کچھ ذکر پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ماہر طبعیات ڈاکٹر ریاض الدین کا


ڈاکٹر ریاض الدین اپنے استاد ڈاکٹر عبدالسلام کے ہمراہ

بیسیویں صدی کی ساتویں دہائی پاکستان میں فزکس کے میدان میں کئی خوشگوار تبدیلیاں لے کر آئی۔ اِس کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام کی بین الاقوامی سائنسی حلقوں میں شہرت بھی تھی۔ ایوب حکومت نے 1967 ء میں اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے مطابق اسلام آباد یونی ورسٹی (جسے اب قائد اعظم یونی ورسٹی کہا جاتا ہے ) قائم کی۔ اسلام آباد یونی ورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف فزکس (موجودہ نیشنل سینٹر فار فزکس) کے قیام اور ترقی کے لئے ضروری تھا کہ اِس ادارے کو عالمی افق کے چند بڑے سائنسدانوں کا ساتھ حاصل ہو۔

ڈاکٹر سلام اُن دنوں ایوب حکومت میں سائنسی مشیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ دنیا بھر میں پھیلی اپنی تحقیقی مصروفیات اور ملکی ذمہ داریوں کے باعث سلام خود اِس ادارے کو مناسب وقت نہ دے سکتے تھے۔ لہٰذا ڈاکٹر سلام کی نظرِ انتخاب اپنے دیرینہ طالب علم ریاض الدین پہ آ کے ٹھہری اور ڈاکٹر سلام کی خواہش کے احترام میں ریاض الدین 1968 ء میں اسلام آباد یونی ورسٹی سے منسلک ہو گئے۔ آپ کی تحقیقی کامیابیوں کے اعتراف میں پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے 1968 ء میں آپ کوگولڈ میڈل سے نوازا۔ یہ میڈل تحقیقی میدان میں قابلِ فخر کامیابیاں حاصل کرنے والے چالیس سال سے کم عمر سائنسدانوں کو دیا جاتا ہے۔

ریاض الدین کی جانفشانی اور محنتِ شاقہ کی بدولت یہ ادارہ جلد ہی پاکستان میں صفِ اول کے تحقیقی اداروں میں شامل ہو گیا۔ فزیکل ریویو اور فزیکل ریویو لیٹرز جیسے معتبر تحقیقی جریدوں میں مقالہ جات کی اشاعت معمول کی بات بن گئی۔ نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ سمیت تمام دنیا سے مایہ ناز سائنسدان یہاں آتے اور بدلتے رجحانات سمیت نت نئے موضوعات پہ لیکچرز کا انعقاد کرتے۔ چنانچہ پاکستان میں فزکس کے میدان میں سائنسدانوں کی ایک ایسی نسل تیار ہوئی جس نے عالمی افق پہ گہرے نقوش چھوڑے۔

ریاض الدین نے 1968 ء میں سی پی ریان (C۔ P۔ Ryan) اور رابرٹ مارشک (Robert E۔ Marshak) کی شراکت میں Theory of Weak Interactions in Particle Physics کے نام سے کتاب لکھی۔ دنیا بھر میں ان گنت تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی یہ کتاب آج بھی ذراتی طبیعات میں اپنے موضوع پہ ایک شاہکار کتاب ہے۔ نیشنل سینٹر فار فزکس کو اپنے پیروں پہ کھڑا کرنے کے بعد آپ ایک بار پھر امریکہ تشریف لے گئے اور اِس بار میری لینڈ یونی ورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ تاہم ڈاکٹر سلام کی خواہش پہ آپ نے جلد ہی میری لینڈ یونی ورسٹی کو خیر آباد کہا اور اٹلی میں ڈاکٹر سلام کے قائم کردہ بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعات میں شامل ہو گئے۔ ذراتی طبیعات اور نظری طبیعات میں ریاض الدین کے لکھے گئے تحقیقی مقالہ جات ایک الگ تحریر کے متقاضی ہیں۔

ریاض الدین کا ایک بہت بڑا کام پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ابتدائی اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا تھا، جس پہ آنے والے سائنسدان تشکیل کی دیواریں تعمیر کر سکیں۔ ڈاکٹر سلام کی نظریں اِس معاملے میں بھی ریاض الدین کو اوجِ عظمت پہ متمکن دیکھ رہی تھیں۔ سلام نے 1972 ء میں ریاض الدین کو اٹلی میں واقع اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ پاکستان کے لئے ایٹم بم تم بناؤ گے۔ (یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سلام سمیت بیشتر پاکستانی سائنسدان ”ایٹم برائے امن“ کے مقولے پہ تمام عمر سختی سے کاربند رہے۔ تاہم سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سلام سمیت بیشتر پاکستانی سائنسدان اور بھٹو حکومت اِس بات کو شدت سے محسوس کر چکے تھے کہ ایٹم بم کا قیام ہی خطے میں امن اور بقاء کی ضمانت ہے۔) ریاض الدین نے امریکہ میں اپنے تعلقات کی بنیاد پہ مین ہٹن پراجیکٹ کے سلسلے میں کیا گیا ابتدائی کام اور مقالہ جات حاصل کیے اور پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔

آخری عمر میں آپ کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا تھا مگر سرطان بھی فزکس کے لئے آپ کے جوش خروش میں کمی نہیں لا سکا۔ آپ نے اپنا آخری مقالہ اپنی وفات سے صرف انتیس دن پہلے 20 اگست 2013 ء کو شائع کروایا۔ سابقوں، لاحقوں، مراعات، عہدوں اور لقب القاب سے ساری عمر دور رہنے والے، وطنِ عزیز میں طبیعات کی خدمت میں مصروف اِس عظیم سپوت نے 9 ستمبر 2013 ء کو آخری سانس لی اور اپنی جانِ مالکِ لم یزل کے سپرد کی۔

ایک بڑا سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ ریاض الدین کی ایک بڑی خوبی آپ کی عاجزی اور نرم دلی بھی تھی۔ یہی وجہ تھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے آپ کے رفقاء سائنسدان پاکستان میں فزکس کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں آپ کے ایک اشارے پہ آ موجود ہوتے تھے اور اِس سلسلے میں کسی قسم کی تخصیص روا نہ رکھتے تھے۔ آپ نے ساری عمر دنیا کے صفِ اول کے تحقیقی اداروں میں کام کیا، دنیا کی عظیم درسگاہوں میں تدریس سے منسلک رہے، اپنے وقت کے مایہ ناز سائنسدانوں سے دوستانہ تعلقات قائم کیے ، کئی ملکی و غیر ملکی اعزازات حاصل کیے مگر یہ عارضی چمک دمک اُن کے عجز کو کم نہ کر سکی۔ ہر نیا اعزاز آپ کی عاجزی کو مزید مستحکم کر جاتا۔ آپ سونا تھے مگر ڈاکٹر سلام کی شاگردی اور تربیت نے آپ کو کندن بنا دیا۔

یہ ریاض الدین کا ہی وصفِ خاص تھا کہ آپ کوئلے کو بھی کندن بنا دیتے تھے۔ آپ نے اپنے ہم عصر سائنسدانوں کے ساتھ مل کے پاکستان میں سائنسدانوں کی اُس نسل کی پرورش اور تربیت کی، جس نے مقدار کی بجائے میعار کو ترجیح دی۔ آپ سیارگانِ شب کے سفیر نہیں تھے کہ جن کا کام روشنی لینا ہے، آپ تو شفق تاب ستاروں کے اُس گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے ساری عمر روشنی بانٹی۔ آپ کی بزرگانہ عظمت پہ دلیل ہے کہ آپ ذراتی اور نظری فزکس کے اوجِ کمال تک پہنچے مگر آپ نے کبھی طلباء میں کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2