حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے
دروازہ کی دھڑ دھڑ اور ”کواڑ کھولو“ کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں اس طرح گونجیں جیسے گہرے تاریک کنوئیں میں ڈول کے گرنے کی طویل، گرجتی ہوئی آواز۔ اس کی پر خواب او نیم رضا مند آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں لیکن دوسرے لمحہ ہی منہ اندھیرے کے ہلکے ہلکے اجالے میں ملی ہوئی سرمہ جیسی سیاہی اس کے پپوٹوں میں بھرنے لگی اور وہ پھر بند ہو گئیں۔ آنکھوں کے پردے بوجھل کمبلوں کی طرح نیچے لٹک گئے اور ڈلوں کو دبا دبا کر سلانے لگے لیکن کان آنکھوں کی ہم آہنگی چھوڑ کر بھنبھنا رہے تھے۔ وہ اس سحر خیز حملہ آور کی تازہ یورش کے خلاف اپنے روزن بند کر لینا چاہتے تھے اور پھر بھی بھنبھنا رہے تھے۔
امید و بیم کی یہ کشمکش جسے نیند شاید جلد ہی اپنے دھارے میں غرق کر لیتی، زیادہ دیر جاری نہ رہی۔ اب کے تو دروازہ کی چولیں تک ہلی جا رہی تھیں اور آوازیں زیادہ بے صبر، بے تاب، کرخت اور بھرائے ہوئے گلے سے نکل رہی تھیں۔ ”کھولو کھولو۔ “ یہ آوازیں پتلی، نوک دار تتلیوں کی طرح دماغ میں گھس کر نیند کے پردوں کو تار تار کیے دے رہی تھیں۔ وہ یہ بھی سن رہی تھی کہ پکارنے والا کھولو۔ کھولو کے وقفہ کے درمیان آہستہ ناخوشگوار ارادوں کا اظہار بھی کر دیتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ کوئی شخص اسے سڑک کے ڈھیلوں کو استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔ آخر اس نے آنکھیں پوری کھول دیں اور ہاتھوں کو چارپائی پر جھٹکتے ہوئے کہا۔ ”نصیبن دیکھو تو کون ہے؟ “
یہ اس کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی جب سے وہ اس قصبہ میں مڈ وائف ہو کر آئی تھی یہ سب کچھ روز ہوتا تھا یہی چیخیں، یہی دھڑ دھڑاہٹ فرض اور آرام کی یہی تلخ کشمکش یہی جھلاہٹ اور پسپائی سب اسی طرح، اسے صبح ہی اٹھ کر جانا پڑتا تھا اور پھر اس کا سارا دن نو واردوں کو احتجاجاً چیختے چلاتے، ہاتھ پاؤں پھینکتے دنیا میں آتے ہوئے دیکھنے میں، کچھ دن آئے ہوؤں کی رفتار کے معائنہ میں اور آمد و رفت کے اندراج کے لئے ٹاؤن ایریا کے دفتر تک بار بات دوڑنے میں گزرتا تھا۔
اسے دوپہر کو کھانا کھانے اور آرام کرنے کا وقت بھی ہزار کھینچ تان کے بعد ملتا تھا اور وہ بھی یقینی نہ تھا کیونکہ بچے پیدا ہونے میں موقع کا مطلق لحاظ نہیں کرتے۔ صبح چار بجے، دوپہر کے بارہ بجے، رات کے دو بجے ہر گھنٹہ ہر گھڑی اسے کوہِ ندا کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہنا پڑتا تھا اوربچے تھے کہ ایسی تیزی سے چلے آ رہے تھے جیسے پہاڑی ندی میں لڑھکتے ہوئے پتھر، ضبطِ تولید کے چرچے دولت نگر کو شہر سے ملانے والی کچی اور گڑھوں والی سڑک کو طے نہ کر سکتے تھے اور اگر بالفرض محال وہ رینگتے ہوئے وہاں تک پہنچ بھی جاتے تو یہ یقینی بات تھی کہ قصبے والے انہیں ذرا بھی قابلِ اعتنا نہ سمجھتے۔
کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بچے خدا کے حکم سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں انسان کا کیا دخل۔ 18 سالہ لڑکے، 56 سالہ بڈھے، الہڑ لڑکیاں، ادھیڑ عورتیں، سب کے سب حیرت انگیز تن دہی اور یک جہتی کے ساتھ سڑکوں کی نالیوں میں کھیلنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ کیے چلے جا رہے تھے۔ گویا وہ قومی دفاع کی خاطر کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور ہیں اور پھر وہ بچارے کرتے بھی کیا۔ وہ تو خدا کے حکم سے بے بس تھے۔ غرض یہ کہ بچے چلے آ رہے تھے۔ کالے بچے، پیلے بچے، پرنچے مرغ کی طرح سرخ بچے اور کبھی کبھی گورے بچے دبلے پتلے، ہڈیوں کا ڈھانچہ یا بعض موٹے تازے بچے، مڑے ہوئے بالوں والے چپٹی ناک والے، چھچھوندر کی طرح گلگلے، لکڑی جیسے سخت، ہر رنگ اور ہر قسم کے بچے۔
ایملی نے اپنی دادی سے سنا تھا کہ ان کے بچپن میں ایک مرتبہ پاؤ پاؤ بھر کے مینڈک برسے تھے۔ وہ کبھی کبھی سو چا کرتی تھی اور اس وقت اسے بے ساختہ ہنسی بھی آ جاتی تھی کہ یہ بچے وہی برسنے والے مینڈک ہیں۔ پاؤپاؤ بھر کے زرد زرد مینڈک۔
اور اسے انہی زرد مینڈکوں کی بارش کے ہر قطرہ کو برستے ہوئے دیکھنے کے لئے قصبے کی ٹوٹی پھوٹی روڑوں کی سڑکوں، تنگ و تاریک، سیلی ہوئی گلیوں، گرد و غبار، کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں، بھونکتے ہوئے لال پیلے کتوں اور کسانوں کی گاڑیوں اور گھاس دالیوں سے ٹھنسے ہوئے بازاروں میں سارا سارا دن گھومنا پڑتا تھا۔ پتلی پتلی سڑکوں پر دونوں طرف ریت کا حاشیہ ضرور بنا ہوتا تھا اور پھر نالیاں تو ٹھیک سڑکوں کے بیچوں بیچ بہتی تھیں جن کی سیاہی کسی گنوار دن کے بہے ہوئے کاجل کی طرح سڑک کا کافی حصہ غصب کیے رہتی تھی۔
صفائی کے بھنگی نالیوں کی گندگی سمیٹ سمیٹ کر سڑک پر پھیلا دیتے تھے جن سے اپنی ساڑھی کو محفوظ رکھنے کے لئے ایملی کو ہلکے ہلکے فیروزی سینڈل کے بجائے اونچی ایڑی والا جوتا پہننا پڑتا تھا۔ گو اس صورت میں سڑک کے ابھر ے ہوئے لا تعداد کنکر اس کے پیروں کو ڈگمگا دیتے تھے۔ راستہ میں گلی ڈنڈا اور کبڈی کھیلنے والے لونڈوں کا لا ابالی پن اس کے کپڑوں پر ہر دفعہ اپنا نشان چھوڑ جاتا تھا۔ مگر خیر شکر تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی آنکھیں اور دانت سلامت لے آتی تھی اور یہاں کی گرمی!
اسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ یقیناً پسینوں میں گھل گھل کر ختم ہو جائے گی۔ ان تنگ سڑکوں پر بھی سورج اس تیزی سے چمکتا تھا کہ اس کے بدن پر چنگاریاں ناچنے لگتیں اور اس کی نیلے پھولوں والی چھتری محض ایک بوجھ بن جاتی۔ جب وہ اپنی اونچی ایڑیوں پر لڑکھڑاتی، سنبھلتی، دھوپ میں جلتی بھنتی سڑکوں پر سے گزرتی تو اسے دور آلھا گانے کی آواز، ڈھول کی کھٹ کھٹ اور درخت کے نیچے تاش کی پارٹیوں کے بلند اور کرخت قہقہے دوپہر کی نیند حرام کر دینے والی بوجھل مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح بیزار کن اور پُر اِستہزا معلوم ہوتے اور وہ چار مہینے پہلے چھوڑے ہوئے شہر کا خیال کرنے لگتی۔
مگر شہر اس وقت خوابوں کی وہ سر زمین بن جاتا ہے جسے صبح اٹھ کر ہزار کوششوں کے باوجود کچھ یاد نہیں کیا جا سکتا اور جس کی لطافت کا یقین دن بھر دل کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ اسے کچھ روشنی سی معلوم ہوتی ایک چمک، ایک کشادگی، ایک پہنائی کچھ ہریالی اس کے سامنے تیرتی اور وہ پھر اسی تپتی ہوئی کنکروں، نالیوں اور ریت والی سڑک پر لڑکھڑاتی، سنبھلتی چل رہی ہوتی۔ بجلی کے پنکھے والے کمرے کا تصور اس تپش اور سوزش کو کم کرنے میں اس کی مدد نہ کرتا تھا لیکن، ہاں!
جب کبھی وہ خوش قسمتی سے رات کو فارغ ہوتی اور اسے اپنے بستر پر کچھ دیر جاگنے کا موقع مل جاتا تو اس وقت شہر کی زندگی کی تصویریں سینما کے پردے کی طرح پوری طرح روشنی اور صفائی کے ساتھ اس کی نظروں کے سامنے گزرنے لگتیں اور وہ جس تصویر کو جتنا دیر چاہتی ٹھہرا لیتی لیکن جب وہ ان تصویروں سے لطف اٹھانے کے درمیان ان مناظر کو یاد کرتی جن سے اسے ہر وقت دو چار ہونا پڑتا تھا تو اس کی خستگی اور بیزاری آہستہ آہستہ عود کر آتی۔
گھرکی دیواریں مع رات کی تاریکیوں کے اس پر جھک پڑتیں۔ دل بھنچنے لگتا، سانس گرم اور دشوار ہو جاتا اور اس کا سر کمننی کھا کھا کر نیند کی بے ہوشی میں غرق ہو جاتا اور وہ خواب میں دیکھتی کہ وہ پھر اسی شہر کے ہسپتال میں پہنچ گئی ہے، مگر ان در و دیوار سے بجائے رفاقت کے کچھ بیگانگی سی ٹپکتی ہے اور خود اس کے اعضاء منجمد اور ناقابل حرکت ہو گئے ہیں اور کوئی نامعلوم خوف اس کے دل پر مسلط تھا۔ وہ صبح تک یہی خواب تین چار مرتبہ دیکھتی اور دراصل اس کے لئے ان زندگیوں کا انتقال ہونا بھی چاہیے تھا۔
ایسے ہی اثرات پیدا کرنے والا، مانا کہ شہر میں بھی ایسی ہی ملی ہوئی گلیاں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گرد و غبار، شریر لڑکے موجود تھے اور وہ ان کے وجود سے بے خبر نہ تھی لیکن وہ تو ہوا کی چڑیوں کی طرح ان سب سے بے پرواہ اور مطمئن تانگے کے گدوں پر جھولتی ہوئی ان اطراف سے کبھی دسویں پندرہویں نکل جایا کرتی تھی۔ اس کی دنیا تو ان علاقوں سے دور ضلع کے صدر ہسپتال میں تھی۔ کتنی کھلی ہوئی جگہ تھی وہ؛ اور وہاں کا لطف تو ساری عمر نہ بھول سکے گی۔
ہسپتال کے سامنے تار کول کی چوڑی سڑک تھی جس پر دن میں دو مرتبہ جھاڑو دی جاتی تھی اور جو ہمیشہ شیشے کی طرح چمکا کرتی تھی جب وہ اپنی سہیلی ڈینا کے ساتھ اس پر ٹہلنے کے لئے نکلتی تھی تو دور دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں اور میدانوں پر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چہرے اور آنکھوں پر لگ لگ کر دماغ کو ہلکا کر دیتے تھے۔ اس کی ساڑھی پھڑپھڑانے لگتی، ماتھے پر بالوں کی ایک لڑی تیرتی اور اس کی رفتار سبک اور تیز ہو جاتی۔
ایسے وقت باتیں کرنا کتنا خوشگوار اور پر لطف ہوتا تھا۔ گرد و غبار کا تو یہاں نام بھی نہ تھا۔ مئی جون کے جھکڑ بھی ہسپتال کی سفید اور شیشوں والی عمارت پر سے سنسناتے ہوئے شہر کی طرف گزرتے چلے جاتے تھے اور بجلی کے پنکھے سے سرد رہنے والے کمرے میں دوپہر کی سختی اور اداسی اپنا سایہ تک نہ ڈال سکتی تھی۔ جب وہ پر وقار انداز سے ساڑھی کا پلہ سنبھالے گزرتی تھی تو ہسپتال کے نوکر چاروں طرف سے اسے ”میم صاحب“ کہہ کر سلام کرنے لگتے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


