منٹو، لاہورعجائب گھر کا مجسمہ اور ہمارا وحشی پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور عجائب گھر کے داخلی راستے پر نصب کیا جانے والا وحشی پن کا تاثر پیش کرتا مجسمہ دیکھنے والوں کے لئے تشویش کا باعث بن گیا۔ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا اور نا قابل برداشت ہو گیا۔ آخر کار اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق مجسمہ لاہور میں فنون لطیفہ کے ایک طالب علم ارتباط الحسن چیمہ کے تھیسس کا پروجیکٹ تھا، جس میں انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جو انسان اپنے باطن کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتا وہ ایسا وحشی بن جاتا ہے۔

فنکاروں نے، خواہ وہ لکھاری ہوں یا کوئی بھی آرٹسٹ جب بھی معاشرے کی برائیوں کو اپنی فلموں ڈراموں یا تحریروں کی صورت میں پیش کیا ہے، معاشرے نے اسے کبھی قبول نہیں کیا، یا یوں کہہ لیجیے کہ ان معاشرتی برائیوں سے ہمیشہ آنکھ کی ہی چرائی ہے اور اس پر بات کرنے کو بھی برا جانا ہے۔

منٹو نے کیا خوب کہا تھا ”۔ زمانہ کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے نا واقف ہیں۔ تو میرے افسانے پڑھیے اگر آپ ان کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔ ”

ہم اپنے اندر موجود برائیوں کو جب اپنے سامنے کسی بھی صورت میں دیکھتے ہیں تو ان کو برداشت نہیں کر پاتے اور ڈھکے چپھے انداز میں یہ برائیاں ہوتی رہیں تو قبول ہیں لیکن ننگی ہو کر سامنے آنے سے ختم بھی ہوجائیں تو ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں۔

اس مجسمے کے متعلق بھی کہا گیا کہ یہ منفی تاثر پیش کر رہا ہے، وحشی مجسمے کی کو ہٹایا جانا چاہیے۔ یہ منفی پن ہمارے معاشرے کا ہی نقص ہے، ایسے کتنے ہی وحشی ہمارے ارد گرد موجود ہوتے ہیں لیکن ہم کبھی ان کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے اورکبھی تو یہ وحشت ہمارے اپنے اندر موجود ہوتی ہے لیکن ہمیں اتنی بد صورت نہیں لگتی کیوں کہ وہ کسی مجسمے کی صورت ہمیں نظر نہیں آتی۔ ہم اسے اپنے اندر پروان چڑھاتے ہیں اور اس پر اس لئے مطمئن رہتے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا اور جیسے ہی کوئی آئینہ دکھاتا ہے برا مان جاتے ہیں۔ اپنے چہرے پر موجود خراشوں کو آئینے کا نقص جانتے ہیں، اس آئینے میں اپنا عکس دیکھنے سے گھبرا جاتے ہیں اور اسے کہیں دور پھینک دینا چاہتے ہیں۔

منٹو کا کہنا تھا کہ ”مجھ میں جو برائیاں ہیں وہ اس عہد کی برائیاں ہیں، میری تحریر میں کوئی نقص نہیں، جس نقص کو میرے نام منسوب کیا جاتا ہے، وہ دراصل اس موجودہ نظام کا نقص ہے۔ ”

کسی بھی فنکار کا ا پنے فن کی صورت میں دیا گیا پیغام کسی نا کسی طرح ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اوراس سے ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے نا کہ معاشرے کا اصل چہرہ دکھاتی اور اصلاح کا پیغام دینے والی تحریروں تصویروں یا مجسموں کو ہٹانے کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •