برف کی چادر میلی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 187
  •  

جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو خوفزدہ ہونے کی بجائے شدید حیرت میں مبتلا ہوا تھا۔ میری عمر یہی کوئی آٹھ نو برس رہی ہو گی۔ یہ تو بعد لوگوں نے بتایا تھاکہ اسے پہلی بار دیکھنے پر خوفزدہ ہونا ایک فطری تقاضا تھا۔ اب معلوم نہیں اس عمر میں شعور فطری تقاضا سمجھنے سے غافل تھا یا میرا جبلی وجود فطرت سے بغاوت پر آمادہ تھا۔ بابو پاگل تھا۔ ایک مکمل پاگل جو ہمہ وقت ایک پتھر ہاتھ میں لئے ننگے پیر چلتا تھا۔ کوئی قریب جاتا تو بابو پتھر اٹھا کراسے مارنے کو دوڑتا اور ہم سارے بچے ڈر کر ایسے سرپٹ دوڑتے کہ ماں کی آغوش میں پہنچ کر ہی پلٹ دیکھتے کہ کہیں بابو ہمارے پیچھے گھر تو نہیں پہنچ گیا؟

اب جو یاد آتا ہے تو دل ہی دل میں مسکرا دیتا ہوں۔  ذہن میں گاہے یہ خیال بھی آتا ہے کہ گاؤں کے وہی بچے جو اب سارے جوان مرد ہیں، کبھی اتفاق سے ملیں تو میں ان سے یہ پوچھوں گاکہ بابو تو ایک ہی تھا۔ ہم سارے بچے اپنی اپنی ماؤں کے گود میں پہنچ کر جب خوف سے پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھتے تو کیا ہم بابو کو کئی بابوؤں میں تقسیم کر لیتے تھے یا ہمارے اندر کوئی اپنا اپنا بابو رہتا تھا جو اسے دوڑا کر ایک محفوظ آغوش میں پہنچا دیتا تھا۔ کار زار حیات مگر اب ایسا دراز ہے کہ یہ ملاپ شاید ہی ممکن ہو سکے۔

میں نے بابو کو پہلی بارایک برفیلی صبح دیکھا تھا۔ دسمبر شروع ہو جاتا تومیں روز صبح سورج نکلنے سے بہت پہلے جاگتا۔ جاگتا کیا تھا، جگاتی تو ماں جی تھیں کہ نماز پڑھو مگر میں نماز کی پابندی سے زیادہ دروازہ کھول کر باہر جھانکنے کا فرض پوراکیا کرتا تھا۔ ہمارے ہاں ٹی وی نہیں تھا اور ریڈیو کا تقدس ایسا تھا کہ اس ناہنجاز کے گھونگھٹ اٹھانے کا حق صرف والد صاحب کو تھا۔ سو موسم کی پیش گوئی ہمارے ہاں ایک بدعت تھی اور ہم سمجھتے تھے کہ بادل کسی بھی وقت آ سکتے ہیں اور برس سکتے ہیں بھلے محکمہ موسمیات نے آئندہ چھ دن خشک رہنے کا اعلان کر رکھا ہو۔

مجھے روز صبح دروازے سے جھانک کر یہ دیکھنا ہوتا تھا کہ کہیں برف تو نہیں پڑی؟ جس دن برف پڑی ہوتی میں سرپٹ باہر بھاگ جاتا اور پھر گھنٹوں بعد جب ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں ٹھنڈ سے سن ہوتیں تب ہی گھر لوٹتا۔ یہ ایک ایسا ہی دن تھا۔ میں نے باہر جھانکا تو برف پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی جلدی کوٹ پہنا اور جوتے پہن کر دوڑ لگا دی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ باورچی خانے سے اماں کی آواز آئی تھی کہ ٹوپی تو پہن کر جاؤ مگر آج تو محبوب آیا تھا۔

اس سے ملنے کے لئے ٹوپی کا کیا تردد۔ یہ بالکل بلامبالغہ بات ہے کہ مجھے برف سے اس وقت سے محبت ہے جب میں نے اسے پہلی مرتبہ برستے دیکھا تھا اور وہ محبت آج تک اتنی ہی شدید ہے۔  اسلام آباد میں رہتے مدت ہو گئی مگر برف سے شدید محبت کے باوجود کبھی مری برف دیکھنے نہیں گیا۔ جانے کا اتفاق ضرور ہوا ہے مگر کبھی من سے نہیں گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے برف کو طویل میدانوں دیکھا ہے جب میلوں اس کی چادر پر انسانی قدموں کے نشان نہیں ہوتے تھے۔

 کسی شہری علاقے میں برف پر قدموں کے نشان دیکھ کر مجھے برف میلی نظر آتی ہے۔  اب جس سے محبت ہو بھلے اسے میل کے ساتھ بھی باہیں کھول کر قبول کیا جا سکتا ہے پھر اس کے میل کو اپنے ہاتھوں سے اتارنا ایک کار خدائی لگتا ہے۔  ادھر مشکل یہ ہے کہ آپ کے پاس قدموں کا میل اتارنے کا کوئی چارہ نہیں۔  سو میں برف دیکھنے کا تردد ہی کیوں کروں؟

گھر سے نکلا تو میلوں تک برف کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔ چلتے چلتے گاؤں سے دور ایک ایسے مقام پر گھات لگا کر بیٹھ گیا جو اس کچے رستے کے قریب تھا جو گاؤں سے شہر کو جاتا تھا۔ قدرے چھوٹے اور بہت طویل وقفوں کے بعد گاؤں کی طرف سے کوئی نہ کوئی پیدل یا سائیکل سوار میرے پاس سے شہر کو نکل جاتا۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے پہلی بار بابو کو دیکھا تھا۔ میں کسی سوچ میں رہا ہوں گا کہ میری نظر بابو پر پڑی جو اس رستے پر چلا آ رہا تھا۔

 مجھے اس کی چال میں بہت اجنبیت نظر آئی مگر گاؤں کے کسی شخص سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ بابو قریب آیا تو میں کچھ خوفزدہ ہوا۔ اس نے ہاتھ میں ایک پتھر اٹھا رکھا تھا۔ اس کے کپڑے میلی برف سے زیادہ میلے تھے۔  مگر اس خوف پر حیرت اس لئے غالب رہی کہ بابو کے پیر ننگے تھے۔  برف سے ہم آغوش ہوتے یہ میرا پہلا دن نہیں تھا۔ میں گھڑی نہ ہونے کے باوجود تعین کے ساتھ اندازہ لگا سکتا تھا کہ کتنے ساعت بعد ننگے پیر چلتے ہوئے انگلیاں اور پاؤں سن ہوتے ہیں۔

اسی سوچ کے کسی منزل پر تھا کہ بابو میرے پاس پہنچا۔ مجھے ایک مسکراہٹ بھری نظر سے دیکھا سے اور اپنی رفتار سے گزر گیا۔ خوف سے میں بھی مسکرایا ہوں گا مگر اس کی مسکراہٹ کی کسی توجیح کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے میں اسی سوچ میں غرق تھا کہ بابو کے پیر کب سن ہوتے ہیں۔  میں بابو سے واقف نہیں تھا اس لئے میں نے حساب لگا لیا کہ بڑے نالے تک پہنچتے پہنچتے بابو کے پیر سن ہو جائیں گے اور بابو بیٹھ جائے گا۔ سو میں بابو کو دیکھتا رہا۔ دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کا ہیولا معدوم ہو گیا مگر اس کے پیر سن نہ ہوئے۔

گھر پہنچ کر مجھے علم ہوا کہ بابو پاگل ہے اگر اسے تنگ کیا جائے تو وہ پتھر مار دیتا ہے۔  یوں میں نے طے کر لیا کہ میں کبھی بابو کو تنگ نہیں کروں گا۔ وقت گزرتا رہا۔ برف روز تو گرتی نہیں تھی البتہ میرے معمولات میں برف کے ساتھ بابو کو بازار جاتے دیکھتے رہنا بھی ایک مشغلہ بن گیا۔ کچھ بچے بابو کو تنگ بھی کرتے تھے۔  گاہے ایسا بھی ہوتا تھا کہ میں بچوں کی ٹولی میں شامل ہوتا تھا مگر خود کبھی آواز نہیں کسی۔ کسی اور بچے کی شرارت نے البتہ کئی بار مجھے بھی بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 187
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 178 posts and counting.See all posts by zafarullah