرف گلگت تک محدود کردیا گیا۔

چند ماہ قبل ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے فیکلٹی آف انجینئرنگ، جو مستقبل میں مکمل یونیورسٹی کی حیثیت رکھے گا، کے لئے تقریباً 88 کروڑ روپے منظور کیے تھے تاہم قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے لئے سامنے اراضی کے حصول کا معاملہ درپیش تھا، چھملش داس کی ہزاروں کنال زمین اہالیان گلگت اور نومل کے درمیان متنازعہ تھی، جو نہ صرف عدالت میں زیر سماعت ہے، بلکہ دونوں اطراف سے باربار اپنی ملکیت قرار دے کر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

دونوں فریقین کو راضی کرکے اراضی کا حصول بلاشبہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کا مدبرانہ اور حکمت عملی پر مبنی فیصلہ تھا۔ اہالیان نومل نے اس اراضی کو بلامعاوضہ فراہمی کے لئے معاہدہ کرلیا ہے جبکہ اہالیان گلگت نے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے۔ تاہم اس زمین کی اصل ملکیت کا فیصلہ عدالت اور صوبائی حکومت کی جانب سے قائم کردہ لینڈ ریفارم کمیشن نے کرنا ہے۔ ملکیت کے معاملے پر یہاں بحث مراد نہیں ہے۔

گلگت بلتستان اپنے جغرافیائی لحاظ سے مکمل طور پر منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا قدرتی علاقہ ہے، جس کے قدم قدم پر موتی بکھرے ہوئے ہیں۔ معدنیات، سیاحت، پانی سے بجلی بنانے کے موزوں مقامات، اور کان کنی کے مواقع یہاں پر بے شمار ہے لیکن بدقسمتی ایسی رہی ہے کہ ان تمام اہم شعبوں کو جدید انداز میں پڑھانے اور لوگوں کو تربیت دینے کے لئے ایک بھی ادارہ نہیں ہے۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کے خواہشمند افراد کے لئے گلگت بلتستان میں کوئی جگہ نہیں ہے، مجبوراً انہیں گلگت سے ہجرت کرکے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، غربت میں گھرے اس علاقے کی اکثریتی آبادی کے لئے یہ ہجرت کوئی آسان یا معمولی بات نہیں ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم ہو یا کوئی اور میگا منصوبہ ہو وہاں پر غیر مقامی لوگوں کی کھپت کے امکانات زیادہ ہیں، جو دوبارہ عوام کو احساس محرومی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے نوجوانوں میں لاوہ پک رہا ہے، جنہیں بروقت دیکھنے کی ضرورتہے، جو حکومت تو نہیں دیکھ سکتی ہے اہل علاقہ کو خود دیکھنا چاہیے۔

پاکستان کے تمام اکائیوں میں گلگت بلتستان واحد ایسی اکائی ہے جس میں نہ انجینئرنگ یونیورسٹی ہے اور نہ ہی میڈیکل کالج ہے۔ مسلم لیگ ن کی سابقہ وفاقی حکومت نے بلاشبہ تعلیم کے شعبے میں گلگت بلتستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، جس کی تازہ ترین مثال اس دور میں منظور کی گئی انجینئرنگ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد ہے، جبکہ اس کے علاوہ بلتستان یونیورسٹی، کے آئی یو غذر کیمپس، کے آئی یو ہنزہ کیمپس اور کے آئی یو دیامر کیمپس بھی اس کی روشن مثالیں ہیں۔ جس کا اعتراف نہ کرنا یا کنجوسی ہوگی یا بدنیتی ہوگی۔

گلگت بلتستان کے وہ لوگ جو سوشل میڈیا میں انجینئرنگ فیکلٹی نہ ہونے کا واویلا کررہے تھے انہیں بھی یقینا اس بات کو سراہنا چاہیے۔ پہلی مرتبہ گھر کی دہلیز پر انجینئرنگ کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے، یہ کالج یا یونیورسٹی بھی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے روایت کے مطابق علاقے میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طرح معیار پر قابو نہ پانے کا معاملہ اس شعبہ پر بھی لگ سکتا ہے جس کو شروع سے ہی دیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ یہاں کی تعلیم اور دیگر نامور اداروں کی تعلیم میں کوئی فرق نہ ہوں۔ اسی طرح اگر اس نئے شعبے میں بھی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طرح اقرباءپروری اور میرٹ کی پامالی جیسے معاملات کو قابو نہیں پایا گیا نہ صرف حقدار حق سے محروم ہوگا بلکہ علاقے میں بیروزگاری کا جن بھی بوتل سے باہر نکل سکتا ہے۔

فیکلٹی آف انجینئرنگ کے لئے حاصل کردہ اراضی میں ایک روز قبل اہالیان گلگت نے (بقول ان کے ) حکم امتناعی لئے رکھا تھا، اور یونیورسٹی کی جانب سے نصب کردہ بورڈ کو اکھاڑنے کے الزام پر 9 افراد کے خلاف پرچہ کاٹا گیا، کے آئی یو تھانہ نے انہیں گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا۔ کے آئی یو تھانہ میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران پہلا ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس میں بیک وقت نو افراد کے خلاف پرچے کاٹے گئے اور ایک ہی روز نو افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

تاہم اگلے روز وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، یونیورسٹی انتظامیہ، سیکریٹریز، ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کے افسر ان اور حساس اداروں کے نمائندوں کی موجودگی میں سنگ بنیاد رکھا گیا اور تقریب بھی منعقد کی گئی۔ جبکہ چاروں طرف حفاظتی حصار باندھا گیا تھا۔ گلگت کے باشندگان کے لئے یہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ ان کی ملکیتی چراگاہوں کا معاملہ گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا ءہے۔

گلگت میں حکومت کی جانب سے اراضی کے حصول کا معاملہ گلگت ائیرپورٹ کے لئے اراضی کے حصول سے شروع ہوا۔ 1952 میں وفاق نے گلگت میں ائیرپورٹ کے قیام کے لئے سینکڑوں کنال زمین لی اور مالکان سے مختلف معاہدے کیے جن پر آج 66 سال گزرنے کے باوجود کوئی عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ گلگت کی تاریخ میں ائیرپورٹ اراضی کا معاملہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہ پہلا مشترکہ معاملہ ہے جس میں تینوں مسالک کے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین ائیرپورٹ نے اس حوالے سے وفاقی محتسب میں کیس دائر کیا اور کیس بھی جیت گئے، جس میں متاثرین کو معاوضوں کی فراہمی، متبادل زمین اور سول ایوی ایشن میں کوٹہ مختص کرنے کا حکم دیدیا گیا۔

خود وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے 2015 کے انتخابات کے دوران متاثرین ائیرپورٹ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کا کیس لے کر وفاق جائیں گے اور جلد از جلد عملی اقدامات شروع کریں گے۔ بعد میں متاثرین کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کرکے دوبارہ یاددہانی بھی کرادی لیکن معاملہ جوں کاتوں پڑا رہا۔ پھر ارد گرد کے چراگاہوں کے معاملات کی وجہ سے اہالیان گلگت میں غم و غصہ بھرا ہوا تھا جو اب جاکر چھملش داس کے معاملے پر اتر رہا ہے۔ اگر صرف ایک معاملہ ہو جس میں خدمات کے لئے اراضی حاصل کرلی گئی ہو تو یقینا لوگ بخوشی زمین دیں گے لیکن یہاں پر تسلسل ہے۔

گلگت بلتستان میں تین قسم کے محکمہ جات ہیں، ایک صوبائی سطح کے، دوسراڈویژنل سطح کے جبکہ تیسرا ضلعی سطح کا۔ اگر کسی علاقے میں حکومت زمین لیتی ہے تو یہ قاعدہ ہے کہ ضلعی سطح کے آسامیوں میں مقامی افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر چھملش داس کے معاملے کو عدالت میں زیر سماعت قرار دے کر الگ کردیا جائے تو بھی گلگت کونوداس سے لے کر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی تک درجنوں سرکاری و غیر سرکاری دفاتر موجود ہیں لیکن مقامی افراد کا جو حق ہے انہیں اس سے محروم رکھا گیا ہے۔ دلچسپ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اراضی اور ضلعی سطح کے آسامیوں کا معاملہ دیگر تمام اضلاع میں موجود ہے سوائے گلگت کے۔

Facebook Comments HS