روٹی تو کس طور ۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید! “ میں وہ بدقسمت انسان ہوں جس کی امید مرنے پر منحصر ہے، اپنے مرنے پر نہیں، دوسروں کے مرنے پر۔ ہر رات سونے سے پہلے دعا مانگتا ہوں۔ یا رب العالمین! فلاں شاعر، محب وطن اب تو کافی بوڑھا ہو گیا، پچھلے دس برس سے قبر میں پاؤں لٹکا ئے بیٹھا ہے، اب تو اسے اٹھا لے، اب تو بیچارے کے نہ ہاتھوں میں جنبش ہے نہ آنکھوں میں دم! اسے جنت میں جگہ دے یا جہنم میں، کم از کم مجھے اس کے نام پر چند ے کا ایک نیا فنڈ کھولنے کا موقع دے میں اس کا بت نصب کروں گا، اس کی یاد میں عظیم الشان لائبریری قائم کرنے کے لیے اپیل کروں گا، اس کی پسماندگان کی امداد کے لیے قوم سے خیرات مانگوں گا، پانچ ہزار۔ دس ہزار۔ پندار ہزار۔ اخر کچھ تو قوم کی جیب سے نکلے گا ہی، اے ذوالجلال۔

کل کے اخبار میں پہلی سر خی جو پڑھوں وہ کسی بڑے لیڈر کی موت سے متعلق ہو۔ خدا وندا! میری مالی مشکلات تجھ سے پوشید ہ نہیں، لڑکے کو ولایت بھیجنا ہے، لڑکی کی شادی نزدیک آ رہی ہے، کم از کم پندار ہزار روپیہ چاہیے۔ اگر اس مہینے تین لیڈروں کو قید حیات سے نجات دلانا تیرے لیے چنداں مشکل نہیں۔ اگر یہ کسی طرح ناممکن ہے تو پھر کوئی قحط، سیلاب یا بھونچال ہی بھیج، بنگال کا قحط تو پرانا ہو چکا۔ اب تو کسی نئی آفت کی ضرورت ہے۔ کوئی وبا، کوئی طوفان، پلیگ، ہیضہ، نڈی دل، کوئی مصیبت جس کے نام پر سنگدل سے سنگدل انسان چندہ دینے پر مجبور ہو جائے۔

جی ہاں میرا ہی نام ہے آقا طہرانی۔ میں تہران کا رہنے والا ہوں، تعلیم یہی سات جماعت۔ آباو اجداد ہینگ کا بیو پار کرتے تھے۔ ان کی تقلید میں ہینگ بیچتا ہوا بمبئی پہنچا۔ دیکھا کہ بمبئی کے لوگ ہینگ سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ہینگ چھوڑ کر گیتوں کی نجارت شروع کر دی۔ اب میں فلموں کے لیے گیت لکھتا ہوں۔ ہر قسم اور ہر موقع کے گیت۔ ہجر کے گیت، وصال کے گیت، شادی کے گیت، طلاق کے گیت، ڈھولک کے گیت، ناچ کے گیت۔

ایک گیت پانچ روپے میں بیچتا ہوں، خاصی آمدن ہو جاتی ہے۔ صبح و شام بمبئی کے سٹوڈیوز کا طواف کرتا ہوں، گلے میں ہار مونیم چوبیس گھنٹے لٹکا رہتا ہے۔ جب دیکھتا ہوں کہ کوئی نیم خواندہ پروڈیوسر پریشان خاطر نظر آتا ہے، فوراً چق اٹھا کر آداب بجالاتا ہوں اور نہایت انکساری کی ساتھ کہتا ہوں شیٹھ شاہب، تازہ فلم کے لیے گیت چاہیے؟ شیٹھ شاہب ہارمونیم پر گیت کی طرز سنتے ہیں، سر ہلا ہلا کر داد دیتے ہیں، اور منٹوں میں گیت کا سودا ہو جاتا ہے۔

گیتوں کے علاوہ غزلیں بھی کہتا ہوں۔ ان میں وزن اور معنی کے علاوہ سبھی کچھ ہوتا ہے۔ آپ کی دعا سے اس وقت بمبئی کا ہر جاہل ڈائریکٹر میرا لوہا مانتا ہے۔ یوں تو کمپنیوں کے پاس اپنے شاعر بھی ہیں لیکن وہ ٹھہرے بیچارے ادیب۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مغز زنی کے باوجود شیٹھ شاہب کی پسند کا گیت نہیں لکھ سکتے۔ اس وقت آقا طہرانی کو فون کیا جاتا ہے، کئی باران شاعروں سے ٹکر لے چکا ہوں۔ ہمیشہ انہیں سمجھاتا ہوں۔ ”کم بختو! گیت لکھنے سے پہلے ہارمونیم بجانا سیکھو“۔

” جی ہاں، آپ صحیح فرماتے ہیں۔ یہ سب پیٹ کا دھندا ہے۔ ورنہ یہ تو ناممکن ہے کہ کوئی آدمی بیس گزلمبا اور ڈیڑھ گز چوڑا ہو۔ یہ قبر جس کا میں مجاور ہوں، کسی فرضی ولی اللہ کی ہے۔ میں اسے پیر بیس گزا کے نام سے پکارتا ہوں۔ دراصل اس قبر میں کسی مرد ے کا دفن نہیں کیا گیا۔ پانچ سال ہوئے میں نے رات بھر جاگ کر اسے تیار کیا۔ مجاور بننے سے پہلے میں بھک منگا تھا۔ لوگ مجھے دھتکارتے تھے۔ اب میری پرستش کرتے ہیں۔

یوں تو ہر شخص پیر بیس گزا کا معتقد ہے، لیکن طوائفوں کو ان کے مزار سے خاص طور پر عقیدت ہے۔ سال میں دوبار عرس لگتا ہے۔ بمبئی، کانپور اور بنارس سے طوائفیں آتی ہیں۔ ہر ایک طوائف کے جلو میں درجنوں تماشبین ہوتے ہیں، طوائفیں غزلیں گاتی ہیں، قوالیاں سناتے ہیں، خاصی رونق ہو جاتی ہے۔ ان سب کو عرس کی آمدنی سے کمیشن ملتی ہے۔ یقین مانئے آج تک کوئی شخص اس مزار سے مایوس نہیں لوٹا۔ بانجھ عورتیں، ناکام عشق، شکست خوردہ انسان روتے ہوئے آتے ہیں اور ہنستے ہوئے گئے ہیں۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں، جتنی آمدنی مجھے ایک عرس کی موقع پر ہوتی ہے۔ اس سے پانچ سکول اور دس ہسپتال کھولے جا سکتے ہیں۔ لیکن مجھے ہسپتالوں اور سکولوں سے کیا غرض مجھے چاہیے شراب، خوبصورت عورتیں، جوا ء کھیلنے کے لیے روپیہ اور ساری نعمتیں۔ مجھے پیر بیس گزا کی عنایت سے میسر ہیں۔ پیربیس گزا! جو نہ کبھی پیدا ہوا نہ مرا لیکن جس نے مجھے جیسے قلاش کو پانچ سال کی قلیل مدت میں بھک منگے سے جاگیردار بنا دیا“۔

” ہاں صاحب! اس وقت تقریبا ڈیڑھ سو فحش کتابوں کا مصنف ہوں۔ عالی شا ن کوٹھی میں رہتا ہوں، کار میں سفر کرتا ہوں، تین بیویاں ہیں، چار نوکر جی ہاں۔ یہ سب فحش کتابوں کی بدولت ہے۔ پہلے پہل میں نے بھی شریف آدمیوں کی طرح دو ایک سنجیدہ کتابیں لکھیں۔ نتیجہ! وہی ڈھا ک کے تین پات، اتنی آمدنی بھی نہ ہوئی کہ ایک اچھا سا کوٹ سلوا سکتا، اب خدا کا فضل ہے، ادھر کتاب چھپی ادھر ایڈیشن ختم۔ بعض اوقات تو کتاب چھپنے سے پہلے ہی ایڈیشن ختم ہو جاتا ہے۔

یوں تو سارے ہندوستان میں میری کتابوں کی دھوم ہے۔ تاہم پنچاب، سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبہ میں ان کی مانگ ہے۔ لطف یہ کہ لکھتے وقت زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑتی تین چار بنے ہوئے پلاٹ ہیں، انہیں تھوڑی سے تصرف کے ساتھ ہر کتاب میں دہر ا دیتا ہوں۔ ایک پلاٹ ہے۔ شریف گھر کی دو شیزہ جس نے خانساماں سے عشق کیا، اور جو بعد کو ڈرائیور کے ساتھ بھاگ گئی۔ ایک پلاٹ ہے کالج کی لڑکی جس نے کالج کے ہر لڑکے کے ساتھ آنکھیں لڑائیں۔ ایک پلاٹ ہے۔ شریف زادہ جو شہر کی ہر طوائف کے پاس گیا۔

خود غرص اور حاسد قسم کے لوگ کہتے ہیں میں ہندوستان کا اخلاق تباہ کر رہا ہوں۔ یہ سراسر بہتان ہے ہندوستانیوں کا اخلاق ہے تو میں پوچھتا ہوں جب رشوت ستانی، غداری، نا اتفاقی اور اس قسم کی ہزارو ں لعنتیں اسے تباہ نہیں کر سکیں تو میری تصنیفات کی کیا بساط ہے۔ صاحب یہ تو سیدھی سی بات ہے۔ عوام کو غرض ہے نہ مجھے۔ اب خوامخواہ کوئی معلم اخلاق چیں بہ چیں ہوتا ہے تو ہوا کرے۔ آخر میں اس کی خاطر اپنی روش بدلنے سے تو رہا!

کامریڈ شیخ چلی سے اقتباس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •