ساہیوال سی ٹی ڈی کا شرمناک اقدام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور سے ملتان کی طرف جانے والے روڈ پر ساہیوال کے کے قریب ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں لیکن کسی ایک میں بھی تفصیل نہیں ہے۔ ہم نے واقعے کی حساسیت کے پیش نظر اپنے طور پر کچھ تحقیق کی ہے جو ذیل کی سطور میں پڑھی جا سکتی ہے۔

پولیس کا موقف

پولیس ترجمان کے مطابق ہفتے کی دوپہر 12 بجے کے قریب ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی، جس پر کار میں سوار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی، سی ٹی ڈی نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی فائرنگ کی، جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو دو خواتین سمیت 4 دہشت گرد ہلاک پائے گئے جبکہ 3 دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔

عینی شاہدین کا موقف

عینی شاہدین کا کہناہے کہ فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ گاڑی میں کپڑوں سے بھرے تین بیگ بھی موجود تھے، جنہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے بعد زندہ بچ جانے والے بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی سی ٹی ڈی پولیس بچوں کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئی، جن میں سے ایک بچہ فائرنگ سے معمولی زخمی ہوا، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

زندہ بچ جانے والے بچے کی گفتگو

فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچے عمیر خلیل نے اسپتال میں میڈیا کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر چچا کی شادی میں شرکت کے لیے بورے والا گاؤں جارہے تھے۔ بچے کے مطابق گاڑی میں اس کے اور اس کی 2 چھوٹی بہنوں کے علاوہ والد خلیل، والدہ نبیلہ، بڑی بہن اریبہ اور والد کا دوست مولوی سوار تھے، جو واقعے میں جاں بحق ہوگئے۔ بچے نے بتایا کہ اس کے والد نے پولیس والوں سے کہا کہ پیسے لے لو، ہمیں معاف کردو لیکن انہوں نے فائرنگ کردی۔

مقتولین کے محلے داروں کا موقف

ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی پولیس کی فائرنگ سے مارے جانے والے افراد کے محلے داروں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مقتولین کے اہلخانہ کو تقریباً 30 سال سے جانتے ہیں، یہ لوگ نمازی پرہیزگار تھے، ان کے والد حیات نہیں اور والدہ بیمار ہیں۔
محلے داروں کے مطابق ذیشان کا ایک بھائی احتشام ڈولفن پولیس کا اہلکارہے۔

چند سوالات

اگر کار میں سوارواقعی دہشتگرد تھے اوران کے پاس اسلحہ تھا توانہوں نے وہ اسلحہ پولیس کے خلاف استعمال کیوں نہیں کیا؟
پولیس کے بقول کارسواروں نے پولیس پر فائرنگ کی تو کیا کوئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے؟
یہ جان لینے کے باجود بھی کہ ان کے ساتھ فیملی اور کم سن بچے ہیں، پولیس نے انہیں زندہ پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

کیا ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے کارروائی سے قبل اپنے سینئر افسران سے رابطہ کیا تھا؟
کیا پولیس کمانڈز کی ٹریننگ ایسی ہی ہوتی ہے؟
اگر پولیس کو واقعی دہشتگردوں کا سامنا کرنا پڑجائے تو صورتحال کیا ہوگی؟

واقعے کے بعد کیا اس کے حقائق قوم کے سامنے آ سکیں گے؟
کیا اس واقعے کے بعد عوام پولیس کے ساتھ تعاون کریں گے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •