محبت کی نماز میں۔ امامت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جذبات، سچے اور سُچے جذبات کو اگنور کرنا اوررد کرنا ظلم ہے۔ اور ہم انسان اکثریہ ظلم ایک دوسرے پر روارکھتے ہیں۔ اپنے جذبات کی بے قدری کا رونا روتے نہیں تھکتے اور دوسروں کے جذبات کو پامال کرنے سے بھی نہیں رُکتے۔ دل اور فکرکی پاکیزگی سے برآمد ہونے والے الفاظ اورخیالات، جب بے حسی اور بے پروائی کی نذرہوتے ہیں، تو پھر انسان کا جی چاہتا ہے کہ سب کچھ جلا کر، راکھ کردے، سب ختم کردے۔ اُس کے ساتھ اپنی کائنات، سب کی کائنات، ختم کردے۔ کیونکہ جذبات انمول ہوتے ہیں۔ ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے ہر انمول چیز، بے مول بک جاتی ہے۔ اس طرح ہمارے جذبات اور مقدس خیالات بھی اکثر ایسے ہی کم ظرف لوگوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ بے مول۔ بلاقیمت۔ ہر انمول، بے مول ہوتاہے، یوسف ہو یا کوہِ نور !

جب کوئی شخص آپ کو کچھ بتانا چاہے۔ یا جتانا چاہے یا الفاظ کے ذریعہ اور لفظوں کی سواری کرکے، آپ کی سماعت کے ذریعہ، دل کے عرش تک پہنچنا چاہے اور آپ مسلسل اس کو، اس کے الفاظ اور الفاظ کے معنی کو، سوچتے اورسمجھتے ہوئے بھی، نظرانداز کریں، تو اس سے بڑا دکھ شاید ہی دنیا میں کوئی دوسراہو۔ بے پروائی، دانستہ بے پروائی، بڑی جان لیوا ہوا کرتی ہے۔ اس میں جان نکلتی نہیں مگر وقفے وقفے سے ہر لفظ، فقرے اور ہوں، ہاں کے ساتھ، جان کنی ضرور ہوتی رہتی ہے۔ انسان مسلسل اذیت کا شکار رہتاہے۔ دوسراشخص بے بس ہوتاجاتاہے، ہونٹ کاٹتا ہے، ناخن چباتاہے، خود ہی روٹھ جاتاہے اور پھر خود ہی خودکو مناتا ہے۔

بے پروا توبے پروا رہتے ہیں۔ ان کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ ان کے ہاں کون آتاہے اورکب آتاہے اورچلا جاتاہے۔ اس کی پروا کسے۔ ایسے لوگ توبے کواڑکے گھر کی مانند ہوتے ہیں۔ جب مرضی آئیں، اپنی مرضی سے رکیں، ادھر ادھر دیکھیں، سن گن لیں، رکنا ہے رکیں، جب تک مرضی رکیں، جانا چاہتے ہیں جائیں، دن گزاریں یا رات، نہ کسی نے آتے ہوئے ”سواگت کرناہے اورنہ جاتے ہوئے ماتم۔ “ نہ کسی نے روکناہے۔ اور نہ کچھ دیرہاتھ پکڑکر بٹھانے کی ضد کرنی ہے۔ بس آپ ہی آپ ہیں اور آپ کے فیصلے ہیں۔ مرضی آپ کی اپنی ہے! شاید ایسے لوگ خود سے بیگانہ ہوجاتے ہیں۔ خود کو ختم کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کواپنی ضرورت نہیں رہتی۔

دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتے کرتے وہ اس حد تک تھک چکے ہوتے ہیں کہ اب ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کہ کون، ان کو، کب، کہاں، کیسے، کس طرح اورکس لیے استعمال کررہا ہے۔ وہ صرف ایک آبجیکٹ رہ جاتے ہیں۔ بے حس، احساسات و تخیلات اورفکروسوچ سے ماورا! وہ زندہ ضرورہوتے ہیں، مگر زندہ نہیں ہوتے۔ کیونکہ سانس چلنا زندگی کی علامت ہے تو پھر وہ زندہ ہیں۔ پتانہیں کب سے کب تک زندہ ہیں! مگران میں زندگی کی علامات شاید نہیں ہوتیں۔

نہ جانے کب سے، وہ زندگی سے بہت دور رہ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو زندگی کی نعمت اور ذات سے وابستہ دوسروں کے جذبات اور خیالات کا احساس نہیں ہوتا۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اس طرح کے لوگوں میں، زندگی کی روح پھونکنے کا رسک لیتے ہیں۔ تن مردہ کو امیدبہاردینے کا ”کشٹ“ کاٹنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور دوسروں کو زندگی بانٹنے میں، اپنے تما م خواب جلادیتے ہیں۔ اپنی ذات اور دنیا، سب کچھ اس آگ میں جھونک دیتے ہیں۔

اور جب الاؤ جلتاہے ”بھانبھڑ“ مچتاہے، تو پھراپنے ہی آپ اور وجود کی آگ سے، اپنے ہاتھ تاپتے ہیں۔ دوسروں کی ٹھنڈی سانسوں کو گرمی فراہم کرتے ہیں۔ اپنی زندگی کی آگ سے، دوسروں کی اندھیری زندگی میں روشنیاں بھرتے ہیں، اداس چہروں، یخ ٹھنڈے ہاتھوں، زندگی کی رمق سے عاری آنکھوں کو روشنی آشناکرتے ہیں۔ مگردوسروں کو زندگی دان کرتے ہیں۔ اپنی زندگی اور سانس کے ذریعہ، دوسروں میں زندگی تقسیم کرتے ہیں۔

”مہک“ بھی شاید اسی قسم کی لڑکی تھی جومجھے زندہ کرنا چاہتی تھی۔ مجھے زندگی دینا چاہتی تھی۔ تن مردہ میں جان ڈالنا چاہتی تھی ! اپنے خواب بیچ کر، خیالات گروی رکھ کر، مجھ پر محبت کا احسان کرنا چاہتی تھی۔ مجھ پر مرنا چاہتی تھی۔

رات کا ”جگراتا“ بدن اور خوشبو، خوشبو اور بدن کی ”لُکن میٹی“ میرے حواس پرسوار رہی۔ اورصبح کی اذان ہوئی تو میں نے شکراداکیا، کہ چلیں کوئی سبیل نکلے گی ملاقات کی۔ میں جلدی سے تیار ہوکر نہرکنارے چلتاہوا، ریل کی لائنوں کو کراس کرنے سے پہلے رُکا، دونوں جانب سرخ سگنل کی بتیاں، جو دھند کی چادر پھاڑ کر کسی اندھیرے کوٹھے میں، جنّ کی مانند، اپنی انگارہ آنکھیں لیے کھڑی تھیں، کو دیکھا۔ اونچی، نیچی بجری، روڑے، پتھر اور سگنل کی تاروں میں الجھتے ہوئے، پٹڑی کراس کی۔

نہر کنارے سبزدھریک کے پتوں کو دھونے والے با بے نے ’ہنگورہ ”بھر کر اپنے ہونے اور خوف کو بھگانے کی کوشش کی۔ اور میں روزانہ کی طرح ان سب چھوٹی چھوٹی چیزوں کو گنتا بس سٹاپ کی طرف چلتا رہا۔ اور پھر میں سٹاپ پر اس درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا، جہاں روز، وہ مجھ سے پہلے میرا انتظار کرتی تھی۔ کئی تانگے، مزدے اور بسیں گزرنے اوررکنے کے باوجود میرے آنے کا انتظار کرتی تھی۔ بنا کچھ کہے، میری طرف دیکھتی تھی اور پھر ہم اکثرایک ہی گاڑی میں سوارہوجاتے تھے۔ کبھی کبھی نظر چُرا کر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا بھی لیتے تھے۔

میں آج بہت جلدی پہنچ گیاتھا۔ ابھی صرف ایک گاڑی سٹاپ پر کھڑی تھی اور اس کے اندراور باہر کی تمام لائٹیں بھی جل رہی تھیں۔ اس روشنی میں بُکل میں منہ دے کر، دونوں پاؤں سیٹ پر رکھ کر، نیند میں مدہوش، سبزی منڈی جانے والے مزدور اور دکاندار، کام کاج پر جانے والے فکرِروزگار میں پریشان، سیگریٹ سلگا کر، ایک لمباکش لگا کر، سیگریٹ اور دھند کے دھوئیں کو یکجا کرکے، کھڑکی سے باہر کچھ دیکھنے کی کوشش میں مصروف، ادھیڑ عمر نظر آرہے تھے۔

اس سے پہلے کہ کنڈکٹرروز کی طرح آج بھی مجھے دیکھ کر گاڑی بڑھالے جاتا۔ میں خود ہی سٹاپ کے دائیں جانب چاچے محمددین کے کھوکھے کے پاس کھڑا ہوگیاجس پر ”کیپسٹن“ سگریٹ کا، بڑاسا بورڈ جل رہاتھا۔ اور پھر دوسری جانب سے ہر آنے والے قدموں کی چاپ سننے لگا۔ اور اپنی مرضی کے جوتے کی ٹِک ٹِک کی شناخت کرنے میں مصروف ہوگیا۔

تعلق اور استواری کی خوبی یہ ہے کہ یہ دنیاوی رابطے اورواسطے ختم کردیتی ہے۔ انسان ظاہری رابطوں اور واسطوں سے ماورا اور بیگانہ ہو جاتاہے۔ اور دھیان کسی اور طرف جاتا ہی نہیں ہر چیز، شے اور اشیاء میں وہ نظر آتا ہے۔ لاکھوں کے مجمع میں، بن دیکھے، آنکھوں پر پٹی باندھ کر، انسان اس تک بنا روک ٹوک پہنچ جاتاہے۔ اس کا انگ، انگ، ناک، نقشہ، خوشبو، مہک، سب سے جدا اور الگ ہوتی ہے۔ میں امروز اس کی خوشبو، آواز اور ولائتی گھڑی کی ترتیب سے جاری ہونے والی مسلسل، متواتر، مخصوص وقفہ سے سنائی دینے والی آواز کی طرح اس کے جوتوں کی ٹک ٹک کان لگاکر سننے کی کوشش کررہاتھا۔

آہستہ آہستہ سٹاپ کی رونق بحال ہونے لگی، تانگے اوررکشے والے شور مچانے لگے۔ جوں جوں شور اور رش میں اضافہ ہورہاتھا، میں آہستہ آہستہ کھسکتا جارہاتھا۔

پھرجب وہ آئی تو حسبِ عادت اس نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔ میری طرف دیکھا۔ نظریں چارہوئیں اور میں آہستہ سے بس سٹاپ سے پیدل چل پڑا۔ یہ دراصل اس بات کا سگنل تھا کہ آج ہم پیدل، دھند کی مہربانی سے اورسواری نہ ملنے کے بہانے سے، کالج جائیں گے۔ رش سے دور، کچھ قدم آگے جاکر، میں ہمیشہ کی طرح دھریک کے اس درخت کے پاس کھڑا ہوگیا، جہاں پہلے بھی اکثر ہم اکٹھے ہوتے رہے ہیں۔

پھر چند لمحوں بعد ہی کسی کے قدموں کی آواز قریب ہوتی محسوس ہوئی۔ ان حالات میں ہر سائیکل، موٹرسائیکل، کار، تانگہ، گدھا گاڑی اور ریڑھے والا ایک تو مڑ کر دیکھنا اپنا فرض سمجھتاہے دوسرانجانے کیوں واقف واقف اورشناسا محسوس ہوتاہے۔ اور ہر نظر کے ساتھ چوری پکڑے جانے کا احساس ہوتاہے۔ میں ہمیشہ کی طرح بودا اور کمزور دل رہاہوں۔ سومیں ڈرا ور خوف سے پریشان اور اُس کی دلیری اور منہ زوری پر حیران رہا ہوں۔

میں کل کی باتوں اور اپنے رویے پر نادم بھی تھا۔ مگر ساتھ ہی اس کی خوشبو اور مہک کی ”مہک“ کے لیے بے چین بھی تھا۔ میں شایداپنی تکمیل چاہتا تھا یا نہیں، لیکن میں زندگی سے ملنا چاہتاتھا۔ جس کو وہ زندگی کہتی تھی، اس زندگی کو دیکھنا چاہتاتھا، چھونا چاہتا تھا، چکھنا چاہتا تھا، قریب سے دیکھنا چاہتا تھا۔ زندگی کو اُس کی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے کانوں سے سننا چاہتاتھا۔ اس کے ہاتھوں سے چھونا چاہتاتھا۔

اس کے لمس سے محسوس کرنا چاہتاتھا۔ اس کی ناک سے سونگھنا چاہتاتھا۔ اس کے ہونٹوں سے چومنا چاہتا تھا۔ اس کی دھڑکن سے سننا چاہتا تھا۔ اس کے دل سے جینا اور دماغ سے سوچنا چاہتا تھا۔ میں زندہ رہنا چاہتا تھا۔ اس کی زندگی کے ساتھ اس کی طرح، اس کے وضع کیے ہوئے اصولوں کے ساتھ جینا چاہتا تھا۔ جہاں صرف زندگی ہو، صرف زندگی۔ میں اور میری زندگی !

اُس کے قریب آتے ہی میں نے کہا ”مہک ! “

وہ دھیرے سے بولی ”جی ! “ اُس کا لہجہ بھی دھند کی طرح تھا۔ سرداور سہاگ کی پہلی رات بیوہ ہونے والی کی طرح ! اُلجھے ہوئے بال اور ایسے جیسے وہ بھی رات بھر نہیں سوئی۔ میں نے کہا ”میں رات بھر نہیں سویا، تیری خوشبو، بارش اور بھیگا پن نہ جانے کیوں میرے دماغ سے نکل ہی نہیں سکا ! “

کتابوں کا بیگ اور سرکا دوپٹہ سیدھا کرتے ہوئے وہ بولی ”میں بھی رات بھر جاگتی رہی ہوں۔ لیکن میری وجہ شاید اب مختلف تھی۔ دولوگ جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں وہ جداجدا ہوکر بھی ہمیشہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ ہر لمحہ، پل، ساعت اور وقت وہ کسی نہ کسی ذریعہ سے منسلک ہوتے ہیں، رابطے میں ہوتے ہیں۔ ٹیلی پیتھی، سوچ، فکر، تخیلات یا کچھ بھی میڈیم (Medium) ہو، وہ ہوتے اکٹھے ہی ہیں۔ ان کو جب بھی کوئی مشکل فیصلہ یا کام کرنا ہو، وہ کوسوں دور سے بھی اپنی محبت کی طرف دیکھتے ہیں، دھیرے سے مسکراتے ہیں، پوچھتے ہیں“ کیا خیال ہے، ایسا کرلیں ! ”دوسراہولے سے کہتاہے کہ“ ہاں ٹھیک ہے کرلو ”اور وہ کر گزرتے ہیں۔ جان سے گزرنا ہو یا جہان سے ! مگر اس کے لیے دونوں کا محبت کرنا ضروری ہے !

میری سوچ کا محور آپ ہیں وہ دھیرے سے دھندکی سیاہی کو پھیپھڑو ں میں کھینچتی ہوئی بولی ”مگرآپ اور آپ کی سوچ، شاید کسی اور مدار میں کسی اور گلیکسی (Galaxy) کاحصہ اور کسی اورسورج کے گرد چکر لگارہی ہے۔ میری بدقسمتی ہے کہ آپ اپنے محور سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں اور میں اپنے مدار سے نکلنے کے لیے۔ دونوں جب تک اپنے اپنے مدار میں رہیں گے، زندہ رہیں گے۔ متحرک رہیں گے، گھومتے رہیں گے۔ جونہی ہم میں سے کسی نے اصول اور قانونِ فطرت کی خلاف ورزی کرکے اپنے مدارسے نکلنے کی کوشش کی، تو نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

تباہی چاہے معاشرتی، فکری، نظری یا جسمانی ہو، وقتی یا لامکانی ہو۔ تباہی، تباہی ہوتی ہے۔ اس ٹکراؤ کا آغاز توبس میں اور مرضی سے ہوتاہے۔ مگراختتام اور نتیجہ ہر دو کے بس سے باہرہوتاہے۔ جس طرح ہر ٹکراؤ میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔ اس ٹکراؤ سے بھی لاکھوں کِلو ٹن کی تابکاری ہوتی ہے۔ نتیجہ سب جل جاتاہے۔ بھسم ہو جاتاہے، خاکسترہوجاتاہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیاقت علی ملک

لیاقت علی ملک ۔۔۔ داروغہ ہے۔ خود ہی عدالت لگاتا ہے، خود ہی فیصلہ سناتا ہے اور معاف نہیں کرتا۔۔۔ بس ایک دبدھا ہے۔۔۔وہ سزا بھی خود ہی کاٹتا ہے ۔۔ ۔۔کیونکہ یہ عدالت۔۔۔ اس کے اپنے اندر ہر وقت لگی رہتی ہے۔۔۔۔

liaqat-ali-malik has 11 posts and counting.See all posts by liaqat-ali-malik

––>