آتش۔ جوانی اور اللہ کی کہانی

یہ اُس دور کی بات ہے جب آتشؔ یقینا مرچکاتھا مگر آتش جوان تھا۔ جب جسم میں ہر وقت ہلکی ہلکی اینٹھن سی رہتی ہے۔ گالوں میں سرخی ایسے دوڑتی ہے جیسے پیوندکاری کر نے کے بعد لگائے جانے والے ہرپودے پرسرخ اور سفید گلاب، شباب کی مانند نمودارہوتے ہیں۔ ماتھے پر رنگت سے ماورا، نورکی لہریں رقص کرتی ہیں اور نظر نہیں ٹکتی اور غور سے دیکھنے پرآنکھوں کو سکون ملتا ہے، دل سے دُعا نکلتی ہے ”اللہ جوانی کو بے داغ رکھے۔ “ مگر وہ جوانی ہی کیا جس پر داغ نہ ہو۔

Read more

محبت کی نماز میں۔ امامت!

”مہک“ بھی شاید اسی قسم کی لڑکی تھی جومجھے زندہ کرنا چاہتی تھی۔ مجھے زندگی دینا چاہتی تھی۔ تن مردہ میں جان ڈالنا چاہتی تھی ! اپنے خواب بیچ کر، خیالات گروی رکھ کر، مجھ پر محبت کا احسان کرنا چاہتی تھی۔ مجھ پر مرنا چاہتی تھی۔

رات کا ”جگراتا“ بدن اور خوشبو، خوشبو اور بدن کی ”لُکن میٹی“ میرے حواس پرسوار رہی۔ اورصبح کی اذان ہوئی تو میں نے شکراداکیا، کہ چلیں کوئی سبیل نکلے گی ملاقات کی۔ میں جلدی سے تیار ہوکر نہرکنارے چلتاہوا، ریل کی لائنوں کو کراس کرنے سے پہلے رُکا، دونوں جانب سرخ سگنل کی بتیاں، جو دھند کی چادر پھاڑ کر کسی اندھیرے کوٹھے میں، جنّ کی مانند، اپنی انگارہ آنکھیں لیے کھڑی تھیں، کو دیکھا۔ اونچی، نیچی بجری، روڑے، پتھر اور سگنل کی تاروں میں الجھتے ہوئے، پٹڑی کراس کی۔

Read more

مہک کی مہک

میں اس کو خوابوں کی دنیا سے واپس نہیں لانا چاہتاتھا۔ مگراس کے اصرار پر مجھے کہنا پڑا۔ ”زندگی میں کبھی موقع نہیں ملا اس سب کا۔ اور ہوسکتاہے، بے شمار دفعہ کبھی بس سٹاپ پر، کبھی گاڑی میں، گزرتے ہوئے، کئی لوگوں کو دیکھا ہو، مگرکچھ یاد نہیں۔ ٹھیک سے۔ کیونکہ زندگی کے جھمیلوں میں اُلجھ کر، اِدھر اُدھر دیکھنے کا اور سوچنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا۔

وہ تُنک کربولی ”میں دیکھنے کی بات نہیں کررہی۔ محسوس کرنے کی بات کر رہی ہوں۔ بارش میں بھیگی لڑکی، اس کا جسم اور جسم کی خوشبو سے مہکنے والاسماں ! دیکھنے کو توہم روزانہ بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں، مگردراصل ان ہزاروں میں سے، چند ایک ہماری یادداشت میں کندہ ہوجاتے ہیں۔ ثبت ہوجاتے ہیں۔ زندہ رہ جاتے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے۔ ان کی آنکھیں، ناک نقشہ، کوئی بات، کوئی تکرار، سوال یا کوئی جواب، کوئی خوشبو اورجسم کی خاص مہک، ہمیشہ ہمیشہ تک، باقی رہ جاتی ہے، مستقل ! “

Read more

حاصل لاحاصل : وہ لمحہ !

ہرانسان اپنی دوزخ ساتھ لے کر پیدا ہوتاہے۔ زندگی گزارنے کے لیے پوری عمر کی ضرورت کبھی بھی نہیں ہوتی۔ ایک لمحہ میں پوری زندگی جینا اور کئی دہائیوں زندہ رہ کر بھی زندگی آشنا نہ ہونا مقدر کی بات ہے۔ بعض اوقات ایک لمحے کی ملاقات عمر بھر کے ساتھ میں بدل جاتی ہے اورعمر بھر کا ساتھ لمحہ بھر کی ملاقات میں گزر جاتاہے۔ عمر بھر کا حاصل کیا ہے؟ صرف ایک لمحہ۔ ! تمھارا، میرا، سب کا ایک لمحہ!

وہ لمحہ جب تم میرے سامنے درمیانی کرسی پر بائیں جانب ہلکا سا جھک کر بیٹھ گئی تھیں، سنہری بال، سنہری آنکھیں، سنہری رنگ، سنہری انگ اور سنہری تم۔ ! مجھے ایسا لگا جیسے گندم کے کھیت میں جوان ہوتی گندم کی بالیاں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہی ہوں اور میں چاچے علی احمد کے کھیت کے باہر کھڑا، محبت، لالچ، حرص اور خوف کے ساتھ ان کوایسے دیکھ رہاہوں جیسے اگر چاچے نے میری للچائی ہوئی آنکھوں کو اپنی جوان، خوبصورت فصل کی طرف اٹھتے ہوئے بھی دیکھ لیاتو وہ اُس کوچھونے اور توڑنے کے ارادے سے پہلے ہی میری آنکھیں نکال کر میری ہتھیلی پر اور ہاتھ پاؤں توڑ کر حویلی کے ساتھ پڑے کتے کے آگے ڈال دے گا۔ یہ سوچ کر میں جھرجھری لے کر رہ گیا۔

Read more