پاکستان کے پہلے سرکاری یہودی شہری کے لئے تہنیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ایک طرف پنجاب میں ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے گاﺅں چک 187 میں ایک گورنمنٹ ایلیمینٹری سکول ہے جسے ہندو برادری کے زیادہ تر بچے چھوڑ چکے ہیں ۔ بڑی وجہ اسلامیات کا مضمون ہے اور متبادل مضمون کوئی بھی نہیں۔ ہندوﺅں کو خدشہ ہے کہ سرکاری سکول سے تعلیم حاصل کرنے والے ان کے بچوں کا مذہب خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسلامیات پڑھنے والے ہندو بچوں کو اپنے مذہب کی کوئی خبر نہیں، جب ان کے بچے بڑے ہوتے ہیں، مولوی صاحب انھیں تبلیغ کرتے ہیں، تو وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔ دیالو رام کے مطابق حال ہی میں ان کے قریبی گاﺅں چک 197 میں ایک خاندان مسلمان ہوا۔ اکثر لوگ لالچ میں آکر مسلمان ہوتے ہیں، کسی نے کسی کے پیسے دینے ہوں یا برادری سے کوئی جھاڑ پچھاڑ ہوئی ہو تو وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔ یہاں لوگ کافی متعصب ہیں، پانی پینے سے بھی روکتے ہیں، اگر کوئی بچہ گلاس کو ہاتھ بھی لگا دے تو مارتے ہیں۔

پاکستان میں ہندو برادری کی کچھ خواتین کو اپنے تحفظ کے لیے معاشرے میں سکھ بن کر رہنا پڑتا ہے۔ حسن ابدال میں مقیم پناہ گزین امیت کور کہتی ہیں سکھ برادری میں قبول کیے جانے کے لیے گرنتھ صاحب پڑھتی ہوں کیونکہ یہاں کوئی مندر نہیں، مگر ناامیدی کے وقت میں بھگوت گیتا سے ہی رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتی ہوں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم” ویمنز ریجنل نیٹ ورک “ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتوں کے یہ پناہ گزین، خاص طور پر خواتین ملک کے مختلف علاقوں سے فوجی آپریشنز، طالبان کی دھمکیوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

کئی ایسی خواتین ہیں جن کے پاس قومی شناختی کارڈز نہیں اور پناہ گزین کا درجہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اس کا متبادل بھی حاصل نہیں کر سکتیں، نہ ہی حکومتی امداد سے مستفیض ہو سکتی ہیں۔ ان کے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ وہ ریاست سے مدد حاصل کر سکیں۔ جن علاقوں میں یہ پناہ گزین نقل مکانی کر کے جاتے ہیں وہاں کے لوگ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انھیں اکثر چور تصور کرتے ہیں ۔ زیادہ تر کا یہی کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندوﺅں کو کافر اور بت پرست کے ساتھ ساتھ ملک دشمن اور غدار تصور کیا جاتا ہے۔

سال 1998 کی مردم شماری سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں 95 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ غیرمسلم آبادی لگ بھگ پانچ فیصد حصے پر مشتمل ہے جن میں عیسائی، ہندو، پارسی، آتش پرست، سکھ، بدھ مت اور دیگر افراد شامل ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پاکستان کے قیام سے پہلے ہزاروں کی تعداد میں آباد ہندو اقلیتی برادری کے لیے شمشان گھاٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث وہ اپنے مردوں کو جلانے کی بجائے اب انہیں قبرستانوں میں دفنانے پر مجبور ہیں۔ آئین پاکستان کی شق 25 کے مطابق تمام پاکستانی برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور تمام اقلیتوں کے لیے قبرستان اور شمشان گھاٹ کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے نہ صرف ہندو بلکہ سکھوں اور مسیحی برادری کے لئے بھی اس ضمن میں کوئی سہولیات میسر نہیں۔

ان تمام قصے کہانیوں پر حقیقت کا پوتر پانی پھیرتے ہوئے حکومت پاکستان نے اپنے ایک نوجوان کو بطور یہودی شہری قبول کر لیا ہے اور پاسپورٹ کے مذہب کے خانے میں ”جیوڈا ازم“ تحریر کر دیا گیا ہے۔ دو سال کی قانونی جنگ کے بعد فیصل عرف فیشل نے اب ایک دوسرا قانونی محاذ بھی کھول دیا ہے جس میں وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانا چاہتے ہیں۔ 32 سالہ اس یہودی کا تعلق کراچی سے ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2016 سے پاکستان کے قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا سے رابطے میں تھے کہ انہیں یہودی لکھا جائے۔ میں پریکٹسنگ مسلم نہیں ہوں حالانکہ پیدائش کے وقت مجھے مسلم رجسٹرڈ کیا گیا جو پاکستان میں بین المذاہب شادیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ نادرا مجھ سے مختلف دستاویزات، برتھ سریٹیفیکٹ، والدہ کا شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات مانگتا رہا اور میں انہیں دیتا رہا لیکن میری شنوائی نہیں ہوسکی، کیونکہ پاکستانی قانون کے تحت اسلام سے کسی دوسرے مذہب میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی والدہ کا تعلق یہودی مذہب سے تھا جبکہ ان کے دیگر چار بھائی اسلام کی پریکٹس کرتے ہیں، جن سے وہ لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ ماں کیا پریکٹس کرتی ہے، کیا کہتی ہے، کیا پہنتی ہے بچے کی یادوں میں یہ شامل ہوجاتا ہے اور اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، میں نے روحانی طور پر یہودی مذہب قبول کیا۔

 فیشل کا کہنا ہے کہ 1950 میں جب رجسٹریشن ہوئی تو اس وقت یہودی کمیونٹی نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی بلکہ خود کو مسلم یا پارسی ظاہر کیا۔ آپ میوہ شاہ میں یہودی قبرستان میں چلے جائیں وہاں ایک قبر پر اسٹار آف ڈیوڈ موجود ہیں جبکہ نام نسیم مہدی تحریر ہے، جو ایک مسلم نام ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو یہودی موجود ہیں وہ زیادہ تر عمر رسیدہ ہیں ان کے بچے باہر رہتے ہیں وہاں کی شہریت اختیار کررکھی ہے، یہ تمام لوگ پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔

فیصل خالد عرف فیشل سماجی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر بھی سرگرم ہیں اور اپنی شناخت جیو پاکستانی لکھتے ہیں۔ نادرا سے شناختی کارڈ میں درستی کے بعد انہوں نے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے یروشلم جانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن مشکل یہ ہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تحریر ہے کہ اس دستاویز پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں جب وزیر اعظم عمران خان کی شکایتی ایپ کا اجرا ہوا تو انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب ہوکر یروشلم جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کی درخواست وزیر اعظم سیکریٹریٹ سے وزرات خارجہ کو بھیجی گئی جہاں سے سندھ کے چیف سیکریٹری کے پاس آئی۔ بالآخر اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں وزرات خارجہ سے ٹیلیفون آیا کہ آپ ویزے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ آپ فلسطینی سفارتخانے سے ویزہ لگوائیں اور وہاں سے اسرائیل چلے جائیں۔ وزارت کو آگاہ کیا گیا کہ یروشلم تو اسرائیل میں ہے، وہاں سے تو توثیق کرانی ہوگی اور میں یہ اپنے پاسپورٹ پر کرانا چاہتا ہوں، اس کو چھپانا نہیں چاہتا، حکام نے جواباً کہا کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کے تحت جا سکتے ہیں۔

فیشل خالد کو نہیں لگتا کہ فلسطین سفارتخانہ انہیں بطور یہودی ویزہ دے گا یا معاونت کرے گا لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر وہ رابطہ ضرور کریں گے، اس کے علاوہ وہ اسرائیلی حکومت سے بھی رابطہ کرکے اپنی خواہش کا اظہار کریں گے۔ فیشل ایک امریکی کمپنی میں کام کرتے ہیں جو کوشر چیک کرتی ہے، وہ سری لنکا اور دبئی جا چکے ہیں۔ بقول ان کے اگر مجھے یہاں سے راہ فرار اختیار کرنا ہو تو پہلے کر سکتا تھا، بیرون ملک پناہ حاصل کر کے میں کیا وہاں ٹیکسی چلاتا، میں یہاں پاکستان میں کافی مطمئن ہوں۔ یہاں رہ کر اپنے مذہب کی معاونت کرنا چاہتا ہوں۔ شادی شدہ فیصل کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی شادی سے قبل یہ جانتی تھی کہ وہ یہودی ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بھی بطور یہودی رجسٹرڈ کرایا ہے ، اس سے پاکستان میں یہودی کمیونٹی فروغ پائے گی۔

فیصل عرف فیشل پہلے یہودی پاکستانی کا اعزاز حاصل ہونے پر پوری پاکستانی قوم کی جانب سے تاریخی مبارک قبول فرمائیں کہ ان کی بدولت پاکستان میں اقلیتوں کے عدم تحفظ جیسے الزامات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا اور یقینناً ہم بہت جلد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے دائمی طورپر خارج ہو جائیں گے۔ پھر دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ سمیت کون مائی کا لعل ہمیں اقلیتوں کے نام پر بلیک میل کرنے کی جرات کرے گا، لیکن پاکستانی پاسپورٹ۔۔۔ اس کا کیا ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •