پولیس والوں سے غلطی نہیں ہونی چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھیں پاکستان میں سب سے زیادہ منظم ادارہ پولیس ہے۔ اس کا بجٹ سب سے زیادہ ہے۔ اس کی مین پاور بھی لاکھوں میں ہے۔ اس کے مختلف سورس آف انکم ہیں اور اس کو قانون میں بہت زیادہ طاقت حاصل ہے۔ اس کے افسران سے لے کر سپاہی تک پرفیکٹ انسان ہیں جو کسی بھی غلطی سے پاک ہیں اور ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کے پاس جدید اسلحہ اور گاڑیاں ہیں اور ان سب کی ڈگریاں اعلی ہیں۔

نہ ان کے والدین ہیں، نہ بچے، نہ ان کا کوئی رونے والا نہ رونے والی۔ نہ ان کی زندگی ہے نہ موت۔ نہ ان کو پیسوں کی ضرورت ہے نہ عید شب برات کی۔ نہ ان کے کپڑے گندے ہوتے ہیں نہ ان کو نیند آتی ہے۔ نہ بھوک لگتے ہے نہ بل آتے ہیں۔ نہ ان کی موت فوت ہوتی ہے نہ شادی بیاہ۔ نہ ان کے ہاں کسی کی ولادت ہوتی ہے۔

یہ مشین نما ایلینز ہر قسم کی ایسی ضرورت سے پاک ہیں جو باقی انسانوں کو پیش آتی ہیں، اس لیے ”پولیس والوں سے غلطی نہیں ہونی چاہیے“

میں ایک سانحے کی بات نہیں کر رہا۔ ساہیوال سانحے میں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پولیس نے بندے مار دیے تو آپ کو میچور ہونے اور سرچ کرنے کی ضرورت ہے کہCTD کس کا مخفف ہے اور یہ ادارہ کیسے کام کرتا ہے۔

اپنے ملازمین کی ہزاروں کٹی پھٹی لاشیں دینے کے بعد اس ڈپارٹمنٹ نے اس ملک میں امن قاہم کیا ہے۔ جہاں بھی دہشتگردی کی اطلاع ملی یہ سب سے آگے نظر آئے۔ ان کے شانہ بشانہ پولیس نظر آئی۔

تو کیا ہوا؟ 2000 اچھے کام کر کے ایک آدھ میں غلطی کر دی تو کیا ہوا؟ آخر غلطی کیوں کی؟ جی وہ کہ رہے ہیں ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو گی۔ نہیں ابھی پھانسی دو ان کر سر عام۔ صاحب قانون موجود ہے اس کے مطابق سزا ملے گی۔ نہیں تو نہیں! میڈیا اور لوگوں کی بھیڑ نے کہ دیا کہ پھانسی دو تو پھانسی دو بس!

یہ حرام کھا رہے ہیں، لوگوں کو لوٹ رہے ہیں، ڈکیتی کرتے ہیں، جانیں لیتے ہیں۔ تو صاحب! پھر کرائم کون روک رہا ہے۔ وہ آئیں بائیں شائیں!

پیارے ہم وطنو! تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔ اپنی جانوں پر کھیل کر ہماری عزتیں محفوظ بنانے والے۔ اپنی جوانیاں لُٹا کر ہمارے بڑھاپے کی جان بچانے والے۔ خودکشیاں روکنے والے۔ اشتہاری پکڑنے والے۔ چور ڈکیت پکڑنے والے۔ محدود بجٹ اور سہولیات میں امن قائم کرنے کی حد درجہ کوشش کرنے والے یہ پولیس اور CTD والے ہی ہیں۔

ہم کہ رہے ہیں نا کہ اگر غلط ثابت ہوئے تو سزا کی اپیل بھی کریں گے اور پریشر بھی ڈالیں گے۔ شواہد، حقائق، تحقیق، تفتیش اور قانون کے مطابق یہ معاملہ حل ہونے دیں نا۔ کچھ دیر انتظار کر لیں۔

غلطی کسی کی ہے آپ کسی کو گالیاں دے رہے اور مار رہے ہیں۔ جنھوں نے غلط کیا ان کو سزا ضرور ملے گے۔ اپنا پاکستان امن مانگتا ہے۔ خون نہین مانگتا۔ جو یہاں امن پسند اور مظلوم کا خون بہائے گا اس کو سزا ملنی چاہیے مگر یہ طوفان کہ سرعام پھانسی ہو، سڑکیں خون سے رنگی جائیں، اب تھمنا چاہیے۔

تین تین دن لگاتار جاگ کر ڈیوٹی دینے والے پولیس ملازمیں بھی انسان ہیں۔ ان سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور کوتاہیاں بھی۔ CTD والے بھی ہمارے ہی ہم وطن ہیں۔ اگر ان کا قصور ثابت ہوا تو ہم عدل کروا کر رہیں گے۔

آپ کسی بھی ڈپارٹمنٹ کا بتائیں جو پرفیکٹ ہو جہاں غلطیاں نہ ہوتی ہوں۔ عدالتیں، محکمہ صحت، انہار، اوقاف، زراعت، پوسٹل سروسز، ریلوے، کسٹم، ایکسائیز، محکمہ مال ہر جگہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ پھر ان کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہو گا۔

برائے مہربانی اشتعال انگیزی اور جھگڑوں سے اجتناب کیجیے۔ ایک دوسرے کو مت ماریے نہ روڈ بلاک کر کے اپنے یا دوسرے مریضوں کی جان کے دشمن بنیے۔ اگر اس سب میں کوئی اور نقصان ہو گیا تو ہم چاہ کر بھی اسے پورا نہیں کر سکیں گے۔ برائے مہربانی لاکھوں قربانیوں کا بدلہ چند سیکنڈ میں گالیاں دے کر نہ لیں، اچھے اور سمجھدار پاکستانی بنیے صلح اور امن کی طرف آئیے۔ آخر یہ بھی ہمارے ہی بیٹے ہمارا ہی خون ہیں۔

وقت کے ساتھ بہت سے ڈپارٹمنٹس بہتر ہوئے۔ یہ ڈپارٹمنٹس بھی اچھے ہو جائیں گے۔ ہم خود بھی تو بینک میں پیسے رکھ کر سود خوری کرتے ہیں، ظلم کر جاتے ہیں، ٹیکس بچاتے ہیں، غلط سائیڈ پر چل کر ایکسیڈنٹ میں بندے زخمی / جان بحق / اپاہج کر دیتے ہیں، تب ہم بھی تو نرمی مانگ رہے ہوتے ہیں۔

دیکھیں مرچوں میں اینٹیں کوٹ کر بیچنے والا بھی قاتل ہے۔ دودھ میں گندا پانی ملانے اور ہلاکتوں کا باعٹ بننے والا بھی قاتل ہے۔ دو نمبر دوائی بیجنے والا بھی قاتل ہے۔ بیمار جانور کا گوشت بیجنے ولا بھی قاتل ہے۔ مہنگے سودے بیچ کر عوام کو چوری ڈکیتی پر مجبور کرنے ولا بھی۔ یہ بہت لمبی لسٹ ہے۔ یہ سب کس منہ سے بدلہ مانگ رہے ہین کیا انھوں نے جنھیں بیمار کر کے مارا، ان کا بدلہ ادا کر دیا؟

ہم سب کہیں نہ کہیں غلط ہوتے ہیں، ظالم ہوتے ہیں مگر ہم دوسروں کی غلطیوں پر جج اور اپنی غلطیوں پر وکیل بن جاتے ہیں!

خدارا خون خرابہ، جھگڑے، روڈ بلاک، مار پٹائی نہ کیجیے قانون کے مطابق سزا کی امید اور یقین رکھیے۔ آپ مہذب رویہ اختار کریں گے تو ہی پاکستان ایک اچھا ملک بنے گا۔ مجھے یقین ہے اس معاملے پر انصاف بھی ہو گا اور میرے ہم وطن کوئی بھی غیر قانونی قدم نہ اٹھائیں گے نہ بد امنی پھیلائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •