تاریخِ اسلام کی مسجد اول کے بانی


حضرت عمّار بن یاسر کی کنیت ابو الیقضان ہے۔ آپ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ عنہ اور والدہ حضرتِ سمیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ عمّار کے والدین کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ آپ دونوں اسلام میں پہل کرنے والے تھے۔ حضرت عمّار رضی اللہ عنہ کے والدین کا شمار اللہ کے دین کی خاطر مصائب، تکالیف اور سزا پانے والوں میں ہوتا ہے۔ علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ جب نبیؐ کا گزرعمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب سے ہوتا تو آپؐ عمّار کے والد کا نام لے کر فرماتے : ”یاسر کے گھرانے والو! صبر سے کام لو، تمہارا بدلہ جنت ہے۔ “ (الاصابۃ)

حضرتِ عمّار رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرتِ سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی سب سے پہلی خاتون شہیدہ ہیں اور یہ وہ اعزاز ہے کہ جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہو سکا اور نہ قیامت تک ہو سکے گا۔ ایسے عظیم والدین کی اولاد حضرت عمّار رضی اللہ عنہ جیسی ہی ہو سکتی ہے۔

ابنِ اثیر حضرت عمّار رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے متعلق لکھتے ہیں کہ حضرت عمّار رضی اللہ عنہ نے اُس وقت اسلام قبول کیا تھا کہ جب اہلِ اسلام کو مشکلات کا سامنا تھا اور اس وقت رسول اکرم ﷺ ارقم کے گھر میں پوشیدہ تھے۔ (اُسد الغابۃ)

ایسے ایام میں کہ جب کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو طرح طرح کی ازیتیں دے رکھی تھیں ایسے دور میں اسلام لانے کا اقرار کرنا آسان مرحلہ نہیں تھا، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوبِ کریمﷺ کو قوت عطا فرمائی اور نبی پاکؐ اور آپؐ کے اصحاب پر سخت حالات آہستہ آہستہ نرم ہوتے گئے، جو سختیاں اوائل دور میں اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمٰعین نے برداشت کیں اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: ”سب سے پہلے سات افراد نے اسلام ظاہر کیا، ان میں حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا شمار کیا جاتا ہے۔ “ (الاصابۃ)

حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شان میں آیاتِ قرآنی بھی نازل ہوئی ہیں جیسے کہ علامہ محمد بن سعد (المتوفی: 230 ہجری) ابی عبیدہ بن محمد سے روایت کرتے ہیں کہ، کفار مسلمانوں کو پکڑ لیتے اور انہیں ظلم و سِتم کا نشانہ بناتے اور اس شرط پر چھوڑتے کہ وہ (مسلمان) کفار کے جھوٹے خداؤوں کی تعریف اور اپنے سچے معبود اور پیغمبر اکرمﷺ کی بُرائی کرے، اگر کوئی مسلمان ایسا کہنے پر تیار نہیں ہوتا تو کفار اُسے قتل کر دیتے۔

ایک مرتبہ حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بھی کفّار نے قبضہ میں لے لیا اور بہت مارا پیٹا، اس کے بعد یہی مطالبہ رکھا کہ اگر محمد ابن عبداللہﷺ کو بُرا کہے گا تو تجھے چھوڑ دیا جائے گا، تو عمّار بن یاسررضی اللہ عنہ نے مجبوراً صرف زبانی طور پر سرکارِ رسالت مآب ﷺ کو بُرا اور ان کے جھوٹے معبودوں کو اچھا کہہ دیا۔ اس کے بعد اُن کفّار نے حضرت عمّار رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کے بعد حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ رحمتِ عالمﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: عمّار کیا خبر لائے ہو؟

عمّار نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ بہت ہی بُری خبر ہے، میں اس سبب سے زندہ بچ کر آیا ہوں کہ میں نے آپؐ کی بُرائی کی اور ان کے جھوٹے معبودوں کی تعریف کی، تاجدارِ کائناتﷺ نے پوچھا : تم اپنے دل کی کیا کیفیت پاتے ہو؟ تو عمّار نے کہا: دل تو ایمان پر قائم ہے، اس بات پر نبی کریمﷺ نے فرمایا: اے عمّار! کچھ مضائقہ نہیں، اگر وہ تم سے ایسا دوبارہ کریں تو پھر سے تم ایسا ہی کرنا۔ اسی بات پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (طبقات ابن سعد)

ترجمہ القرآن: ”سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دِل (بدستور) ایمان سے مطمئن ہے، لیکن وہ شخص جس نے شرحِ صدر کے ساتھ کفر (اختیار) کیا سو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے۔ “ (سورۂ نحل: 16، آیت: 106 )

ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت،

ترجمہ القرآن: ”بھلا وہ (مومن) جو رات کی گھڑیوں میں سجود و قیام کی حالت میں عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی اُمید رکھتا ہے، فرما دیجئے : کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ (سورۂ زمر: 39، آیت: 9 ) حضرتِ عمّار بن یاسررضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی۔ (طبقات ابنِ سعد)

عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہجرتِ مدینہ کا شرف بھی حاصل کیا، لوگوں نے بیان کیا کہ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ تمام مشاہد میں رسول اکرمﷺ کے ہمراہ حاضر تھے، غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، اور غزوۂ خندق کے ساتھ ساتھ بیعتِ رضوان میں بھی نبی کریمﷺ کے ساتھ تھے۔ (طبقات ابن سعد)

تاریخِ اسلام کی سب سے پہلی مسجد بنانے والے اور اس میں نماز پڑھنے والے حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔ قاسم بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جس نے مسجد بنا کر اُس میں نماز پڑھی وہ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (طبقات ابن سعد)

حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا رسول اکرمﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو بوقتِ چاشت وہاں پنہچے تھے تو حضرتِ عمّار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بڑی ضرورت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے لئے کوئی جگہ ایسی بنا دیں جہاں آپﷺ دوپہر کو سایہ میں بیٹیں اور وہیں آپﷺ نماز ادا کریں چنانچہ پتھر جمع کیے اور مسجد قباء جو کہ اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے کی بنیاد ڈالی گئی اور وہ بنیاد ڈالنے کا شرف حضرتِ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مِلا۔ (اُسد الغابۃ)

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک بار میرے (خالد بن ولید) اور عمّار بن یاسر کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی تو خالد بن ولید نے اُنہیں (عمّار بن یاسر) کو ڈانٹ پِلائی، عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے رسولِ اکرمﷺ سے خالد بن ولید کی شکایت کی، اسی دوران خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریمﷺ نے اپنا سر مبارک اُٹھایا اور فرمایا: ”جو عمّار سے دُشمنی رکھے گا اُسے اللہ سے دشمنی مول لینی پڑے گی اور جسے عمّار سے بغض ہو گا اُسے اللہ کے بغض کا نشانہ بننا پڑے گا۔ “ (اُسد الغابۃ)

حسن سے مروی ہے کہ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کے ہمراہ انسان اور جن سے قتال کیا ہے، اس پر حضرتِ عمّار رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ انسانوں سے تو قتال کیا ہے مگر جّن سے کیسے کیا؟ عمّار نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ کسی منزل میں اُترے، میں نے مَشک اور ڈول لیا کہ پانی پیوں تو رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: دیکھو عنقریب ایک آنے والا تمہارے پاس آئے گا اور تمہیں پانی سے روکے گا۔ ”جب میں کُنویں کے سِرے پر تھا تو ایک کالا آدمی آیا، اس نے کہا واللہ آج تم اس سے ایک ڈول پانی بھی لینے نہ پاؤ گے، میں (عمّار) نے اُسے پکڑا اور اس نے مجھے (عمّار) کو پکڑا میں (عمّار) نے اسے پچھاڑ دیا اور ایک پتھر لے کر اُسکی ناک اور منہ توڑ دیا، اس کے بعد مشکیزہ بھر کر رسولِ اکرمﷺ کے پاس لایا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:“ کُنویں پر تمہارے پاس کوئی آیا تھا؟

”میں ( عمّار) نے عرض کیا ایک حبشی غلام آیا تھا، آپﷺ نے فرمایا:“ تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ ”میں ( عمّار) نے نبی کریمﷺ کو اطلاع دی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:“ تم جانتے ہو کہ وہ کون ہے؟ ”میں (عمّار) نے کہا: نہیں! نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:“ وہ شیطان (جنّ) ہے جو آکر تمہیں پانی سے روکتا تھا۔ (طبقات ابنِ سعد)

حضرتِ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں رسول اللہﷺ کی بہت سی احادیث ملتی ہیں۔ حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ عمّار بن یاسر نے نبی کریمﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپﷺ نے فرمایا: ”اِسے اجازت دے دو، آؤبھئی خوش آمدید! پاک و پاکیزہ۔ “ (الاصابۃ)

ایک اور مقام پر حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں : ”میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا:“ عمّار کے دِل میں ایمان بھر دیا گیا ہے۔ ” (ترمذی، ابن ماجہ، الاصابۃ، اُسد الغابۃ)

اُم المومنین حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں، رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ”عمّار کے سامنے جب کبھی دو باتیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ (عمّار) اسی بات کو اختیار کرتا ہے جن میں رُشد و ہدایت زیادہ ہو۔ (اُسد الغابۃ)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرتِ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اہلِ کوفہ کو یہ خط لکھا تھا کہ ”میں (عمر بن خطاب) نے عمّار بن یاسر کو تم پر حاکم بنا کر اور عبداللہ بن مسعود کو ان کا وزیر اور تمہارا معلم مقرر کر کے بھیجا ہے یہ دونوں محمد مصطفٰیﷺ کے برگزیدہ اصحاب میں سے ہیں پس تم سب ان دونوں کی پیروی کرو۔ “ کچھ عرصے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اس عُہدہ سے معزول کیا تو ان سے پوچھا کہ کیا اس معزول کرنے سے تم کچھ نا خوش ہو گئے ہو؟

حضرتِ عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا واللہ ہم حکومت ملنے سے خوش نہیں ہوئے تھے اورنہ ہی معزول ہونے سے نا خوش ہوئے ہیں۔ (اُسد الغابۃ) اس واقع سے صحابۂ کرام کی طرز زندگی اور اُن کی روح کی پاکیزگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُنہیں حکومت و سلطنت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اگر انہیں یہ منصب عطا بھی ہو جاتا تھا تو وہ اسے حقوق العباد یعنی معاشرتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے نبھاتے اور اللہ کی رضا کے خواہشمند رہتے۔

اس معزولی کے بعد حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں رہنے لگے، یہاں تک کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلیفہ منتخب ہوگئے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے پہلے ہی سال میں جنگِ جمل اوردوسرے سال جنگِ صفین کا معارکہ رونما ہوا، اِن دونوں جنگوں میں حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر میں شامل تھے اور مخالفین سے بھرپور انداز میں جنگ کرتے رہے، 37 ہجری جنگِ صفین میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔

عمارہ بن خزیمہ سے مروی ہے کہ میرے والد خزیمہ بن ثابت جنگِ صفین میں موجود تھے، لیکن اُنہوں نے اپنی تلوار میان سے نہ نکالی، خزیمہ فرماتے تھے کہ میں اُس وقت تک تلوار نہیں نکالوں گا جب تک عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ قتل نہ ہو جائیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”عمّار بن یاسر کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ “ عمّار کے قتل کے بعد خزیمہ بن ثابت پر واضح ہو گیا کہ باغی گروہ کون ہے۔ (طبقات ابن سعد، اُسد الغابۃ)

عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ جب قتل کیے گئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : ”مسلمانوں میں سے جس شخص پر عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قتل گراں نہ ہو اور ان کی وجہ سے اُس پر دردناک مصیبت آئے تو وہ بے راہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے قدیم اصحاب میں سے کسی ایک کو بھی اس میں شک نہیں تھا کہ عمّار بن یاسر کے لئے بہت سے موقعوں پر جنت واجب ہوئی۔ (طبقات ابن سعد)

حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ نے پڑھائی اور اُنہیں صفین (مُلکِ شام میں رَقّہ کے قریب لبِ فرات کا مقام) میں ہی دفن کیا گیا۔ (طبقات ابن سعد، اُسد الغابہ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

کنور اسد علی کی دیگر تحریریں
کنور اسد علی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں