ہندوستانی میڈیا پر چھائی ریپ اور قتل کی خبریں۔۔۔
ہندوستانی میڈیا مثبت چیزوں اور واقعات کے مقابلے میں زیادہ تر بری چیزوں اور واقعات کو پیش کرتا ہے۔ ایک نظر اخبار پر ڈالنے سے صاف نظر آ جاتا ہے کہ خوف ناک، دردناک اور شرم ناک، واقعات اورجرائم کی خبریں صفحہ ٔاوّل پر جگہ پاتی ہیں، جب کہ مثبت اور قابل تعریف مواد اندر کے صفحات میں سمایا نظر آتاہے۔ یہ قارئین یا سامعین کی دلچسپی ہے یا پھر میڈیا والوں کا رجحان؟ کیا منفی مواد زیادہ بکتا ہے، اس لیے میڈیا کی جانب سے یہی پیش کیا جاتا ہے؟ اس مضمون کے ذریعے سے یہی کچھ جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایک سروے کے مطابق سوشل میڈیا پر زیادہ تر مثبت مضامین، مقالے شیئر کیے جاتے ہیں، مگر اخبارات کے معاملے میں اب بھی منفی رجحان زیادہ پایا جاتاہے۔ جس دن اخبار میں کسی غبن یا بد عنوانی کی خبر لیک ہوتی ہے، اس دن اخبار کی فروخت 30 فی صد بڑھ جاتی ہے۔ یہی حال الیکٹرانک میڈیا کے چینلوں کا ہے۔ ہر خبر کو سنسنی خیز جب تک نہیں بنائیں گے، چینل کی ٹی آر پی نہیں بڑھے گی۔ مجرمانہ وارداتوں کو زیادہ سے زیادہ زور دے کر شہ سرخی کے ساتھ ابھارنا تو ہندستانی میڈیا کی گویا فطرت بن گئی ہے۔
یہ سب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ہمارے ملک میں، آس پاس کے سماج میں، صرف عصمت دری اور قتل جیسے سنگین جرائم ہی ہوتے رہتے ہیں، جو متوجہ کر سکیں؟ اصول کشش کے مطابق جس معیار کی معلومات ہم اپنے اندر بھریں گے، اسی معیار کے خیالات پیدا ہوں گے۔ اگر اپنے اندر منفی یا غیر ضروری معلومات ڈالتے ہیں تو مثبت سوچ پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
گوگل سرچ انجن پر ’ریپ‘ لفظ تلاش کیا جائے تو سب سے زیادہ ہندستان کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ عصمت دری سے متعلق ایک دوردرازگاؤں کا چھوٹا سا واقعہ بھی بین الاقوامی میڈیامیں اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، گویا ہندستان کی سنسکرتی ’ریپ سنسکرتی‘ بن گئی ہو۔ ایک نظر نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو پر ڈالیں تو ہندستان میں 2011 ء میں 24206 عصمت دری کے معاملات درج کیے گئے تھے، یعنی ہر 20 منٹ میں ایک بد سلوکی کا واقعہ اور اب یہ 22 منٹ میں ایک تک آ گیا ہے۔ ترقی یافتہ ملک امریکا کے مقابلے میں ہندwستان پھر بھی اچھا ہے۔ امریکا کی ایک ایجنسی RAINN (Rape Abuse and Incest National Network) کے مطابق ہر دو منٹ پر ایک امریکی بدسلوکی کا شکار ہوتا ہے۔
یو ایس ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نیشنل کرائم وکٹیمائزیشن سروے کے مطابق اوسطاً 237868 لوگ جو 12 برس سے اوپر ہیں، ہر سال جنسی مظالم کا شکار بنتے ہیں۔ مگر دنیا کی معروف نیوز ایجنسی رائٹر اسے بڑھا چڑھا کر کبھی نہیں دکھاتی۔ پھرہندستان کا میڈیا اتنا منفی کیوں ہے؟
ہندستان کے سابق صدر جمہوریہ عبدالکلام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہندستانی میڈیا منفی ہے۔ ان کا یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ”مجھے بتائیں، یہاں میڈیا اتنا منفی کیوں ہے؟ ہم اپنے ہندستان میں اپنی خوبیوں اور کامیابیوں کو بتانے میں جھینپتے کیوں ہیں؟ ہم اتنے مہان دیش میں ہیں۔ اتنی حیران کن ہماری کامیابیاں ہیں، مگر ہم ان کی نفی کیوں کرتے ہیں؟ “
کوئی دوسرا آکرہماری غلطی کیا بتائے، ہم تو اپنے آپ ہی اپنی غلطیاں ابھار رہے ہیں اور میڈیاکے ذریعے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ہندستان میں سوائے اندھ وشواس، بدعنوانی، عصمت دری اور قتل کے سوا کچھ ہوتا ہی نہیں ہے۔ کوئی بری چیز آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے، آج کے میڈیا کا بس یہی مرکز توجہ بن چکا ہے۔
اس کے برخلاف حال ہی میں یوکے میں ’اسٹاپ فنڈنگ ہیٹ‘ نام سے ایک مہم کی شروعات ہوئی جس میں اس حد تک مثبت نیوز کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ سب ہی موبائل کمپنیوں، یہاں تک کہ برٹش ٹیلی کام، سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ ان سب میڈیا چینلوں اور اخبارات کواشتہار نہ دیں جو نفرت پھیلاتے ہیں۔ اس میں ’دی سن‘ ، ’ڈیلی میل‘ اور ’ڈیلی ایکسپریس‘ جیسے کچھ اخباروں کو اشتہارنہ دے کر ’اسٹارٹ اسپریڈنگ لَو‘ ، ’اسٹاپ فنڈنگ ہیٹ‘ کا اصول اختیار کرنا، صرف انہی میڈیا اخباروں کو اشتہار دینے کو کہا گیا جو اچھی اور پازیٹو نیوز دیتے ہیں۔
جو بھی طاقتیں خیالات اورالفاظ کو توڑتی ہیں، یا ذات پات کی تفریق کو فروغ دیتی ہیں، انھیں بند کرو، اس بات پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ باتیں غیر ملکی اپنا رہے ہیں تو ہندستان میں ہر واقعہ پر سیاست کر کے اسے صفحہ اوّل پر کیوں لایا جا رہا ہے؟ لوگ برا پڑھنا نہیں چاہتے، انھیں زبردستی خراب چیز کی عادت ڈالی جا رہی ہے۔
میں نے کئی بارانٹرویو کے دوران اپنے آس پاس کے دانشورطبقے سے معلوم کرنا چاہا کہ وہ لوگ کیسی خبریں پڑھنا پسند کرتے ہیں، تو زیادہ تر یہی بات سامنے آئی —جن کو پڑھ کر دن اچھا گزرے، کچھ تعمیری کرنے کی ترغیب ملے۔ ایک لیڈر یا ایک سیاسی پارٹی دوسرے کی کیا برائی کر رہی ہے، اس سب سے عام آدمی کو زیادہ سروکار نہیں ہے۔ پھر ہندستانی میڈیا ان دھرنوں، جرائم کی وارداتوں کوزیادہ اہمیت دینے سے کب باز آئے گا، یہ غورطلب امر ہے۔
بات صرف تناسب کی ہے۔ میں یہ کہنے کی ہرگز کوشش نہیں کر رہا ہوں کہ سماج میں کچھ غلط ہو جائے تو اسے اجاگر نہ کریں۔ اسے ضرور دکھائیے، لیکن اتنا نہیں کہ وہی دل ودماغ پر چھایا رہے اور اس دن کی کوئی اچھی تعمیری خبر ’کِل‘ ہی ہوجائے۔ اپنی صحافت کے کیرئیر میں میں نے اکثر یہ محسوس کیا ہے کہ جس دن کوئی حادثاتی خبر یا کوئی سنسنی خیز خبر ہو اس دن ملکی سطح کا کوئی سیمینار یا ریسرچ پر مبنی کسی شخص کی کامیابی ایک کونے میں سمٹ کررہ جاتی ہے، کیوں کہ ہندستانی میڈیا میں مثبت کے مقابلے میں منفی چیزیں زیادہ اہم جگہ پا چکی ہیں۔
ہرچیز کواس کی صحیح حیثیت کے مطابق ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ بسا اوقات صحافی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر فسادات زدہ علاقوں میں، سیلاب کی حالت میں یا پھر دہشت گردانہ حملے کی رپورٹنگ کرتا ہے تو پروڈیوسر بھی اسے بار بار دکھاتے ہیں، لیکن کیا اس سے کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔ جس طرح بہت تیکھا یا بہت میٹھا بد ہضمی پیدا کردیتا ہے، اس لیے ڈاکٹر ہمیشہ متوازن غذا لینے کی صلاح دیتا ہے، اسی طرح ہر خبر متوازن انداز ہی میں ٹھیک لگتی ہے اور اپنے ناقابل فراموش نقوش چھوڑتی ہے اور اس سے متعلق شخص کو کچھ ایکشن لینے پر مجبور کرتی ہے۔ ورنہ بہت بار یہ تکرار بے اثر ہونے لگتی ہے۔ مثلاً کئی سیاسی لیڈروں کی کتنی بھی پول کھولو، ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ کوئی اصلاح یا حل کی طرف توجہ نہ دینے سے سنجیدہ موضوع بھی صرف تنقیدی بحث بن کر رہ جاتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


