اردو کمپیوٹنگ: ماضی و مستقبل کے بدلتے تقاضے اور ہماری ترجیحات

اردو کمپیوٹنگ سے مراد سائنس و ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ اردو زبان کی ترویج و ترقی، زبان کو ہم آہنگ کرنا اور مزید برآں ان کا اردو زبان میں ہونے والی تعلیم و تحقیق میں استعمال ہے۔ اس مضمون میں میری کوشش ہو گی کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے رجحانات کے مستقبل قریب و بعید میں زبانوں پر اثرات کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ اب تک ہم اردو کمپیوٹنگ کے سلسلے میں کیا کچھ کر چکے ہیں، کن موضوعات پہ کام ہو رہا ہے اور مستقبل میں کن چیزوں پہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اردو کمپیوٹنگ کی ابتداء اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں ہی ہو گئی تھی جب مائیکروسافٹ نے ونڈوز 2000 اور ایکس پی میں اردو کی سہولت مہیا کی۔ اس دور کی چند بڑی کامیابیوں میں بی بی سی کی یونیکوڈ اردو ویب سائٹ، ان پیج کا تجارتی مقاصد پہ بڑھنے والا استعمال اور انفرادی طور پہ موجود اردو بلاگز تھے۔ لیکن ان تمام کوششوں کی سمت 2005 ء میں اردو ویب کے قیام کے ساتھ متعین ہوئی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود اردو میں ہونے والا کام اس قبیلے کی دیگر زبانوں (فارسی و عربی وغیرہ) کی نسبت کافی سست روی کا شکار تھا، جس میں ایک بڑی مشکل یونیکوڈڈ فونٹس کی تکمیل و تشکیل تھی۔

Read more

حلقہ ارباب ذوق ساہیوال، اردو کا مستقبل اور اکیسویں صدی

جولائی کا مہینہ میرے لئے کئی برسوں سے اہم رہا ہے کہ اسی مہینے میں ”اردو محفل“ اپنی سالگرہ مناتی ہے۔ اس برس اس میں ایک اور اضافہ ہو گیا کہ آج بروز اکیس جولائی ”حلقہ ارباب ذوق ساہیوال“ اپنی پہلی سالگرہ منا رہا ہے۔ سن 2019 ء کے یہی شب و روز تھے۔ کام و دہن کی مصروفیات بھی ساتھ ساتھ تھیں اور ادب سے لگاؤ بھی ایک ٹک چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ ساہیوال کی ادبی فضا

Read more

کچھ ذکر پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ماہر طبعیات ڈاکٹر ریاض الدین کا

اکتوبر 1947ء میں لدھیانہ کے ایک متوسط خاندان نے پاکستان کو ہجرت کی۔ اِس خاندان کی میزبانی کا شرف لاہور کو حاصل ہوا۔ اِس خاندان میں دو جڑواں بھائی، ریاض الدین اور فیاض الدین، بھی شامل تھے۔ ہجرت سے قبل دونوں بھائیوں کو انجمنِ اسلامیہ کی زیرِ نگرانی چلنے والے اسکول میں داخل کروایا گیا۔ ہجرت کے وقت دونوں کی عمریں بمشکل سترہ برس تھیں۔ جہاں ایک جانب دوسرے ہجرتی ابھی تک تقسیم کے سحر سے باہر نہ نکل پائے

Read more

نئی حکومت اور سائنسی شعور

”اور اُس (قادرِ مطلق رب الارباب نے) آسمانوں کی بلندیوں اور زمین کی وسعتوں میں واقع پوری کائنات کو اپنے فضلِ بے نہایت سے تمہارے لئے مسخر کر دیا۔ یقیناً اس میں فکری صلاحیتیں رکھنے والی قوم کے لئے حصولِ ترقی کی نشانیاں (راہیں) ہیں۔ ‘‘ (الجاثیہ 45:13) اور اسی مقصد کی تحقیق کا ایک نام سائنس ہے۔ خالقِ لم یزل نے انسان کو اشرف المخلوقات کے رتبے پہ فائز کیا اور اُسے عقل عطا کی تاکہ وہ سوچے، سمجھے،

Read more