لاہور کے ماتھے کا جھومر: لاہور کینال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(لاہور کے بیچوں بیچ گزرتی نہر کی عہد بہ عہد تصاویر کے لئے تحریر کے آخر میں موجود گیلری ملاحظہ کریں)

لاہور میں رہنے والے سندھیوں کے روح رواں سائین گووند رام مالھی لاہور کے ایسے ہی دیوانے نہیں۔ پرائیویٹ اداروں میں نوکری کے سلسلے میں کچھ سال لاہور میں کیا رہے ہر وقت ”لہور“ کے ہی گن گاتے رہتے ہیں۔ جناب آج کل ہم کو داغ مفارقت دے کر کراچی نشین ہوگئے ہیں مگر جب بھی لاہور آتے ہیں، رہتے تو سب سے بڑے فائیو اسٹار ہوٹل میں ہیں پر بیڈن روڈ کی مٹھائی، فیروز پور روڈ کی دیسی گھی سے بنی جاوا کڑہائی، محمدی نہاری کی نلی والی بیف نہاری، پیارا اور ہیرا چرغہ سے لے کر پھجا اور حنیف پائے والا کی دکان سے پائے ضرور کھاتے ہیں۔

اس سے آگے مال روڈ کا چکر کاٹتے جب نہر پر آتے ہیں تو اپنے خاص سندھی تھری لہجے میں کہتے ہیں ”یارو سڄو جڳ نھ سھی اڌ دنیا مثیو آھیان، پر لاھور جھڙو سھڻو شھر ٻیو ناھی، لاھور لاھور آھی ڀاؤ۔ (یارو آدھی نہیں ساری دنیا گھومی ہے، مگر لاہور جیسا خوبصورت شہر نہیں دیکھا، “ لہور لہور اے۔ ) خاص طور پر لاہور کا مال روڈ اور یہاں کی نہر کی سندرتا کا کیا کہنا۔ یورپ کے کافی شہروں کی صفائی اور راستوں کی سفری آسانی میں لاہور بہت آگے ہے۔ ہم نفسیاتی طور دوسروں سے مرعوب ہونے والے لوگ ہیں ورنہ یہاں کس چیز کی کمی ہے۔

تو جناب، لاہور کی خوبصورتی میں سب سے اہم کردار ”لاہور کینال“ کا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک کے خوبصورت نہروں کے کنارے آباد ہیں۔ ”سندھ طاس معاہدے“ میں راوی دریا کے بک جانے پر خدشہ تھا کہ لاہور کی خوبصورتی کو گہن لگ جائے گا مگر بھلا ہو ”لاہور کینال“ کا جس نے لاہور کا حسن ماند پڑنے نہیں دیا۔ ہاں اگر راوی کا جوبن نہ لٹوایا جاتا تو لاہور کی سندرتا دنیا میں اور بھی عروج پر ہوتی۔ راوی کے سوکھنے سے یہ ہوا کہ لاہور شہر کینال کی طرف بڑھتا چلا گیا اور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

لاہور کینال پاکستان ہندوستان کے بارڈر کے قریب ہی سے گزرنے والی بمباں والی۔ راوی۔ بیدیاں کینال (BRB Canal) سے نکلتے لاہور شہر کے طرف بہتی ہے۔ بی آر بی نہر سے عام طور پر تمام پاکستانیوں اور خاص طور پر لاہوریوں کی جذباتی وابستگی ہے۔ 1965 والی پاک بھارت جنگ میں بی آر بی نہر ہی وہ دیوار تھی جس سے سر ٹکرا ٹکرا کر بھارتی فوجی روتے رہے اور ان کا لاہور جمخانہ میں ناشتہ کرنے کا خواب چکناچور ہوا۔ میجر عزیز بھٹی شہید بھی اسی سیکٹر پر بھارتی فوج سے جوانمردی سے لڑتے شہید ہوئے تھے۔ جن کو اعلی ترین فوجی اعزاز ”نشان حیدر“ سے نوازا گیا۔

کہتے ہیں کہ ”دور رس نگاہ رکھنے والے پنجاب کے وزیر اعلی افتخار حسین ممدوٹ نے 1948 ء میں لاہور کے عوام سے اپیل کی کہ اگر واہگہ والے طرف سے اک چھوٹی نہر کی جگہ بڑی بی آر بی نہر کھودی جائے تو بھارتی فوج کبھی لاہور پر زمینی راستے سے حملہ آور نہیں ہو سکتی۔ اس وقت عوام نے حکمران کی اس اپیل پر لبیک کہا اور ہزاروں کے تعداد میں لوگ کدالیں اور بیلچے لے کر نکل پڑے اور 8 کلومیٹر لمبی کینال بغیر کسی معاوضے کے کھود ڈالی۔

ویسے تاریخی طور پر اسی نہر کا نام ”اچھوگل نہر“ بھی لیا جاتا ہے۔ 1984 ء میں اور چوڑی اور پختہ ہونے والی بمباں والی۔ راوی۔ بیدیاں نہر والے راستے پر مغل حکمرانوں نے بھی اک نہر بنوائی تھی۔ ویسے تو لاہور شہر کو سیراب کرنے کے لئے تو راوی دریا ہی کافی تھا مگر یہ ”اچھوگل نہر“ اور پھر اس سے نکلنے والی ”لاہور نہر“ مغلوں کے باغات اور ”عیش گاہوں“ کو سیراب کرنے کے لئے خاص طور پر بنوائی گئی۔ شالامار باغ، مغل پورہ، باغبان پورہ یا بھگوان پورہ، گوپال نگر، بابھڑہ سنگھ، اچھرہ، گلبرگ، چوبرجی اور آس پاس کے علاقوں کے باغات کو سیراب کرنے کے لئے اس نہر کا اہم کردار تھا۔

مغلون کے دور میں 37 میل ( 60 کلومیٹر) تک کھودی گئی اس لاہور کینال کو انگریز راج میں اور بہتر بنا کر 51 میل ( 83 کلومیٹر) تک بڑھایا گیا اور شاہی باغات کے سوا عام لوگوں کی زرعی زمینوں اور آبادیوں تک پھیلا دیا گیا۔ اس سے آنے والے زرعی انقلاب نے لاہوریوں کے وارے نیارے کر دیے۔ لاہور کی زرخیز زمین تمام قسم کے پھلوں اور اناج کے لئے انتہائی بہترین مانی جاتی ہے۔ یہاں تو پھلدار اور غیر پھلدار درخت بھی شاندار ہوتے ہیں۔ ایسی زرخیز زمین کو جب وافر مقدار میں پانی ملا تو وہاں زرعی انقلاب آنے لگا اور پنجاب کے دوسرے شہروں سے کافی تعداد میں لوگ آکر لاہور کے قرب و جوار میں چھوٹے چھوٹے گاؤں اور قصبے آباد کرنے لگے، اندرون لاہور کے لوگ تو نہر کے کراس کرنے کو ہی ردیا پار کرنا یا پردیس سمجھتے تھے۔

برطانوی دور 1902 ء میں جب لاہور کے عظیم محسن شخصیت خان بہادر سر گنگا رام نے ایڈووکیٹ کھیم چند سے مل کر لاہور کینال کی دوسری طرف ”ماڈل ٹاؤن“ کا بنیاد رکھنے کی ابتدا کی تو اکثر لوگ حیران ہوگئے کہ شہر سے اتنا دور جا کر کون رہے گا۔ بہرحال اس وقت سرکار سے 200 ایکڑ زمیں لے کر اک شاندار ”ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو ہاؤسنگ اسکیم“ شروع کرنے کا قطعی فیصلہ کیا گیا۔ بعد میں جب 1921 ع میں باقاعدہ طور پر ماڈل ٹاؤن کی بنیاد رکھی گئی تو اس آبادی کو سیراب کرنے کے لئے پانی کا بندوبست اسی لاہور کینال سے کیا گیا۔ سرسبز اور زرخیز زمین پر آباد ہونے والے ماڈل ٹاؤن میں اس وقت کے امیر ترین لوگ رہا کرتے تھے۔ ماڈل ٹاؤن کو اباد کرنے والوں میں بھارتی فلم اسٹار کبیر بیدی کے والد بی پی ایل بیدی بھی شامل تھے جو اس وقت برطانیہ اور جرمنی کی اعلی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے۔

لاہور کی سب سے بڑی درسگاہ ”چیفس کالیج“ (ایچیسن کالج ) بھی اسی کینال کے کنارے آباد ہے۔ جبکہ ماڈل ٹاؤن کے بعد آہستہ آہستہ لاہور کینال کے دونوں کنارے آباد ہوتے گئے۔ خاص طور پر پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی بڑی تعداد بھی لاہور میں آن پہنچی تھی جس نے شہر کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •