ثاقب نثار، راؤ انوار اور فارمولا فلمیں


16 جنوری تک ہر طرف چھائے ہوئے جناب ثاقب نثار صاحب اور سندھ پولیس کے برطرف ایس ایس پی راؤ انوار کا خیال آتے ہی ایسی کئی انڈین موویز ذہن میں آ جاتی ہیں جن میں ایک ہی ماں کے دو بیٹوں میں سے ایک جرائم کی دنیا میں پڑ جاتا ہے اور دوسرا پولیس افسر، جج یا وکیل بن جاتا ہے۔ اکثر سٹوری یوں آگے بڑھتی ہے کہ دونوں بھائیوں میں انت قسم کا پیار ہوتا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ سمجھ لیں تقریباً ویسا ہی پیار دکھایا جاتا ہے جیسا نواز شریف اور شہباز شریف یا عمران خان اور جہانگیر ترین میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

لیکن پھر جب سٹوری کلائمیکس کی طرف بڑھتی ہے تو کسی موڑ پر دونوں بھائی آمنے سامنے آ جاتے ہیں یعنی ”محبت“ اور ”فرض“ کا یُدھ دکھایا جاتا ہے۔ فلم بین حضرات سانسیں روکے دیکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ اس مرحلے تک وہ بھی دونوں بھائیوں کی جوانی، بھرپور زندگی، ان کے ہنسی مزاح، شرارتوں اور بیٹوں کا بیوہ ماں سے اور ماں کے بیٹوں سے پیار کی سٹوری میں کھو چکے ہوتے ہیں اور اس تصویر کو بکھرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن بالآخر فرض کی پکار محبت پر غالب آتی ہے۔

جرائم پیشہ بھائی کو پولیس والا بھائی پلس مقابلے میں پار کر کے خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتا ہے۔ اگر اچھے والا بھائی جج ہے تو مجرم بھائی کی موت کے پروانے پر دستخط کر دیتا ہے اور بھری عدالت میں ہارے ہوئے ایسے جواری کی طرح سر نیہوڑا لیتا ہے جس نے اس بازی میں اپنا سب کچھ ہار دیا ہو۔ اسی طرح وکیل اپنی ساری صلاحیتیں استعمال کر کے مجرم بھائی کو سزا دلوانے کے بعد کورٹ کے باہر اسی کے گلے لگ کر بلک بلک کر پوچھتا ہے کہ ”بھیا کاش ہمارا بچپن لوٹ آئے“ اور سزا یافتہ مجرم بھائی چھوٹے کا سر تھپتھپا کر ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اسے کہتا ہے ”ابے پگلے، دیکھ تو کتنا بڑا وکیل بن گیا“ وغیرہ وغیرہ۔

شیرے سے لتھڑے گرم گلاب جامنوں کی طرح جذبات میں لتھڑی مووی کے اس مرحلے پر فلم دیکھنے والے بھی تھوڑے سے آبدیدہ ہوتے ہیں تاہم اس وقت وہ اس کیفیت سے نکلنا اور سنبھلنا شروع ہو جاتے ہیں جب مووی کے ان اختتامی مراحل میں بیوہ ماں کی انٹری ہوتی ہے۔ ماں کو دونوں بیٹے ایک جتنے پیارے ہیں لیکن بیوگی کی آزمائش سے گزر کر کندن بنی ہوئی بیوہ اور بچوں کے باپ یعنی اپنے سورگباشی پتی کے آدرشوں کو سینے سے لگا کر بیٹے پالنے والی ایسے امتحانوں میں سرخرو ہونے کے لئے تیار ہے۔

بلوغت کی سرحد پر قدم رکھتے ہی بیاہے جانے اور فورا گود ہری ہو جانے کی وجہ سے والی دو کڑیل بیٹوں کی بیوہ ماں خود بھی جوان ہے۔ کڑک لہجے میں اس کی آواز گونجتی ہے کہ فرض کی تکمیل کے تقاضے اور اصول کی پاسداری میں میں ایک بیٹے کی جدائی کا دکھ حوصلے سے برداشت کرنے کو تیار ہوں اور پھر تڑپ کر دونوں بیٹوں کو اکٹھا گلے سے لگا لیتی ہے۔ فلم بین بھی صدمے سے باہر نکلتے ہیں اور ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔

اکثر یہ ”دی اینڈ“ والا سین ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ”مثالی اختتام“ دیکھنے کے خواہشمند فلم بینوں کی خاطر ایک سین اضافی بھی ڈالا جاتا ہے۔ اس میں بالوں میں تھوڑی اور زیادہ چاندی لئے ماں اور اچھے والا چھوٹا بیٹا مل کر سزا یافتہ بیٹے کے ننھے بیٹے کی ایک مفید شہری کے طور پر پرورش کرتے دکھائے جاتے ہیں۔ اس سین کا فایدہ یہ ہوتا ہے ہے کہ ”سب اچھا“ دیکھنے کے خواہشمند فلم بینوں کا رانجھا بھی راضی ہو جاتا ہے اور گھروں کو لوٹتے ہوئے فلم بین مطمئن بھی ہو جاتے ہیں کہ دیر سے ہی سہی اس پریوار کی زندگی اپنی ڈگر پر لوٹ آئی۔ اب بیوہ کا پوتا بڑا ہو جائے گا، چچا اور دادی کا سہارا بنے گا اور اپنے باپ کے بھٹکنے کا کفارہ بھی ادا کر دے گا۔

خیال کی رو بہک کر کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے۔ میں تو بات جناب ثاقب نثار صاحب اور راؤ انوار کی کر رہا تھا کہ درمیان میں ہندی فلموں کا ذکر آ ٹپکا۔ چلیں چھوڑیں اس موضوع پر پھر کسی روز بات کریں گے۔ بات طول پکڑ گئی شکر ہے ہمارے ہاں ماں کو اپنے چھوٹے بڑے، اور اچھے برے بیٹوں سے اور بیٹوں کو ماں سے ایک جیسا پیار ہے اور وہ تھرڈ کلاس بھارتی فارمولا فلموں کی طرح ایک دوسرے کی زندگی عذاب نہیں بناتے۔ ماں بچوں کی ایک سی پرورش کرتی ہے۔ اور بچے بھی محبت، فرض وغیرہ کی موشگافیوں میں پڑ کر ماں کا دل نہیں دکھاتے، اپنا اپنا کردار نبھا کر پردہ سکرین سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ”ماں“ تو آخر ماں ہے، دو گھڑی سستانے کو بھی دم نہیں لیتی، نئے بچوں کی پرورش کا فرض نبھانے میں جُت جاتی ہے۔

Facebook Comments HS