ہندوستانی میڈیا پر چھائی ریپ اور قتل کی خبریں۔۔۔


لگتا ہی نہیں کہ یہ ہندوستان کا چینل ہے۔ کوئی ملک دشمن میڈیا ایسا کرے تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن اپنے ملک کا میڈیا ایسی حرکتیں کرتا نظر آئے تو افسوس ہوتا ہے۔ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والی خبریں خصوصیت سے دی جاتی ہیں۔ ایسی متوازن رپورٹ کم ہی نظر آتی ہے، جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی باتیں ہوں۔ منفی ذہنیت ہی موجودہ میڈیاکا اصل کردار بنتی جارہی ہے۔ کیسے ملک کے خلاف، تہذیب کے خلاف خبریں دکھائی جائیں، یہ مسابقت سی چل رہی ہے۔ ایسا کرنے سے ان کی ٹی آرپی بڑھتی ہے۔ یہ ذہنیت ہے۔ سمجھ میں نہیں آتاکہ میڈیا کا سماجی جذبہ دھیرے دھیرے ختم کیوں ہوتاجا رہا ہے؟ کیا میڈیاکے لوگ ایسی صورت حال سے واقف نہیں ہیں۔ ضرور واقف ہیں، لیکن جب سنسنی پھیلانا ہی میڈیا کا کردار بن جائے تو عوامی مفاد کاخیال چہ معنیٰ؟

سماج کو غلط اطلاع دینا ایک طرح کا جرم ہے اور یہ جرم علانیہ ہو رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا کی بہتری کی فکر کرنے والے سینئر صحافیوں کومتحد ہوکر غوروفکر کرنا چاہیے کہ ہو کیا رہا ہے؟ ایک ضابطۂ اخلاق تو بنے۔ کچھ رہنما خطوط متعین ہوں، کچھ معیار قائم ہوں۔ یہ صاف صاف ہدایت ہو کہ سماج کو منتشر کرنے سے متعلق ایسی خبریں قطعی سامنے نہ آئیں، جن سے ملک کمزور پڑے۔ ایسی کوئی خبر نہیں دکھائی جانی چاہیے جس سے دو مذاہب کے درمیان تنازع پیدا ہو۔

عصمت دری کی خبروں کو جس طریقے سے دکھایا جاتاہے، وہ بھی غلط ہے۔ اسے تفصیل سے دکھانا کیوں ضروری ہے۔ عصمت دری کے واقعات آج سے نہیں، پہلے بھی ہوتے تھے، مستقبل میں بھی مجرمین اپناکام کرتے رہیں گے۔ ایسی خبروں کو دن بھر چلایا جاتاہے، جنھیں دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں عصمت دری کے واقعات بڑ ہ رہے ہیں۔ قتل کی خبریں بھی اس طرح ڈرامائی شکل کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں گویا کہ کوئی فیچر فلم بن رہی ہو۔ اس کے پس پشت خالص بازارو ذہنیت ہے، اپنے چینل کو، اپنے اخبار کو بیچنے میں کامیاب رہنے کا رجحان ہے۔

ایسا کرتے ہوئے میڈیا کے لوگ اپنی سماجی ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں بازار ہی کا خیال نہیں رکھنا ہے، بلکہ سماجی واخلاقی اقدار کا بھی لحاظ رکھناہے۔ صحافت کا مطلب کاروبارنہیں ہے، فکر بھی ہے۔ اس کے بغیر صحت مند صحافت نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اگر ایک ٹھوس ضابطۂ اخلاق کی سمت میں کام ہو تو بہتر ہوگا۔ حکومت جب کوئی اصول بنائے گی تو وہ آزادی اظہار خیال پر ایک انکش کی طرح ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ صحافیوں کی تنظیمیں اور میڈیا گھرانے والے مالک اس بارے میں غوروفکر کریں۔ انھیں رہنما خطوط وضع کرنے ہو ں گے، تاکہ ملک میں امن وامان اور ملک سے محبت کا ماحول قائم رہے۔

صحافت کا ایک ہی دھرم ہے اور وہ ہے ملک وسماج کی مثبت شبیہ پیش کرنا۔ ہمارا فرض اور اپنے دھرم کی پیروی یہی ہے کہ سماج میں بغض ونفرت اور تعصب کاماحول پیداکرنے والے واقعات کی رپورٹنگ تیار کرنے میں محتاط زبان کا استعمال کریں۔ اگر کہیں خون خرابے، فساد کی وجہ سے کشیدگی کی صورت حال ہے تو رپورٹنگ سے کشیدگی حتی الامکان کم ہو۔ کسی فرقے یا مذہب کے جذبات کو جان بوجھ کر ٹھیس پہنچانے والے بیانوں کی رپورٹنگ سے بھی لوگوں میں یہ پیغام نہ جائے کہ میڈیا نے اسے غیر ضروری طول دے دیا۔

سستی بیان بازی جو سرخیوں میں جگہ پاجاتی ہے کبھی کبھی اور مسالہ دار خبر کچھ عرصے تو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے، مگر انجانے میں سماج کی صحت مند ماحول کوکتنا نقصان پہنچادیتی ہے، اس کا اندازہ ہمیں بہت دیر بعد لگ پاتاہے، جب ہمارا نوجوان طبقہ بھٹک چکا ہوتاہے اور اسے سدھارنے میں شاید کئی دہائیاں بھی کم پڑتی نظر آتی ہیں۔ ہندستانی میڈیا اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مثبت نقطۂ نظر اختیار کرے۔ گاندھی جی کہتے تھے کہ صحافت کو میں نے اپنی زندگی کا ایک مشن بنایا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ غیر متشدد تدابیر ہی سے سچائی کی جیت ہو سکتی ہے۔ لیکن آج میڈیا میں ایسے لوگ سرگرم نظر آتے ہیں جو جھوٹ کے سہارے سچ کو، ہم آہنگی کواور ملک کو شکست دینے کے گناہ میں ملوث ہیں۔ گاندھی نے ’ستیاگرہ‘ کے لیے بھی صحافت کا سہارا لیا تھا، لیکن اب تعصب کے لیے صحافت بنام میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ خطرناک صورت حال ہے، جس سے نمٹنے کے لیے نیا شعور چاہیے۔ پھر ایسے تھوڑے سے صحافی چاہئیں جو ان مستقل اقدار کو تذکیر کی طرح قائم کریں جو اصل صحافت کی روح رہے ہیں۔

صحافت میں آہستہ آہستہ بولڈنیس (بے باکی) کے نام پر بد تہذیبی فروغ پارہی ہے اور آزادی اظہار خیال کے نام پر حدود سے تجاوز بھی، حدود سے تجاوز یعنی ایسی خبر دکھانا جس سے ملک کے دشمنوں کوفائدہ ہو، ایسی خبر پیش کرنا، جس سے ملک کی ہم آہنگی متاثرہو۔ ایسی صحافت بیمار ذہنیت کی پیداوار ہے۔ یہ ذہنیت کیسے درست ہو، اس پر مل جل کر غورکرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ منفی ہوئے بغیر میڈیا کا گزارہ نہیں ہوگا۔ سنسنی پھیلائے بغیر اور نگیٹو ہوئے بغیر بھی قارئین کو گرویدہ بنایا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے تو بس ایک لیڈرشپ کی، ایک نئی شروعات کی، ایک مثبت تحریک کی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah