ہندوستانی میڈیا پر چھائی ریپ اور قتل کی خبریں۔۔۔
کچھ منفی اشتہارات پر بھی حکومت کا دخل ضروری ہے جو نہیں ہو پا رہا ہے۔ سب ہی جانتے ہیں کہ تمباکو کے استعمال سے انسان کی صحت خراب ہوتی ہے اور یہ منھ کے سرطان کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اس بات کوصرف ’یومِ تمباکو‘ تک محدود رکھا گیا ہے۔ اس ایک دن کے علاوہ باقی ہر دن ٹی وی پر نئے سے نئے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں جو لوگوں کو گٹکا کھانے کے لیے ترغیب دیتے ہیں۔ ہندوستانی حکومت یا تو اپنی پالیسیوں میں واضح نہیں ہے یا پھر پان مسالے کی مخالفت اور اس سے ملنے والے کسٹم ٹیکس کو ساتھ ساتھ چلانا چاہتی ہے۔
جذباتی ہوئے بغیر کیا میڈیا کا گزارہ نہیں ہوتا؟ جب کوئی شخص مر رہا ہوتا ہے تو اس سے یہ پوچھنا کہ آپ کو کیسا لگا، اس وقت بہت بے تکا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا اکثر سننے میں آتا ہے کہ گویا میڈیا والوں کے دل ودماغ میں بے حسی گھر کر گئی ہے۔ اس کا سبب بھی یہی ہے کہ صحافی شاید یہ بھول گئے ہیں کہ بغیر ایشو بنائے بھی کوئی چیز پیش کی جا سکتی ہے جو دل کو چھو جائے۔ ایک ہی زبان جیسے ’ہڑکمپ مچ گیا‘ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کے لیے بھی لکھ دیا جاتا ہے، تاکہ خبر وزن دار بن سکے۔
دو لیڈروں میں لڑائی نہ بھی ہو، پھر بھی اس پیشے میں ان کے تیکھے تیور کو لڑائی تک پہنچانا شاید ضروری ہوتا ہے۔ میں نے جب آج سے 14 سال پیشتر صحافت میں قدم رکھا تو بہت برا لگتا تھا کہ سماج میں کیسا پیغام جائے گا، اس کی پروا کیے بغیر صحافی ساتھی لیڈروں سے باتو ں میں وہ نکلواتے تھے جو انھیں خبر کے لیے چاہیے ہوتا تھا، یعنی کہ جذباتی مسالہ۔ بہت بار مجھے مخالفت کرنی پڑتی تھی، مگر ساتھیوں کا جواب یہی ہوتا تھا—یہی تو خبر بنے گی۔
صحافت ایک تحریک تو ہے جو نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتی ہے، مگر ساتھ ساتھ سماج کو بلندی کی راہ پر لے جانے کی مہم بھی ہے، اسے میڈیا سے وابستہ لوگوں کو یاد رکھنا ہوگا۔ مثبت ہوئے بغیر زندگی کا سفر بہت بوجھل ہو جاتا ہے۔ مثبت کا مطلب صرف سنتو ں اور صوفیوں کے ذریعے دیے گئے خیالات کا ایک ’سیکریڈ اسپیس‘ کالم نہیں، بلکہ پورا اخبار جو ایک مثبت فکر کے لیے ترغیب دے۔ کوئی اشتہار اگر دھلائی کے صابن کا ہو، تو وہ بھی دلوں کوجوڑ دے کہ ’داغ اچھے ہیں‘ ۔
اسکول سے لوٹتے ہی دو بھائیوں میں سے چھوٹا بھائی کیچڑ میں گر کر رونے لگتا ہے، بڑا بھائی بھی اپنے اوپر کیچڑ لگا لیتا ہے اور چھوٹا رونا بند کر دیتا ہے۔ جذبہ خیر سگالی کی علامت یہ داغ بھی اچھے ہیں۔ ایسے مثبت اشتہارات بھی جوڑنے کاکام کرتے ہیں، توڑنے کا نہیں۔ کیوں نہ دیگر اشتہای ایجنسیاں بھی اس سے سبق لیں۔
ہم انسان اندرسے اچھا ہی بننا اورنظرآنا چاہتے ہیں۔ سب امن وسکون ہی چاہتے ہیں، مگر منفی ماحول بننے پر ہماری بری خصلتیں اجاگر ہوکر غلط کربیٹھتی ہیں۔ اس ماحول کو پاک وصاف بنانے میں اور زندگی کا رخ موڑنے میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آنکھوں سے دیکھے ہوئے منظر کا اثر ہمارے ذہن پر 70 فی صد ہوتا ہے، جب کہ پڑھی ہوئی چیزکا صرف 30 فی صد، اس لیے الیکٹرانک میڈیا کو سنسنی خیز ی کے دائرے سے اوپر اٹھ کر تخلیقی اورتعمیری رخ کواختیارکرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ پرنٹ میڈیا میں بھی قلم کی آواز قارئین کے دل ودماغ میں بس جاتی ہے، کب کہاں اور کیسے وہ کتنی تخریبی ثابت ہو، کہہ نہیں سکتے۔ اس لیے بیدار ہوکر یہ پرکھتے ہوئے کہ اس کا عام وخاص پر کیا اثر پڑے گا، میڈیا کو اپنی پیش کش دینی ہوگی۔
کبھی صحافت کا مطلب تھا پاک وصاف طرزِ زندگی۔ عوام کی خیرخواہی کے لیے جو وقف ہوتے تھے، وہ صحافی کہلاتے تھے۔ ہندوستان کو آزاد کرانے والوں میں صحافت سے وابستہ تحریک آزادی کے لیڈروں کا بھی ایک اہم کردار رہا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، سر سید احمد خان، شورش کاشمیری، تلک، گاندھی جی، ماکھن لال چترویدی، بابوراؤ وشنو پراڑکر اور گنیش شنکر ودیارتھی وغیرہ صحافیوں نے اپنا جو کردار ادا کیا، وہ کردار ہی ہندوستانی صحافت کے کام کے ماحول کو سمجھنے میں معاون بن سکتا ہے۔
تب کے صحافی ادیب اور قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن اور قومی و ملی قائد بھی ہوا کرتے تھے۔ ان کے دماغ میں صحافت کے نام پر سنسنی نہیں تھی، وہ تعمیر نو کو زادِ راہ کے طورپر لے کر چلا کرتے تھے۔ وہ دور ایسا تھا کہ ہر طرف سماج میں تقریباً ہر میدان میں ایک جذبہ فداکاری نظر آتاتھا، لیکن آہستہ آہستہ ہم اس عظیم روایت سے گویا دور ہوتے چلے گئے اور گزشتہ دو دہائیوں سے جب سے بازارپرست ذہنیت حاوی ہوئی ہے، ہر طرف زوال ہی زوال نظر آنے لگاہے۔
صحافت کو جلدبازی میں تصنیف کیا گیا ادب ہی کہاجاتاہے۔ مطلب وہ ادب تو ہے ہی، لیکن جلدبازی میں اس لیے ہے کہ اسے فوراً خبر دینی ہے۔ کوئی واقعہ ہوا تو قارئین تک جلدی سے جلدی پہنچا دیا جائے۔ الیکٹرانک میڈیا میں یہ بریکنگ نیوزہے۔ یہ ہوناچاہیے۔ خبر دینے میں تاخیر نہ ہو، لیکن کیا خبر دیتے وقت ہم عقل وشعور کوبالائے طاق رکھ سکتے ہیں؟ کیا کسی خبر کو دیتے وقت ہماری جانب داری اور عصبیت بھی کارفرماہونی چاہیے؟ کیا جب ہم کوئی خبردیں، تو کسی خاص سیاسی نظریے کے ترجمان کی طرح کام کرنے لگیں؟ ایساہونا تو نہیں چاہیے، کیوں کہ خبریں غیرجانب داری کی پالکی میں ہی بٹھائی جانی چاہئیں۔ لیکن ان دنوں جو رواج دیکھاجا رہا ہے، وہ مایوس کن ہے اور صحت مند صحافت کے لیے بے حدخطرناک بھی۔
میں گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ متعدد اخباروں میں کام کرتے ہوئے طرح طرح کی خبروں سے پالا پڑا ہے، لیکن ہر بار یہ خیال رکھاہے کہ میری کسی ایک سطر سے بھی سماج کو نقصان نہ پہنچے۔ صحافت کی تعلیم بھی دی ہے، تب بھی طلبہ کو یہی سمجھایا ہے کہ انتہائی جوش میں آکر ایسی کوئی رپورٹ نہیں تحریر کی جانی چاہیے، جس سے سماج کا یا ملک کا نقصان ہو۔ لیکن دیکھتاہوں کہ آئے دن ٹی وی کے چینلوں میں ملک مخالف باتوں کو خوب اچھالا جاتاہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

