فحاشی اور عریانی سے پاک ٹی وی ڈراما


پیمرا نے ٹی وی چینلز کو متنازع اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی نشریات روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ڈراموں میں نامناسب لباس کی نشاندہی کرتے ہوئے پریس ریلیز میں کہا کہ اس طرح کے ڈرامے ناظرین کے لئے ذہنی اذیت اور کوفت کا سبب بن رہے ہیں۔ عورت کو پیش کیے جانے کے انداز پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے موضوعات کو ڈراموں میں پیش کریں جو حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی کریں۔

جب سے پیمرا کی ہدایات جاری ہوئی ہیں خاکسار یہ سوچ رہا ہے کہ ہمارے رائٹرز غیر اخلاقی موضوعات و معاملات پر ڈرامے کیوں لکھتے ہیں۔ اس طرح تو بے راہ روی اور برائیوں کو فروغ ملتا ہے جبکہ وطن عزیز تو پاک لوگوں کے رہنے کی سر زمین ہے۔ چناں چہ فحاشی اور عریانی سے پاک ٹی وی ڈرامے بنانے کے حوالے سے نمونے کا ایک ڈراما بالکل مفت پیشِ خدمت ہیں حالاں کہ یہ گرانی کا دور ہے۔

پہلے سین میں کیمرہ مرکزی کردار عبدالقدوس کو سوئے ہوئے دکھاتا ہے۔ ان کے پہلو میں ان کی بیوی کو دکھانے کی بجائے ایک تکیہ دکھایا جائے جس پررکھے ورق پر لکھا ہو یہاں عبدالقدوس کی بیوی سو رہی ہے۔ عبدالقدوس اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرنے لگتا ہے۔ کیمرہ دیوار پر لگی آیات کو زوم ان کرے۔ پھر دوسرا سین شروع ہوتا ہے۔ عبدالقدوس نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد کی طرف رواں دواں ہے۔ مسجد میں نمازیوں کی کثیر تعداد کو دکھایا جائے۔

تیسرے سین میں عبدالقدوس اپنے دوست اللہ دتہ سے گفتگو کر رہا ہے۔
اللہ دتہ: بھائی عبدالقدوس سناؤ کیا حال ہے؟

عبدالقدوس: اللہ کا شکر ہے۔ سب اچھا ہے۔ ہماری حکومت ہمارے لئے گراں بہا نعمت سے کم نہیں۔ خیبر سے کراچی تک امن و امان ہے۔ میں نے تو اخبار خریدنا بھی بند کر دیا ہے کیونکہ روز ایک ہی طرح کی خبریں ہوتی ہیں صرف تاریخ مختلف ہوتی ہے۔ جیسے وزیرعظم نے اپنے ہاتھوں سے غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کو کھانا کھلایا۔ سوراخوں والی قمیص پہن کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ یتیموں اور بیواؤں میں کپڑے تقسیم کیے ۔ شہر میں آج بھی کوئی چوری کی واردات نہیں ہوئی۔ ایک جوانی سے بھرپور نوجوان نے آٹھ سالہ بچی کو گھر کا راستا بھول جانے پر با حفاظت گھر پہنچایا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی سر توڑ کوشش کے باوجود کسی ہوٹل سے گدھے کا گوشت برآمد نہ کر سکی۔ حکومت کا محکمہ پولیس ختم کرنے پر غورکیونکہ ملک میں غیر قانونی دھندے، شراب اور دیگر منشیات کی فروخت، لاقانونیت وغیرہ ختم ہو چکی ہے۔

اللہ دتہ: بجا فرمایا۔ واقعی ہم خوش قسمت ہیں جو ایسی جنت میں رہتے ہیں۔ اچھا حضرت آپ نے اپنے بیٹے عبدالودود کے بیاہ کے سلسلے میں کیا سوچا ہے؟
عبدالقدوس: قبلہ اگر آپ اسے اپنی فرزندی میں لے لیں تو بندہ تا عمر آپ کا احسان مند رہے گا۔

اللہ دتہ: حضرت مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ آپ اپنے بیٹے سے مشورہ کر لیجیے۔
عبدالقدوس: جناب وہ میرا بیٹا ہے۔ انتہائی سعادت مند اور دین دار ہے۔ آپ مطلق فکر نہ کیجئیے۔

اب شادی کا سین دکھایا جائے۔ اس میں دلہن کے مہندی لگے ہاتھ اور پاؤں میں پہنے ہوئے جوتے دکھائے جائیں۔ پھر مولوی صاحب کا پر نور چہرہ دکھایا جائے اور نکاح کے بعد مبارک سلامت کی آوازیں سنائی دیں۔ عبدالقدوس اور ان کے دوستوں کے خوشی سے دمکتے ہوئے چہرے دکھائے جائیں۔ کیلنڈر پر سال گزرتا دکھایا جائے۔

اس کے بعد ہسپتال کا سین دکھایا جائے۔ ڈاکٹر دانت نکالتے ہوئے عبالقدوس کے بیٹے عبدالودود کے پاس آ کر کہے۔ مبارک ہو مجھے نرس نے بتایا ہے کہ آپ کا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ یہاں سین ختم ہوا۔ اگلا سین۔

دیوار پر پانچ برقعے ٹنگے ہوئے دکھائے جائیں۔ عبدالودود اور بوڑھا عبدالقدوس بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔
عبدالقدوس: بیٹا میری بہو اور پوتیاں کہاں ہیں؟
عبدالودود: ابا جان آپ کی بہو روٹیاں پکا رہی ہے اور چاروں پوتیاں دستر خوان سجا رہی ہیں۔ بلاؤں کیا؟

عبدالقدوس: نہیں نہیں میں نے تو جنرل نالج کے لئے پوچھا تھا۔ ویسے میرا پوتا صبغت اللہ کہاں ہے؟
عبدالودود: آپ کو بتایا تو تھا بھول گئے کیا۔ وہ تو آج ہی تبلیغی جماعت کے ساتھ نکلا ہے۔ (کٹ)

اگر رائٹر ہر حال میں رومانوی سین دکھانے پر مصر ہو تو ایسے دکھایا جا سکتا ہے۔ صبغت اللہ اپنی منگیتر کے ساتھ ایک کزن کی شادی میں ملتا ہے۔ اس کی منگیتر اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہے۔ سب نے کالے برقعے پہنے ہوئے ہیں۔ منگیتر کی آنکھوں پر کالا چشمہ ہے۔ اسی سے پہچان ہوگی کہ وہ صبغت اللہ کی منگیتر ہے باقی لڑکیوں نے براؤن چشمے لگائے ہوئے ہیں۔ صبغت اللہ زمین پر نگاہیں گاڑے منگیتر سے باتیں کر رہا ہے۔

صبغت اللہ: بندہ آپ کو مطلع کرنے کی جسارت کر رہا ہے کہ اباجان ہمارے نکاح مسنونہ کے لئے فروری کے مہینے کی پندرہ تاریخ مقرر کرنے پر رضا مند ہیں کیونکہ چودہ تاریخ بڑی منحوس ہے۔
منگیتر: ہائے اللہ! آپ بڑے بے شرم ہیں۔ سب کے سامنے بتا رہے ہیں۔

صبغت اللہ: واللہ محترم خاتون ایسی کوئی بات نہیں در اصل میں آپ سے خلوت میں ملاقات کرنے سے قاصر ہوں مبادا کسی کمزور لمحے کی لغزش مجھے گناہ کی اتھاہ گہرائیوں میں نہ پھینک دے لیکن آپ کو مطلع کرنا مقصود تھا لہٰذا یہ الفاظ اپنی گنہگار زبان سے ادا کر بیٹھا۔
منگیتر: ماشا اللہ آپ کی انہی اداؤں نے ہمیں آپ کا گرویدہ بنایا ہے۔ اب آپ مردانے میں تشریف لے جائیے ہمیں بڑی شرم آ رہی ہے۔

آپ چاہیں تو صبغت اللہ کی شادی پر ڈرامے کو ختم کر دیں یا ایک اور نسل کے پروان چڑھنے کی کہانی بھی شامل کردیں۔ بہر حال ایسے ڈرامے بنائے جانے چاہیں۔ اس طرح کے ڈرامے پیمرا کی ہدایات کے مطابق فحاشی اور عریانی سے پاک ہوں گے۔ اور کوئی غیر اخلاقی موضوع بھی پیش نہیں ہو گا۔ نا مناسب لباس کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ امید ہے ہمارے ڈراما نگار اس نمونے سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ڈراموں میں اسی طرح پاکستانی معاشرے کی صحیح عکاسی کریں گے۔

Facebook Comments HS