آخر اس طرح مارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی


ایک حاملہ عورت ہاتھ ہلا ہلا کر زندگی کی بھیک مانگتی رہی لیکن ظالموں نے ترس نہیں کھایا اور دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس بچے کو ماں کے ساتھ اس کی کوکھ میں ہی موت کی نیند سلادیا گیا۔ یہ واقعہ ہے اخروٹ آباد کوئٹہ کا ہے جہاں ایف سی نے ایک خودساختہ پولیس مقابلہ کیا تھا۔

کراچی میں ایک نوجوان غربت کا مارا ایک خاتون سے پرس چھینتا ہے۔ خاتون قریب کھڑے رینجرز کو مدد کے لئے بلاتی ہے اور رینجرز اس نہتے آدمی کو گھیرے میں لے کر گنیں تان لیتے ہیں۔  وہ ہاتھ جوڑتا ہے گڑگڑاتا ہے معافیاں مانگتا ہے لیکن رینجرز کے جوان طاقت کے نشے میں چور اس کے پیٹ پر گولیاں برسا دیتے ہیں اور اسے مرتا چھوڑ کر چلتے بنتے ہیں۔ وہ شخص اپنے بہتے خون کو اپنے ہاتھوں سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ آنے جانے والے راہگیروں سے ہسپتال لے جانے کی دہائیاں دیتا ہے لیکن رینجرز کے خوف سے کوئی بھی اس کی مدد کو آگے نہیں بڑھتا۔ بالآخر موت اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی اپنی بیوہ ماں کواکیلے چھوڑ جاتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ چوری کی طرف کیوں آیا؟

ساہیوال میں ہونے والا واقعہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کے وقت پہ غور کیا جائے تو دماغ ایسی گتھی میں الجھ جاتا ہے جسے سلجھانے کی کوشش کرو تو خوف کی لہر بدن میں دوڑ جاتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی تو شروع ہوا ہے۔

ایک طرف ہمارا ملک دہشت گرد ملکوں کی فہرست میں ہے اور گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہونے میں بس کچھ ہی دوری پر ہے۔ دوسری طرف افغانستان سے بگڑتے تعلقات اور طالبان سے رابطے گلے پڑے ہیں، سونے پہ سہاگہ کہ امریکہ کے نمائندے زلمے خلیل زاد پاکستان میں براجمان ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہاں سے ہماری معصومیت اور بے گناہی کا سرٹیفک لے کر ہی ٹلے گیں۔ اب ایسے حالات میں کچھ گرم سرد ہو تو عوام کو ریاست کا ساتھ دینا چاہیے۔

ظلم تو اپنی شکل میں آج بھی جوں کا توں ہے۔ غضب تو یہ ہے کہ معصوم بچوں کی معصومیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھن گئی۔ جب بچے نے اپنے باپ کو یہ کہتے سنا کہ پیسے لے لیں، گولی مت ماریں تو پوری زندگی کا اصول اس کے دماغ میں بیٹھ گیا ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہوتا۔ بچوں سے کہیں دور لے جا کر مارتے، کسی کوبھی حیرت نہیں ہوتی۔ عوام تو نقیب اللہ محسود کے واقعہ سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔

لیکن اس طرح بچوں کے سامنے داعش کے دہشت گروں کو مارنے سے جو مفاد حاصل ہوا اس کے دیرپا اثرات شاید اس ملک کی تقدیر بدل دیں۔ امریکہ بہت خوش ہوجائے گا اس دلیرانہ اقدام سے کہ دہشت گردوں کی نسل تک کو مار دیا۔ شاید اب ہم بلیک لسٹ نہ ہوں۔ آخر دہشت گردی کے خلاف اتنے سخت اقدام کررہے ہیں اور اب جب تک گرے لسٹ سے باہر نہیں آتے، یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ لہذا کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ اس کی اور اس کے بچوں کی جان محفوظ ہے۔ ہاں حفظ ماتقدم کے تحت سب اپنی گاڑی پہ لکھ کر لگا دیں، ہم اور ہمارے بچے دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ متعلقہ تھانے سے سفر کرنے سے پہلے این او سی بھی لے لیں اور شیشے پہ اس کی کاپی ضرور چپکا دیں کیونکہ ریاست کب کہاں کیا اقدام اٹھائے، عوام اس سے بالکل ناواقف ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں