سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی کی تہلکہ خیز ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آ گئی


 

 سانحہ ساہیوال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس میں جے آئی ٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سانحہ ساہیوال مس مینجمنٹ کا نتیجہ ہے۔ کمزور معلومات کے بنیاد پر جلد بازی میں کمزور آپریشن کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ ہے جبکہ ذیشان کا معاملہ مشکوک ہے، جس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق مطابق سی ٹی ڈی پر فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ بادی النظر میں سی ٹی ڈی کے بیانات درست نہیں لگ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے بعد ایڈیشنل آئی جی پنجاب کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر وفاقی حکومت کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو ہٹا دیا گیا۔ ڈی آئی جی کو عہدے سے ہٹا کر وفاقی حکومت کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔ ڈی پی او کوبھی معطل کردیا گیا ہے جبکہ ایک ڈی ایس پی کو بھی ہٹایا گیا ہے۔

مقابلے میں ملوث سی ٹی ڈی کے پانچ افسران کا قتل کے مقدمہ میں چالان کر کے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بشکریہ ڈیلی پاکستان

Facebook Comments HS